ملکہ الزبتھ دوم نے برطانیہ پر طویل اقتدار کا ریکارڈ توڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 30 منٹ پر ملکہ الزبتھ کے اقتدار کو 63 سال اور پانچ ماہ مکمل ہو جائیں گے

ملکہ الزبتھ دوم نے برطانیہ پر طویل ترین حکمرانی کا ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اندرون و بیرونِ ملک سے اپنے چاہنے والوں کے پیغامات پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

89 سالہ ملکہ برطانیہ نے سکاٹ لینڈ کی سرحد پر خطاب میں کہا کہ یہ وہ اعزاز ہے جس کے حصول کی آرزو انھوں نے کبھی نہیں کی تھی۔

اس سے قبل یہ اعزاز سابقہ ملکہ وکٹوریہ کے پاس تھا۔

برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 30 منٹ پر ملکہ الزبتھ کے اقتدار کو 63 سال اور پانچ ماہ مکمل ہو جائیں گے۔ یہ 23 ہزار 226 دن، 16 گھنٹے اور تقریباً 30 منٹ کا دورانیہ ہے۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ملکہ برطانیہ کی خدمات کو حقیقی معنوں میں ’عاجز کر دینے والی‘ قرار دیا۔

سبز رنگ کے کپڑوں میں ملبوس اور سیاہ رنگ کا بیگ اٹھائے ہوئے ملکہ نے اپنے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں سے مختصر خطاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فطری طور پر طویل زندگی میں بہت سے سنگِ میل آتے ہیں۔ میری زندگی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہی، مگر میں آپ سب کا اور بہت سے دوسروں کا جو ملک میں موجود ہیں اور بیرونِ ملک ہیں، ان کے محبت بھرے پیغامات پر شکریہ ادا کرتی ہوں۔‘

آج کے دن کے اہم پروگرام

ملکہ الزبتھ اور شہزادہ فلپ بذریعہ ریل ایڈنبرا سے ٹویڈ بینک پہنچے۔ سفر میں ان کے ہمراہ سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجیون بھی وہاں موجود تھے۔

ایچ ایم ایس بیلفاسٹ میں چار توپوں کے ذریعے سلامی دی گئی۔

ٹویڈ بینک پر آمد کے بعد ملکہ نے سکاٹ لینڈ کی سرحد پر 20 کروڑ 94 لاکھ پاؤنڈ مالیت سے بننے والے ریلوے سٹیشن کا افتتاح کیا۔

یہ معلوم نہیں کہ ملکہ کی طویل ترین حکمرانی کا اصل لمحہ کون سا ہے کیونکہ ان کے والد جارج ششم کا انتقال چھ فروری 1952 کی صبح ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آج ملکہ کے اقتدار کے 23 ہزار 226 دن مکمل ہوجائیں گے، عوام کی جانب سے انھیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے

ملکہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے دارالعوام میں امور کو آدھے گھنٹے کے لیے معطل کیا گیا تاکہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور اراکینِ پارلیمنٹ ملکہ کو خراجِ تحسین پیش کریں۔

وزیراعظم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے غیر معمولی ریکارڈ کا جشن منائیں، اس کے علاوہ اس وقار اور عظمت کا بھی جس کے ساتھ انھوں نے ہمارے ملک کی خدمت کی۔‘

ملکہ اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ وہ شوروغل نہیں چاہتیں۔ یہ واضح طور پر برا نظر آتا ہے کہ سابقہ ملکہ کے طویل اقتدار کا ریکارڈ توڑنے پر موجودہ ملکہ جشن منائیں۔

شاید وہ زیادہ ہنگامہ نہ چاہتی ہوں لیکن بہت سے برطانوی شہری سمجھتے ہیں کہ انھیں اس ریکارڈ کو توڑے جانے کو تسلیم کیے جانے کا حق ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Buckingham palace
Image caption نجی ملاقاتوں کے لیے ملکہ کا کمرا

دوسری جانب بکنگھم پیلس کی جانب سے ایک سرکاری تصویر بھی جاری کی گئی ہے، جسے ملکہ کے نجی ملاقاتوں کے کمرے میں میری میکارٹنے نے کھینچا ہے۔

یہ وہ کمرا ہے جہاں ملکہ ہر ہفتے وزیراعظم سے ملاقات کرتی ہیں اور مختلف ریاستوں اور حکومتوں کے سربراہان ان سے ملتے ہیں۔

اس وقت ملکہ سکاٹ لینڈ میں اپنے نجی گھر میں گرمیوں کی چھیٹاں گزار رہی ہیں۔

جدید دور کی ملکہ

ملکہ وکٹوریہ نے 18 جبکہ الزبتھ دوم نے 25 برس کی عمر میں ملکہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔

ملکہ اسی بگھی پر بیٹھ کر پارلیمنٹ کی سالانہ تقریب کا افتتاح کرنے جاتی ہیں جو ملکہ وکٹوریہ کے زیرِ استعمال تھی۔

بالمور میں موجود نجی گھر ملکہ الزبتھ کی پسندیدہ گھر ہے جسے سابقہ ملکہ وکٹوریہ نے خریدا تھا۔

وکٹوریہ نے 40 کروڑ عوام پر مشتمل سلطنت پر حکمرانی کی، جبکہ الزبتھ دس کروڑ 38 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ریاست کی سربراہ ہیں۔

ملکہ الزبتھ کے دورِ اقتدار میں 12 وزرائے اعظم گزرے جب کہ سابقہ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں یہ تعداد دس تھی۔

انہی میں سے کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک وزیراعظم سر جان میجر نے اس تجویز کو مسترد کیا کہ ملکہ بطور سربراہ بہت غیر متحرک رہی ہیں۔

’بادشاہت معروف نہ ہوتی اگر وہ سیاست کا حصہ ہوتی وہ اس سے بالاتر ہیں۔‘

لیکن جب ملکہ اپنے وزیراعظم سے ملتی ہیں تو ان کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ ان سے رہنمائی کے لیے سوال کر سکیں۔ کوئی نہیں جانتا اور وزیراعظم آپ کو نہیں بتائیں گے کہ ان ملاقاتوں میں کیا ہوتا ہے۔

حقیقی طور پر غیر معمولی

ملکہ دولتِ مشترکہ کی سربراہ ہیں، جس میں برطانیہ کے علاوہ 15 ملک شامل ہیں۔

تنظیم کے سیکریٹری جنرل کمالیش شرما نے انھیں مبارکباد دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملکہ غیر معمولی تبدیلی کے عشروں کے دوران تسلسل کی علامت ہیں اور انھوں نے لوگوں کو مجتمع کیا ہے اور دولتِ مشترکہ کے لیے بہترین کام کیا ہے۔

بادشاہت کے خلاف رپبلک تنظیم کا کہنا ہے کہ ملکہ کا طویل اقتدار جشن منانے کی نہیں بلکہ اصلاحات کی وجہ ہونی چاہیے۔

تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو گریم سمتھ کہتے ہیں کہ ’ملک کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ مستقبل کو دیکھتے ہوئے شفاف انتخابات کے ذریعے پیش رو کا انتخاب کرے، کوئی ایسا شخص جو حقیقی طور پر قوم کی ترجمانی کر سکے۔‘