لیبر پارٹی کے انتخابات، ووٹنگ اختتامی مراحل میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کوربائن کی بغص حلقوں کی طرف سے مخالفت کے باوجود پوزیش بہت بہتر ہے

برطانوی حزب اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی میں قیادت کے لیے جاری دوڑ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ کچھ حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بائیں بازو کے نظریات کے حامل جیرمی کوربائن کی کامیابی کی صورت میں پارٹی ٹوٹ سکتی ہے۔

لیبر پارٹی کے رہنما کے لیے ہونے والے انتخابات میں جیرمی کوربائن کا مقابلہ اینڈی برمن، لز کینڈل اور ایویٹ کوپر کے درمیان ہے۔ ووٹنگ جمعرات کو بند ہو گی اور نتائج کا اعلان ہفتے کو کیا جائے گا۔

انتخابی مہم میں شامل ذرائع کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لیبر پارٹی کے ووٹروں کو بیلٹ کی پرچیاں موصول نہیں ہوئی ہیں۔

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ تمام بیلٹ پیپر ای میل اور ڈاک کے ذریعے بھیج دیے گئے ہیں۔

لیبر پارٹی نے تمام ووٹروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ای میلز پر نظر رکھیں جس میں انھیں ووٹ ڈالنے کے لیے یاد دہانی کی میلز بھی بھیج دی گئی ہیں اور ان میں وہ کوڈ بھیجا گیا ہے جو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے نائب مدیر نارمن سمتھ کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیوں کہ نئی رکنیت کے قانون کے بارے میں پائے جانے والے ابہام سے صورت حال انتہائی غیر واضح ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جیرمی کوربئن کی مہم نے ان نئے قوانین کا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور مہم کو بالکل بدل کر رکھا دیا ہے۔

اس سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد لیبر پارٹی کی رکنیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد پارٹی کے ان انتخابات میں چھ لاکھ سے زیادہ نئے لوگ ووٹ ڈالیں گے۔

ان انتخابات میں پارٹی کے نائب رہنما کے لیے بھی رائے دہی کی جائے گی گا جس کےنتائج کا اعلان ہفتے ہی کے دن لیڈر شپ کانفرنس میں کیا جائے گا۔

ایک رکن ایک ووٹ

لیبر پارٹی میں نئے رہنما کے انتخاب کی ضرورت مئی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد پارٹی کے اس وقت کے رہنما ڈیوڈ ملی بینڈ کے استعفے کے بعد پیش آئی۔ یاد رہے کہ ان انتخابات میں لیبر پارٹی نے انتہائی کم ووٹ حاصل کیے تھے۔

لیبر پارٹی پہلی مرتبہ اپنے رہنما کے انتخاب کے لیے ’ایک ممبر ایک ووٹ‘ کے نئے قانون کے تحت مقابلہ کروا رہی ہے۔ یہ قانون سنہ 2014 میں نافذ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل، پارٹی کا حلقہ انتخاب ارکان پارلیمان، پارٹی ارکان اور مزدور یونینوں پرمشتمل تھا۔

موجودہ قانون کے تحت کوئی بھی شخص تین ڈالر جمع کرا کے پارٹی کا رجسٹرڈ حامی بن سکتاہے اور ووٹ دینے کا اہل ہوسکتاہے۔ لیکن اس طریقہ کار کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طریقے سے انتخابات کے عمل میں ایسے ووٹروں کے بھی شامل ہونے کا خطرہ ہے جو نظریاتی طور پر لیبر بارٹی کے حامی نہیں ہیں۔

لیبر پارٹی نے کہاہے کہ وہ نتائج کے دن تک غیر نظریاتی حمایتوں کو باہر نکالے کی کوششیں جاری رکھے گی۔