مشرق وسطیٰ کابحران، تارکینِ وطن کا مسئلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

چارسال سے زائد عرصہ سے شام سمیت مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے دیگر ممالک کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔اور دنیا کی بڑی طاقتیں ایک بارپھر اس کا سود مند حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

حالیہ نیا بحران پناہ گزینوں سے متعلق ہے۔ لیکن یورپی یونین نے بہت تاخیر سے یہ بات جانی ہے کہ جنگوں کے بھیانک نتائج اورسر پر منڈلاتے خانہ جنگی کے خطرات کو نظرانداز کردینا ناممکن ہے۔

کچھ مغربی سیاستدان اور صحافی پہلی مرتبہ پناہ گزینوں کے بحران کو مکمل جانچ پائیں ہیں، جو جنگ کے آغاز سے ہی شام کے ہمسایہ ممالک کے لیے گہری تشویش کا باعث رہا ہے۔

اب فرق صرف یہ ہے کہ پناہ گزین کی زیادہ اور بڑھتی ہوئی تعداد یورپ کے امیر ترین ممالک کا رُخ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

یورپی یونین کے مطابق بحیرۂ روم پناہ گزینوں کے لیے ایک گڑھا یا موت کی کھائی کی طرح ثابت ہو رہا ہے۔ ممکنہ طور پراس موسمِ گرما تک پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی حل نکال لیا جائے گا۔

یرموک کی مثال:

بنیادی وجہ جس کی بنا پر وہ یہاں نقل مکانی کر کے آتے رہیں گے وہ اب بھی جوں کی توں ہے اور وہ ہے شام، لیبیا، عراق اور یمن میں جنگ ہے۔ پُر تشدد کارروائیاں، عدم استحکام اور بدنظمی بھی لوگوں کی زندگیوں کو مزید دردناک اور خطرناک بنانے اور مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لینے کی وجوہات میں شامل ہیں۔

اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ لوگ وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کچھ کی زندگیوں کو شاید براہِ راست خطرات لاحق نہیں لیکن وہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی وہاں سے نکل جانا چاہتے ہیں۔

لوگ اپنے گھروں کو خوشی سے نہیں چھوڑتے وہ یا تو فرارہوتے ہیں اور بعض اوقات انھیں سمگلروں کے ہاتھوں خوفناک خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیوں کہ اس کے متبادل طریقے زیادہ بدتر ہوتے ہیں۔

دمشق شہر کے وسط سے صرف چند میل کے فاصلے پر جاری لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں خوفناک ترین علاقہ یرموک کے کھنڈرات سے بھی میرا گزر ہوا۔

یرموک، فرار ہوکر آنے والے خاندانوں یا پھر سنہ 1948 میں اسرائیل کی اپنی آزادی کی جنگ جیتنے کے بعد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کے لیے فلسطینی پناہ گزین کیمپ ہے۔

دمشق میں گزارے گئے گذشتہ تین برس کے دوران میں نے اپنی راتیں یرموک پر بمباری دیکھتے ہوئے گزاری ہیں۔ میری وہاں موجودگی کے پہلے دن سے ہی یہ سب بہت بھیانک اور خوفناک تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شامی فوجوں اور فلسطینی جنگجو گروہوں نے یرموک کے نصف حصے پر قبضہ کررکھا ہے۔ وہاں رہنے والے تمام عام شہری جا چکے ہیں۔ کچھ قریبی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں جبکہ کچھ یورپ جانے کی کوششوں میں ہیں۔

ہرسڑک کھنڈر میں تبدیل ہوچکی تھی، ہر عمارت تباہ ہوگئی تھی، صرف توپوں سے نہیں بلکہ گلیوں میں جاری لڑائیوں کے دوران فائر کی گئی ہزاروں گولیوں کی وجہ سے۔

جہاں میں موجود تھا وہاں سے چارسو میٹر کے فاصلے پر موجود علاقے پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ نے قبضہ کررکھا ہے۔

فلسطینی شہریوں میں سے ہزاروں کی تعداد میں افراد وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

یواین آرڈبلیواے، اقوامِ متحدہ کی ایجنسی جو فلسطینی پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، رواں سال مارچ کے بعد سے امدادی سامان کے ساتھ وہاں کا دورہ نہیں کرپائی جبکہ گولیوں اور گولہ باری کے خطرات کے ساتھ ساتھ اس موسمِ سرما میں وہاں ٹائیفائیڈ پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔

یرموک کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ اس بات کی صرف ایک مثال ہے کہ کیوں لوگوں کی بڑی تعداد شام سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہے۔

جن لوگوں نے جنگ کے آغاز سے قبل ہی شام سے نقل مکانی کرلی تھی انھیں اس بات کی اُمید ہے کہ وہ جلد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ اب جبکہ جنگ اپنے پانچویں سال میں ہے انھیں اس بات کا احساس ہے کہ اب کبھی بھی بہت جلد دوبارہ ایسا ممکن نہیں ہوسکے گا۔انھیں اپنا کوئی اور مستقبل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

جب تک شام میں حالات بہتر ہونے کا کوئی راستہ نہیں مل جاتا وہ نقل مکانی کرتے رہیں گے۔ امن کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور شاید کچھ مستحکم حالات امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوسکیں۔

دمشق میں موجود ایک پُرانے امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک جو کروڑوں یوروز پناہ گزینوں کی بحالی کی مد میں خرچ کرنے کی تیاری کررہے ہیں اگروہ تواتر سے شام اور اس کے گردونواح میں انسانی فلاح کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کے لیے مکمل امداد فراہم کرتے رہیں تو وہ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں۔ یا کم ازکم زیادہ لوگوں کو خطے میں رہنے پر قائل کرسکتے ہیں۔

امدادی کارکن کا کہنا ہے کہ یورپی حکومتوں کو بھیجے گئے پیغامات میں انھیں متنبہ کردیا گیا ہے کہ تنازعات اور بڑھتی ہوئی مایوسی پناہ گزینوں کو اپنے مسائل کا خود حل نکالنے پر مجبور کردے گی۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے راشن کی فراہمی شروع کردی ہے اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہر مہینے ہزاروں بے گھر افراد میں سے انفرادی طور ہر ایک شامی باشندے پر غذا کی مد میں 12.50 امریکی ڈالر کی رقم خرچ کرے۔

اسی بارے میں