لاس ویگاس میں برٹش ایئرویز کے طیارے میں آتشزدگی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہوا میں اڑنے سے چند لمحے قبل مسافر طیارے کے بائیں انجن میں آگ بھڑک اُٹھی: ترجمان

امریکہ کے شہر لاس ویگس کے ہوائی اڈے پر برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کے طیارے میں آتشزدگی کے بعد طیارے میں سوار 172 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔

لاس ویگس کے میک کیرن ایئرپورٹ کے حکام نے ٹویٹ کی ہے کہ اس واقعے میں ’دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔‘

امریکہ میں ہوا بازی کے وفاقی ادارے کے ترجمان ایئن گروگر نے کہا کہ ہوا میں اڑنے سے چند لمحے قبل مسافر طیارے کے بائیں انجن میں آگ بھڑک اُٹھی۔

مسافر طیارے کے گرد دھواں اور آگ دیکھی جا سکتی تھی لیکن کچھ ہی دیر بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔

برٹش ایئر ویز کا یہ بوئنگ 777 جہاز لاس ویگس سے لندن جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاس ویگس سے لندن جانے والے طیارے میں 159 مسافر اور عملے کے 13 افراد سوار تھے

جہاز میں 159 مسافر اور عملے کے 13 افراد سوار تھے جنھیں ہنگامی راستوں کی مدد سے جہاز سے نکالا گیا۔

ایئرپورٹ حکام کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پہلی کال مقامی وقت کے مطابق شام 4:13 منٹ پر ملی اور 4:14 منٹ پر انجن میں آگ بھڑک اُٹھی اور اس کے فوری بعد حفاظتی اقدامات کیے گئے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ایئرپورٹ کا ایک رن وے بند کر دیا گیا ہے جبکہ تین رن ویز کے ذریعے پروازوں کی آمدورفت جاری ہے۔

میک کیرن ایئرپورٹ کا شمار امریکہ کے مصروف ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے اور گذشتہ سال یہاں سے چار کروڑ سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا تھا۔

اسی بارے میں