اسلامی اخوت پناہ کی تلاش میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ویانا اور میونخ کے ریلوے سٹیشنوں پر سماجی تنظیموں نے ویلکم ٹو آسٹریا اور ویلکم ٹو جرمنی کے بینر لگائے

چودہ سو برس پہلے۔

ہجرت کا سال ہے۔ نومسلم کفارِ مکہ کے ظلم و ستم کی تاب نہ لاتے ہوئے یا تو حبشہ کی عیسائی مملکت کی جانب ہجرت کر رہے ہیں یا پھر مدینے کی وادی میں جائے پناہ تلاش کر رہے ہیں۔ رسول اکرم کی ذاتِ مبارک بھی ہجرت پر مجبور ہوگئی ہے۔ مدینے کے انصار اور مکے کے مہاجرین کو سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر قرار دیا گیا ہے۔ اس تصور سے وہ بیج پھوٹ رہا ہے جو ملتِ واحدہ کا سایہ دار درخت بنےگا۔

پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کا بحران: خصوصی ضمیمہ

حضرت سعد بن ربی مدینہ کی ایک مالدار ہستی ہیں اور ان کے روبرو مکی حضرت مہاجر عبدالرحمان بن عوف ہیں۔ سعد کہہ رہے ہیں ، میں نے اپنی املاک کے دو حصے کر دیے ہیں، ایک تمہارا ایک میرا، میرے گھر میں سے آدھا تمہارا آدھا میرا ، میری دو بیویاں ہیں ، کہو ان میں سے کسے طلاق دوں تاکہ تم عقد میں لے سکو۔

عبدالرحمان بن عوف کہتے ہیں، بس اللہ ہی تمہیں اس ایثار کا اجر دے سکتا ہے ، مجھے تمہاری محبت اور خلوص میسر آگیا سمجھو سب مل گیا۔بس میرے بھائی بازار کا راستہ بتا دو ( تاکہ مزدوری ڈھونڈھ سکوں)۔

چودہ سو برس بعد۔

شام میں خانہ جنگی کو چوتھا برس ہو چلا ہے۔ ڈھائی کروڑ میں سے آدھے ملک کے اندر در بدر اور چالیس لاکھ سے زائد ہمسایہ ممالک ترکی، لبنان ، اردن اور عراق میں خیمہ زن۔ لبنان میں تو یہ حال ہے کہ ہر چوتھا باشندہ شامی پناہ گزین ہے۔ لگ بھگ پانچ لاکھ یورپ کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔کچھ یورپی ممالک پریشان ہیں کہ اس اژدھام سے کیسے نمٹیں کہ جس میں صرف شامی نہیں عراقی ، افغانی اور افریقی مصیبت زدگان بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی نے دسمبر تک آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں بسانے پر آمادگی ظاہر کی ہے

مگر تین سالہ آئیلان کردی کی ساحل پر سجدے میں پڑی لاش نے واقعی دل ہلا دیا ہے۔ اگر ایک طرف ہنگری ہے جو اتنے زیادہ مسلمان پناہ گزینوں کو مسیحی یورپی تہذیب پر ناگہانی حملہ سمجھ رہا ہے اور سلوواکیہ کہہ رہا ہے کہ وہ صرف عیسائی پناہ گزینوں کو قبول کرے گا تو دوسری جانب پاپائے روم ہیں جنہیں ان مصیبت زدگان سے کوئی مذہبی و ثقافتی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔

پاپائے روم نے یورپ بھر میں پھیلے ہوئے ایک لاکھ 22 ہزار رومن کیتھولک گرجا گھروں کو حکم دیا ہے کہ ہر گرجے میں کم از کم ایک بےگھر خاندان کے قیام کا بندوبست کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایک پناہ گزیں خاندان اوسطاً پانچ افراد پر مشتمل ہے تو سیدھے سیدھے پانچ لاکھ بےگھروں کو رومن کیتھولک چرچ کا ادارہ ہی پناہ دینے کے لیے کافی ہے۔

ساتھ ساتھ یورپ کے سب سے طاقتور ملک جرمنی نے بھی اپنے دروازے ان پناہ گزینوں پر کھول دیے ہیں اور دسمبر تک آٹھ لاکھ بےخانماؤں کو اپنے ہاں بسانے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ابتدائی طور پر چھ ارب یورو کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

ہنگری سے آسٹریا اور جرمنی میں داخل ہونے والے تھکے ہاروں کے لیے ویانا اور میونخ کے ریلوے سٹیشنوں پر طرح طرح کی سماجی تنظیموں نے ویلکم ٹو آسٹریا اور ویلکم ٹو جرمنی کے بینر لگائے ہیں۔ سینکڑوں جرمن اور آسٹریائی باشندے اپنی اپنی گاڑیاں لے کر ہنگری کے پھیرے لگا رہے ہیں تاکہ پیدل آنے والے عورتوں ، بچوں اور مردوں کو ڈھو کر لا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یورپی کمیشن کی تجاویز اگر منظور ہوگئیں تو اٹلی ، یونان اور ہنگری میں پھنسے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار مہاجروں میں سے کم از کم ساٹھ فیصد کو جرمنی ، فرانس اور سپین منتقل کر دیا جائے گا

کئی جرمن تنظیمیں ان گھروں کی رجسٹریشن کر رہی ہیں جن کے مالکان نے ان پناہ گزینوں کو تب تک گھروں میں ٹھہرانے کی پیش کش کی ہے جب تک رہنے سہنے کا سرکاری انتظام نہیں ہو جاتا۔ جرمن کمپنیاں ویب سائٹس پر اشتہارات دے رہی ہیں کہ ہنرمند پناہ گزین نوکری کے لیے فوراً رجوع کریں۔

اگر ایک جانب جرمنی کی جنوبی ہمسایہ حکومتِ ڈنمارک لبنانی اخبارات میں یہ بڑے بڑے اشتہارات چھپوا رہی ہے کہ پناہ گزین ڈنمارک میں داخل ہونے کے بارے میں نہ سوچیں تو ڈنمارک کے شمالی ہمسائے سویڈن نے اپنے دروازے شامی اور دیگر مصیبت زدگان کے لیے وا کر دیے ہیں۔اس وقت فی کس آبادی کے اعتبار سے سویڈن پناہ گزین قبول کرنے والا سب سے بڑا یورپی ملک ہے۔

سویڈن کے ہمسائے فن لینڈ کے وزیرِ اعظم جوہا سپیلا نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سرکاری رہائش گاہ بھی پناہ کے متلاشیوں کے لیے حاضر ہے جبکہ دور دراز یورپی جزیرے آئس لینڈ کی حکومت نے جب 55 پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی ’فراخدلانہ‘ پیش کش کی تو جزیرے کے باشندوں میں شدید ردِ عمل ہوا اور گیارہ ہزار شہریوں نے اعلان کیا کہ ان کے گھر پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔

دو ہفتے پہلے تک برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے میں آنا کانی کر رہے تھے لیکن بڑھتے ہوئے اخلاقی دباؤ اور یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاد ینکر کے کوٹہ منصوبے نے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور صدر فرانسوا اولاند کو بھی جھکا دیا۔ اب برطانیہ نے 20 ہزار اور فرانس نے 24 ہزار نئے پناہ گزیں لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

یورپی کمیشن کی تجاویز اگر منظور ہوگئیں تو اٹلی ، یونان اور ہنگری میں پھنسے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار مہاجروں میں سے کم از کم ساٹھ فیصد کو جرمنی ، فرانس اور سپین منتقل کر دیا جائے گا۔

Image caption قطر اور سعودی عرب سمیت تمام آسودہ خلیجی ریاستوں نے اب تک کسی شامی پناہ گزیں کو لینے کا اعلان نہیں کیا ہے

آسٹریلیا کی حکومت سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کی شہرت رکھتی ہے مگر اس نے بھی بالاخر 20 ہزار شامی پناہ گزینوں کو لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

اس وقت شام میں جو بیرونی ممالک بشارالاسد حکومت کے دامے درمے قدمے سخنے حامی ہیں ان میں روس اور ایران نمایاں ہیں۔ان دونوں ممالک نے اب تک کسی شامی پناہ گزین کو قبول کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ اسد مخالف قوتوں کی حمایت میں امریکہ پیش پیش ہے مگر وہاں اب تک صرف ڈیڑھ ہزار شامی ہی پہنچ پائے ہیں۔

جبکہ قطر اور سعودی عرب سمیت تمام آسودہ خلیجی ریاستیں اسد مخالف قوتوں بالخصوص فری سیرین لبریشن آرمی کی تربیت و امداد میں تو پیش پیش ہیں لیکن ان میں سے کسی نے ایک بھی شامی کو قبول کرنے کا عندیہ نہیں دیا بلکہ اخبار عرب نیوز کے بقول سعودی وزارتِ سماجی بہبود نے سعودی خاندانوں پر پابندی لگا دی ہے کہ وہ سرکاری اجازت کے بغیر عراقی و شامی بچوں سمیت کسی غیر ملکی بچے کو گود نہیں لے سکتے۔

مدینہ آج بھی وہیں ہے جہاں چودہ سو برس قبل مہاجر و انصار کے آسمانی اعلانِ اخوت کے موقع پر تھا لیکن زمانہ بدل گیا ہے اور مشرق کی روحِ اخوت کو اب مغرب میں پناہ مل رہی ہے ۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔

اسی بارے میں