’مستقبل میں بھی شام میں ڈرون حملے کیے جا سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شام میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو سب کے سب برطانوی نہیں ہیں لیکن جو برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں

برطانوی وزیر دفاع مائیکل فلون نے کہا ہے کہ برطانیہ شام میں دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مستقبل میں بھی خفیہ ڈرون حملے کرنے میں ہچکچھاہٹ سے کام نہیں لےگا۔

انھوں نے کہا کہ برطانوی شاہی فضائیہ کا حملہ جس میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے نام نہاد شدت پسند تنظم دولت اسلامیہ کے ارکان ہلاک ہوئے وہ قانوی لحاظ سے مکمل طور پر ذاتی دفاع میں کیا جانے والا عمل تھا۔

انھوں نے کہا کہ اور بھی شدت پسند ہیں جو مختلف دہشت گردی کے منصوبوں میں ملوث ہیں جن پر آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں عمل کیا جا سکتا ہے۔

برطانوی پارلمان کے ارکان نے دو سال قبل شام میں فوجی کارروائی کرنے کی مخالفت کی تھی اور اب وزراء کو شام میں کیے گئے ڈرون حملے پر سوالات کا سامنا ہے۔

اس فوجی کارروائی کی مخالفت کرنے والے اس کا ثبوت یہ دیتے ہیں کہ پاکستان اور یمن میں امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے ڈرون حملوں میں اب تک سیکڑوں کی تعداد میں معصوم عام شہری مارے جا چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایسے ممالک میں مغرب کے لیے مزید نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سوموار کو ارکان پارلیمان کو بتایا کہ کارڈف شہر کا رہائشی21 سالہ ریاض خان رقہ میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں مار گیا۔

ظالمانہ حملہ:

تصویر کے کاپی رائٹ MINISTRY OF DEFENCE
Image caption حکومت نے ڈرون حملہ کرنے کے فیصلے کا جواز اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل آرٹیکل اکاون کا بنایا ہے

یہ ڈرون حملہ کسی برطانوی شہری کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کا پہلا واقع تھا۔ اس حملے میں ابرڈین شہر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ روح الامین دو دیگر افراد میں شامل تھا جو اس حملے میں ہلاک ہوئے۔

وزیر دفاع فلون کا کہنا تھا کہ خان کو برطانیہ میں عوامی تقریبات کے دوران اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے مذموم ارادوں سے بعض رکھنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

وزیر دفاع نے بی بی سی ریڈیو فور کو ایک انٹرویو میں کہا: ’ہم آئندہ بھی ایسا قدم اٹھانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔‘

وزیر دفاع نے اس بحث میں جائے بغیر کہ کیا برطانیہ نے ایسے عناصر کی کوئی فہرست تیار کر رکھی ہے جن کو نشانہ بنایا جانا ہے ، کہا کہ شام میں ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جو سب کے سب برطانوی نہیں ہیں لیکن جو برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ڈرون حملہ کرنے سے پہلے اٹارنی جنرل سے رجوع کیا گیا تھا اور انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ یہ حملے کرنے کا ٹھوس قانونی جواز موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈرون حملہ کرنے کی منظوری نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعلیٰ ترین ارکان کے اجلاس میں دی گئی تھی اور اس کی اجازت وزیر دفاع سے بھی حاصل کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ڈرون حملہ کرنے سے پہلے اٹارنی جنرل سے رجوع کیا گیا تھا

وزیر اعظم کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ حملہ کرنے کا فیصلہ کئی ماہ قبل کیا گیا تھا۔

حزب اختلاف لیبر پارٹی کے سوالات

اس حملے کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور لیبر پارٹی کے قائم مقام صدر ہیریٹ ہرمن اور سکاٹش نیشنل پارٹی کے رہنما انگس رابرٹسن نے مطالبہ کیا ہے کہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی کمیٹی اس حملے کی تحقیقات کرے۔

پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی انٹلی جنس حکام کو طلب کر کے ان کو ثبوت پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے لیکن انتخابات کے بعد سے اب تک یہ کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکی ہے۔

حکومت سے یہ مطالبہ بھی کی جا رہا ہے کہ اس حملے کا فیصلہ کرنے سے متعلق مزید خفیہ معلومات کو عام کیا جائے۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ برطانوی ادراے جی سی ایچ کیو اور امریکی ادارے این ایس اے کو ایسا مواد ملا ہوا یا اس بارے میں مخبروں کے ذریعے کوئی معلومات موصول ہوئی ہوں۔

حکومت نے ڈرون حملہ کرنے کے فیصلے کا جواز اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل آرٹیکل اکاون کا بنایا ہے، جس کے مطابق اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کو کسی ممکنہ حملے یا حملے کے خطرے کی صورت میں ’سیلف ڈیفنس‘ یا اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسی بارے میں