دس ہزار پناہ گزینوں کا پہلا گروپ بالاخر جرمنی پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہنگری نے کئی دنوں تک مغربی یورپ کے لیے عازمِ سفر تارکینِ وطن کو ٹرین کے سفر سے روکا ہوا تھا

مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے دس ہزار پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن پر مشتمل پہلا گروپ ایک مشکل اور دشوار گزار سفر طے کرنے کے بعد ہنگری اور آسٹریا کے راستے جرمنی پہنچا ہے۔

اس پہلے گروپ میں سے 450 مہاجرین سنیچر کو ٹرین کے ذریعے میونخ پہنچے جہاں جرمن عوام نے ان کا تالیاں بجا کر استقبال کیا اور انھیں مٹھائی کھلائی۔

ہزاروں پناہ گزین اپنی ’منزل‘ پر پہنچ گئے: تصاویر

خانہ جنگی اور تشدد سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ان تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک ان کی کثیر تعداد کے پیش نظر کسی حل تک پہنچنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

تاہم جرمنی نے ان افراد کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہاں رواں سال آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔

جرمن چانسلر آنگیلا مرکل نے کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد سے عوام پر نہ تو ٹیکس بڑھائے جائیں گے اور نہ ہی ملک کا بجٹ متاثر ہوگا۔

ہنگری میں کئی دن سے موجود پناہ گزین اور تارکینِ وطن وہاں خود کو پناہ کے لیے رجسٹر کروانے سے انکاری تھے جس کے بعد مغربی یورپ کے لیے عازمِ سفر ان افراد کو حکام نے ٹرین کے سفر سے روکا ہوا تھا۔

اس تعطل کی وجہ سے مشتعل افراد نے مظاہرے بھی کیے تھے اور اکثر آسٹریا کی سرحد کی جانب 175 کلومیٹر کے سفر پر پیدل روانہ ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تارکین وطن کو یہ امید نہیں تھی کہ انھیں آسٹریا کی سرحد تک جانے کے لیے بسیں فراہم کی جائیں گی

تاہم پھر ہنگری کے حکام نے جمعے کی شب انھیں بسیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں یہ لوگ آسٹریا کی سرحد اور پھر وہاں سے دارالحکومت ویانا پہنچے جہاں سے اکثریت مغربی جرمنی کے شہر میونخ کے لیے روانہ ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق جمعے کو دیر گئے کئی دنوں سے تارکینِ وطن کا عارضی کیمپ بنے ہوئے مرکزی بوڈاپیسٹ کے کیلیٹی سٹیشن پر بسوں کی آمد شروع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ آسٹریا جانے والی شاہراہ کے لیے بھی بسیں روانہ کی گئیں۔

پناہ گزینوں کے ہمراہ سفر کرنے والے بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن میں اس بات کا خوف زیادہ تھا کہ انھیں جرمنی بھیجنے کی بجائے گرفتار کر لیا جائے گا اور انھیں قطعی یقین نہیں تھا کہ انھیں سرحد تک بھیجنے کے لیے بسیں فراہم کی جائیں گي۔

ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے بسیں اس لیے روانہ کی ہیں تاکہ ملک میں نقل و حمل کا نیٹ ورک مفلوج نہ ہو تاہم ملک کی پولیس کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بسیں دینے کا فیصلہ صرف ایک بار کا تھا اور اب پناہ گزینوں کو اس طرح کی کوئی مدد نہیں ملےگیۓ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یورپی یونین کے رکن ممالک تارکینِ وطن کی کثیر تعداد کے پیش نظر کسی حل تک پہنچنے سے قاصر ہیں

بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل نے سنیچر کی صبح 30 افراد پر مشتمل تارکینِ وطن کے ایک گروپ کو آسٹریا اور ہنگری کے درمیان سرحد کو عبور کرتے ہوئے دیکھا اور سنیچر کی شام تک سرحد پار کر کے آسٹریا پہنچنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔

آسٹریا نے کہا ہے کہ وہ سرحد پار کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں کرے گا۔

آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے کہا کہ جرمنی کی ہم منصب انگیلا میرکل سے گفتگو کے بعد دونوں ممالک نے ہنگری کی سرحد پر ہنگامی حالات کے پیش نظر تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہنگری کو یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزینوں کے کوٹے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ جمہوریہ چیک، پولینڈ اور سلوواکیا کے ساتھ ہنگری نے یورپی یونین کی جانب سے تمام ممالک کے لیے پناہ گزینوں کے لیے مختص کوٹے کو مسترد کر دیا ہے۔

ہنگری ان ممالک میں سے ہے جن کا خیال ہے کہ پناہ گزینوں کو رکھنے کے مستقل نظام کی وجہ سے مزید افراد یورپ پہنچنے کے لیے اپنا جان خطرے میں ڈالیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بہت سے تارکینِ وطن کی منزل جرمنی کیونکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے یہاں رواں سال آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد کی توقع ہے

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں جاری جنگ اور ظلم و جبر سے تنگ آکر شمال اور مغربی یورپ کے لیے عازم سفر تارکینِ وطن کے لیے ہنگری ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر سامنے آيا ہے۔

گذشتہ روز ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے خبردار کیا تھا کہ یورپ آنے والے بڑی تعداد میں مسلمان پناہ گزینوں سے یورپی بر اعظم کی عیسائی بنیادوں کو خطرہ ہے۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک بیان میں کہا کہ وہ تارکینِ وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔

جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں