یورپی یونین کن ’تارکین وطن‘ کو واپس بھیجتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی یونین کو 28 رکن ارکان کے درمیان پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں معاونت کی مشکلات درپیش ہیں

کئی ماہ سے یورپی عوام یونان، اٹلی اور وسطی یورپ میں تارکینِ وطن کے غیرمنظم داخلے کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔

یورپی یونین کو 28 ارکان کے درمیان پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی میں معاونت حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

لیکن یہ ایک نازک مسئلہ ہے، جس سے ان ممالک کی خودمختاری اور ان ممالک سے تعلق رکھنے والے آباد شہریوں کے ساتھ تعلقات شامل ہیں، جیسا کہ برطانیہ میں افغان یا فرانس میں الجزائری۔

برطانیہ، آئرلینڈ اور ڈنمارک یورپی یونین کی پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی کا حصہ نہیں بنے اور اس حوالے سے اپنے اصول و ضوابط پر قائم ہیں۔

اب مرکز نگاہ ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزینوں کی یورپی یونین میں تقسیم کے لائحہ عمل پر ہے تاہم اس بارے میں ان ممالک میں بحث جاری ہے۔

بہت سارے افراد کو پناہ گزین کا درجہ مل جائے گا، خاص طور پر جو شام، افغانستان اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے آئے ہیں۔ پناہ گزین سے مراد کوئی ایسا فرد ہے جو جنگ یا استحصال کا شکار ہو، اسے بین الاقوامی تحفظ کا حق حاصل ہے۔

لیکن پناہ حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد یورپی یونین نے کتنے افراد کو واپس بھیجا ہے؟ کیا یورپی یونین میں پناہ سے متعلق کوئی حاصل طریقہ کار ہے؟

شناخت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افریقہ کے زیرِ صحارا خطے اور مغربی بلقان سے یورپی یونین میں داخل ہونے والے بہت سے تارکین وطن پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں

سنہ 2015 میں یورپ کا رخ اختیار کرنے والے تارکین وطن میں سب سے بڑی تعداد شام سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، اس کے بعد افغان اور پھر اریٹریا، نائجیریا اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔

ان تمام ممالک میں جنگ اور انسانی حقوق کی پامالی کی صورت حال ہے، چنانچہ ان میں سے بیشتر افراد کو پناہ گزین قرار دیا جائے گا۔

تاہم ہر کیس مختلف ہے۔ کچھ افراد کو اپنے آپ کو پناہ گزین ثابت کرنے کے لیے زیادہ جدوجہد کرنا ہوگی۔

بہت سارے افراد کے پاس پاسپورٹ یا دیگر شناختی کارڈ دستیاب نہیں، انھوں نے بحیرۂ روم اور بلقان کا پرخطر راستہ اختیار کیا اور مجرمانہ گروہوں کی جانب سے استحصال اور تشدد کا نشانہ بھی بنے۔

کسی ملک کی شہریت ثابت کرنا ایک لمبا عمل ہو سکتا ہے۔ اور ان فیصلوں سے ان ممالک کے درمیان تنازع ہوتا ہے جنھیں تارکین وطن واپس لینے کا کہا جاتا ہے۔

افریقہ کے صحارا کے زیریں خطے اور مغربی بلقان سے یورپی یونین میں داخل ہونے والے بہت سارے تارکین وطن پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، کیونکہ انھیں معاشی تارکینِ وطن سمجھا جاتا ہے۔

غیرمستقل تارکین وطن کے لیے ایک ترغیب یہ ہے کہ نصف سے بھی کم ناکام پناہ گزینوں کو دراصل ملک بدر کیا جاتا ہے۔

یورپی کمیشن نے مہاجرین سے متعلق یورپی ایجنڈے میں کہا ہے کہ سنہ 2014 میں یورپی یونین نے پناہ کی درخواستیں رد ہونے کے بعد صرف 39 فیصد افراد کو واپس بھیجا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ و جرائم میں گھرا لیبیا یورپی یونین کے لیے مسئلہ ہے، کیونکہ تارکین وطن کی بڑی تعداد اسی راستے سے یورپ داخل ہورہی ہے

اس میں دوسری رکاوٹ غیر یورپی یونین ممالک کے ساتھ تارکین وطن کی واپسی کے معاہدے خاصے دشوار ہیں۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوبارہ داخلے سے متعلق بہت سے معاہدے طے پائے گئے ہیں، لیکن یورپی یونین کا چین یا الجزائر کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

اور زیرِ صحارا افریقی ممالک کے ساتھ ’کوٹونو‘ معاہدے کے باوجود ان ممالک سے بڑی تعداد میں معاشی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ نہیں رک سکا۔ یورپی کمیشن تسلیم کرتا ہے کہ یورپی یونین کو تارکین وطن کو افریقہ واپس بھیجنے کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔

یورپی یونین کے سرحدی ادارے فرونٹیکس کے اختیارات بڑھانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ تارکین وطن کو ان کے ممالک واپس بھیجنے میں مدد کر سکیں۔

لیکن جنگ و جرائم میں گھرا لیبیا یورپی یونین کے لیے مسئلہ ہے، کیونکہ تارکین وطن کی بڑی تعداد اسی راستے سے یورپ داخل ہو رہی ہے۔

دنیا بھر کے ممالک اقوام متحدہ کے قانون ’نان روفاؤلمنٹ‘ پر عمل پیرا ہونے کے پابند ہیں، جس کے مطابق لوگوں کو ایسے علاقوں میں واپس نہیں بھیجا جائے گا جہاں انھیں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

یونان کو ایسی قانون کی پاسداری نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جرمنی آمد

سنہ 2014 میں جرمنی میں پناہ کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دی گئیں، جن کی تعداد تقریباً 173,100 سے زائد تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کے مطابق یہ تعداد امریکہ میں121,200 درخواستوں سے بھی زیادہ تھی۔

اس سال جرمنی میں غیر یورپی ممالک کے آٹھ لاکھ تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2015 میں یورپ کا رخ اختیار کرنے والے تارکین وطن میں سب سے بڑی تعداد شام سے تعلق رکھنے والوں کی ہے

اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ترکی (87,800) ہے، پھر سویڈن (75,100)۔ برطانیہ کو 31,300 نئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ فی الوقت برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش مندوں میں اریٹریا، پاکستان اور شام سے تعلق رکھنے والے افراد سرفہرست ہیں۔

پناہ کی کامیاب درخواست کا مطلب ہے کہ انتظامیہ نے انھیں پناہ گزین کا درجہ دے رکھا ہے، جس میں انھیں مکمل تحفظ، قیام کی اجازت، ملازمت اور بالآخر شہریت حاصل ہو سکے گی۔

تاہم پناہ حاصل کرنے کے خواہشمند ذیلی طور پر حفاظتی درجہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ درخواست گزار کو سنہ 1951 کے ریفیوجی کنونشن کے تحت پناہ گزین کا درجہ نہیں مل سکتا لیکن پھر بھی اسے بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔ برطانیہ اس کے لیے ’انسانی تحفظ‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

یورپی یونین کے اعداد و شمار پناہ گزینوں کے حوالے سے خاصا تنوع ظاہر کرتے ہیں۔

جرمنی میں سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں دی گئیں، تاہم بیشتر تارکین کو واپس بھی نہیں بھیجا گیا۔

برطانیہ نے سب سے زیادہ لوگوں کو ملک بدر کیا

یوروسٹیٹ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں غیر یورپی یونین سے تارکین کو واپس بھیجنے کے حوالے سے برطانیہ سرفہرست ہے، جس سے یورپی یونین کے کل 192,445 میں سے 48,890 افراد کو واپس بھیجا۔ تاہم گذشتہ برس برطانیہ نے 65,365 افراد کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سال جرمنی میں غیر یورپی ممالک کے آٹھ لاکھ تارکین وطن کی آمد متوقع ہے

اس کے بعد یونان (73,670 کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا جن میں سے27,055 واپس گئے) اور جرمنی (کل 34,255 میں سے21,895نے ملک چھوڑا) آتے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر فرانس میں86,955 افراد کو واپس جانے کا حکم دیا گیا لیکن محض 19,525 افراد واپس گئے۔

یورپی یونین ممالک سے ملک بدر کیے گئے تمام افراد کی تعداد وہاں موجود غیر قانونی طور پر یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد کا ایک تہائی حصے سے بھی کم ہے، جن کی تعداد 625,565 ہے۔

مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ماہر سوسان فراٹزکے کہتی ہیں کہ برطانیہ کے مخصوص ممالک کے ساتھ طویل تعلقات ہیں، جیسا کہ پاکستان، جس سے انھیں ناکام پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے میں آسانی ہوتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ واقعی دو طرفہ معاہدے ہیں جو سب سے زیادہ کارآمد ہیں، نہ کہ یورپی یونین کی سطح پر معاہدے۔‘

سپین کا سیوطہ اور میلیلا میں تارکین وطن کو داخل ہونے سے روکنے کے لیے مراکش کے ساتھ اشتراک ہے۔ سپین نے گذشتہ سال بیشتر تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ یورپین مائیگریشن نیٹ ورک کے مطابق یہ تعداد 172,185 یا یورپی یونین میں کل تعداد کو 66 فیصد حصہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یوروسٹیٹ کے رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں غیر یورپی یونین سے تارکین کو واپس بھیجنے کے حوالے سے برطانیہ سرفہرست ہے

محفوظ یا غیرمحفوظ

برطانیہ کی وزارت داخلہ کے واپس بھیجے گئے تارکین وطن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کون سے ممالک کے شہری برطانیہ میں پناہ حاصل کر سکتے ہیں اور کون سے نہیں۔ مثال کے طور پر 5,684 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا جب کہ اس کے بعد صرف 875 افغان شہریوں کو واپس بھیجے گئے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے باعث ملک کے کئی علاقے غیرمحفوظ ہیں۔

برطانیہ نے 2,184 نائجیرین شہریوں اور صرف 49 اریٹرین شہریوں کو واپس بھیجا۔ ’واپس بھیجنے‘ سے مراد یہ نہیں کہ انھیں ان کے آبائی وطن ہی واپس بھیجا گیا۔ اکثر وہ کسی تیسرے ملک بھی چلے جاتے ہیں جہاں وہ پہلے رہ چکے ہوں۔

اریٹریا سے تعلق رکھنے والے افراد کا شمار یورپی یونین میں سب سے زیادہ پناہ حاصل کرنے والوں میں ہوتا ہے، اور عموماً شامی تارکین وطن کی طرح وہ پناہ گزین کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یورپی یونین نے ان دو ممالک کے شہریوں کی آبادکاری کی سرپرستی کی ہے۔

اریٹریا بین الاقوامی پابندی کا شکار ہے، وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور سخت فوجی حکومت کئی برس مزید قائم رہ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ سے پانچ ہزار آٹھ سو 84 پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا

ڈبلن کی تکرار

ایک مزید پیچیدگی یورپی یونین کے ڈبلن ریگولیشن کی ہے، جو اب قابل عمل نہیں ہے کیونکہ جرمنی شامیوں کو دیگر یورپی ممالک نہیں بھیج رہا۔

ڈبلن ریگولیشن کے تحت، یورپی یونین کا وہ رکن ملک جہاں تارک وطن سب سے پہلے آتا ہے، وہیں اس کی درخواست پر عمل ہوگا۔ لیکن اب یہ کام نہیں کر رہا کیونکہ یونان، اٹلی اور ہنگری بڑی تعداد میں آنے والے تارکین وطن سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے۔

یہی ایک اور وجہ ہے کہ تارکین وطن کی بڑی تعداد کو ملک بدر نہیں کیا جا رہا۔

سوسان فراٹزکے کے مطابق ڈبلن ریگولیشن تارکین وطن کے حوالے سے تلخ حقائق کے مطابقت نہیں رکھتا۔ تارکین وطن کی ترجیحات ہوتی ہیں کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں، چاہے یہ توجیحات پناہ کے لیے بنیاد فراہم نہ کریں۔

اور تارکین وطن کے لیے شینگن زون میں یورپ کے ایک ملک سے دوسرے ملک جانا آسان ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’لوگوں پر (ڈبلن) ریگولیشن سے بالاتر ہوکرکچھ کرنے کا دباؤ ہوتا ہے، اگر ان کا کوئی کنبہ نہیں یا وہ وہاں کی زبان نہیں جانتے۔‘

اسی بارے میں