ٹرین سروس بحال، تارکین وطن کے معاملے پر یورپی کمیشن میں اپیل کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام نے جرمنی کی سرحد پر پناہ گزینوں کو روکا ہے

پناہ کے لیے یورپ کا رخ کرنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم نہ ہونے کے بعد یورپی یونین میں شامل ممالک پناہ گزینوں کی تعداد کو تقسیم کرنے کے مسئلے کو یورپی کمیشن کے سامنے پیش کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈنمارک میں تارکین وطن اور پولیس کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ڈنمارک سے جرمنی جانے والی ٹرین سروس بحال کر دی گئی ہے اور تقریبا سو تارکین وطن ڈنمارک میں رجسٹریشن کروانے پر رضامند ہوئے ہیں۔

جرمنی کو تارکینِ وطن کی زیادہ ضرورت کیوں؟

کن تارکینِ وطن کو واپس بھیجا جاتا ہے

اس سے قبل ڈنمارک میں پولیس کی جانب سے سینکڑوں تارکین وطن کو سرحد پر روکے جانے کے بعد اس نے جرمنی سے ریل کے تمام رابطے معطل کرنے کے علاوہ مرکزی موٹروے بھی بند کر دی تھی۔

پولیس نے جرمنی سے ملانے والی مرکزی موٹروے کو اس وقت بند کر دیا جب تارکین وطن نے ٹرین میں سوار ہونے سے روکے جانے پر پیدل سویڈن کی جانب سفر شروع کر دیا۔

ڈنمارک میں پولیس نے روڈبے کے مقام پر دو ٹرینوں میں سوار دو سو پناہ گزینوں کو روکا۔ پولیس کے مطابق پناہ گزینوں نے ٹرینوں سے اترنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ڈنمارک میں اپنی رجسٹریشن نہیں کرانا چاہتے تھے اور سویڈن جانا چاہتے تھے۔

Image caption آسٹریلیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 12,000 شام پناہ گزینوں کو جو حکومتی جبر سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں انھیں اپنے ہاں بسانے کے لیے تیار ہے

گذشتہ روز یورپی کمیشن کے سربراہ ژان کلود یُنکر نے یورپ میں پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جو ان کے بقول اس کے جامع، فوری اور دیرپا حل کو ممکن بنا سکتا ہے۔

اس منصوبے کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار اضافی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں میں کوٹے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں تجویز کیا گیا ہے جب ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین شمالی یورپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان میں اکثریت شام سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کی ہے۔

ینکر نے یورپی پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت خوف زدہ ہونے کا نہیں ہے۔

برطانیہ میں یورپی یونین کے مخالف سیاست دان نائجل فراج نے ینکر کی تقریر میں خلل ڈالا اور ان کے بیان کو بے معنی قرار دے کر مسترد کر دیا۔

Image caption یہ منصوبہ ایک ایسے وقت تجویز کیا گیا ہے جب ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین شمالی یورپ کی طرف بڑھ رہے ہیں

جرمنی، جو ان پناہ گزینوں کی اکثریت کی منزل ہے، کوٹے کے تحت یورپی ملکوں میں پناہ گزینوں کی حمایت کرتا ہے لیکن یورپی یونین کے کچھ ممالک کوٹے کو لازمی طور پر قبول کرنے کی شرط سے متفق نہیں ہیں۔

ہنگری کو خبردار کیا گیا ہے کہ 40 ہزار مزید پناہ گزینوں اس ہفتے کے آخری تک وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ ہنگری ان پناہ گزینوں کے راستے کی اہم گزر گاہ ہے۔

ادھر آسٹریلیا نے، جس پر مزید پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں بسانے کے لیے دباؤ تھا، اعلان کیا ہے کہ وہ شام سے تعلق رکھنے والے مزید تارکینِ وطن کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

آسٹریلیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 12,000 شام پناہ گزینوں کو اپنے ہاں بسانے کے لیے تیار ہے جو حکومتی جبر سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

انسانی وقار

یُنکر کے منصوبے کا اعلان سالانہ ’سٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں کیا گیا جس میں انھوں نے یورپی کمیشن کی ترجیحات بیان کیں۔

انھوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں اس بات کا اعتراف کیا کہ یورپی یونین کی حالت اچھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ’یورپی یونین میں یورپ کی کمی ہے اور اس میں یونین (اتحاد) کا بھی فقدان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انسانیت اور انسانی وقار بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ اس بحران کا حل تلاش کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ یورپ دنیا کی تمام تر مصیبتوں اور پریشانیوں کو اپنے اندر سمو نہیں سکتا، لیکن یورپ کو اس مسئلے کو ایک تناسب میں دیکھنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ پناہ گزین یورپ کی کل آبادی کا صرف 0.11 فیصد ہیں۔ لبنان میں پناہ گزین ملک کی کل آبادی کا 25 فیصد یا ایک چوتھائی ہیں۔

ینکر کی تجاویز

  • یورپی یونین کے رکن ملک ایک لاکھ 20 ہزار اضافی پناہ گزینوں میں سے اپنے حصے کے پناہ گزین قبول کریں جو ان 40 ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ ہوں گے جو اس سال مئی میں طے ہونے والی تعداد کے علاوہ ہیں، گو کہ اس وقت یورپی حکومتوں نے 32 ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا ہامی بھری تھی۔
  • پناہ گزینوں کو تقسیم کرنے کا ایک مستقل نظام جس کے تحت مستقبل میں کسی بحران کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔
  • کمیشن کی طرف سے ایسے محفوظ ملکوں کی نشاندہی جہاں پناہ گزینوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جا سکے۔
  • یورپی یونین کے تمام ملکوں کے لیے مشترکہ پناہ دینے کی پالیسی۔
  • ڈبلن سسٹم پر نظر ثانی جس کے تحت پناہ گزین صرف اسی ملک میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں جہاں وہ پہنچتے ہیں۔
  • یورپی یونین کے رکن ملکوں کی سرحدوں کی بہتر نگرانی اور پناہ حاصل کرنے کے نظام میں بہتری۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزینوں کو اپنے ہاں جگہ دینی ہو گی۔ انھوں نے ارکان پارلیمان سے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ہر رکن ملک اس میں شامل ہو گا اور اس وقت تقریروں کی نہیں عملی اقدامت کی ضرورت ہے۔

ان تجاویز پر برسلز میں 14 ستمبر کو یورپی وزرائے داخلہ کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

نئے منصوبے کے تحت اس وقت 60 فیصد پناہ گزین جو اٹلی، یونان، ہنگری میں موجود ہیں انھیں جرمنی، فرانس اور سپین میں بسایا جائے گا۔

ان ملکوں میں آباد کیے جانے والے تارکین وطن کی تعداد کا تعین مہمان ملک کی کل قومی پیداوار، آبادی اور بے روزگاری کی شرح اور پناہ کے لیے زیر غور درخواستوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

جو ملک پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانے پر تیار نہیں ہوں گے ان پر ممکنہ طور پر مالی جرمانے بھی عائد کیے جا سکیں گے۔

منگل کو پولینڈ نے اپنے رویے میں نرمی لاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مزید دو ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر تیار ہے۔

جرمنی شامی مہاجرین کو خوشی خوشی قبول کرنے پر تیار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ 8 لاکھ پناہ گزینوں کو اس سال قبول کرنے پر تیار ہے۔ اس کے باوجود ممکن ہے کہ بہت سے تارکین وطن کو پناہ نہ ملے اور ان کو واپس جانا پڑے۔

اسی بارے میں