جرمنی کا تارکینِ وطن کے لیے چھ ارب یورو کا فنڈ

Image caption جرمنی کی حکومت کہنا ہے کہ جرمنی میں رواں برس آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے

جرمنی کی اتحادی حکومت نے تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چھ ارب یورو پر مشتمل فنڈز جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل تارکینِ وطن کے لیے ملکی سرحدوں کو کھولنے کے فیصلے پر تنقید کی زد میں ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی، آسٹریا اور ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے لیے موجود قوانین کو نرم کرنے کے معاہدے کے بعد گذشتہ ہفتے کے اختتام پر 18 ہزار افراد نے جرمنی کی سرحد عبور کی۔

تاہم آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمن نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں کیے جانے والے ان اقدامات کو ختم کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک مرحلہ وار بنیادوں پر معمول کی صورت حال پر لوٹے گا۔

خیال رہے کہ ہنگری نے پناہ گزینوں کے مغربی یورپ میں داخلے کو بند کر رکھا تھا تاہم گذشتہ جمعے کو یہ پابندی ہٹا دی گئی۔

جرمن چانسلر نے اتحادی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد اضافی فنڈز کا اعلان کیا۔

جرمنی حکومت تین ارب یورو وفاقی ریاستوں اور مقامی کونسلوں کو دے گی۔ جبکہ باقی مزید تین ارب یورو وفاقی سطح پر ہونے والے پروگراموں کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاپائے روم پوپ فرانسس نے یورپ میں رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں سے کہا ہے کہ ہر گرجا، ہر مذہبی برادری اور یورپ میں ہر کسی پناہ گاہ کو چاہیے کہ وہ ایک خاندان کو رکھے

ان منصوبوں میں تارکینِ وطن کو جگہ دینے کے لیے قائم مراکز میں اضافہ، موسمِ سرما کے لیے انتظامات، تارکینِ وطن کے لیے نقد رقم وغیرہ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جرمنی کو توقع ہے کہ رواں برس وہاں آنے والے کل مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ ہو گی جس کے باعث وہ یورپ کے دیگر ممالک سے مدد چاہتا ہے۔

انگیلا میرکل کو تارکینِ وطن کا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے مگر ان پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہنگری سے تارکینِ وطن کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینا مکمل طور پر غلط علامت ہے۔

ادھر جرمن وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ غیر معمولی فیصلہ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔

اتوار کو جرمنی اور آسٹریا سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکنوں کا ایک گروہ ہنگری کی سرحد پر موجود تارکینِ وطن کو لانے کے لیے پہنچا۔

خیال رہے کہ پناہ کی تلاش میں آنے والے افراد میں سب سے زیادہ تعداد شامی باشندوں کی ہے۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ پر مزید تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ہے۔

ٹونی ایبٹ نے کہا کہ مزید شامی پناہ گزینوں کو ملک میں آنے دیا جائے گا لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنے لوگ ہوں گے۔

تاہم ان کی اپنی جماعت کے اراکین نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کے متعلق مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

نائب وزیرِ خزانہ جوش فریڈنبرگ نے سوموار کو شام اور عراق سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کے لیے عارضی رہائش گاہوں کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوسوو کی طرح کے حل کی ضرورت ہے جس میں آسٹریلیا پہلے شام اور عراق کے پناہ گزینوں کو اپنے پاس رکھے اور بعد میں جب ان کے ملک محفوظ ہو جائیں تو انھیں واپس بھیج دے۔

ادھر برطانوی وزیراعظم کی جانب سے تارکینِ وطن کے لیے ایک منصوبے کا اعلان متوقع ہے۔

اسی بارے میں