شام میں روس کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ پر امریکہ اور نیٹو کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہے۔

شام میں روس کی جانب سے بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں پر امریکہ اور نیٹو نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیٹو افواج کے سربراہ جینز سٹولن برگ کے مطابق اگرعسکری سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات درست ہیں تو شام میں روس کی مداخلت تنازعے کو حل کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔

بدھ کو امریکی وزیرِخارجہ جان کیری نے روسی وزیرِخارجہ سے ٹیلفونک بات چیت میں انھیں امریکی خدشات سے آگاہ کیا۔ شام میں جاری چارسالہ خانہ جنگی کے دوران صدر اسد کے اہم اتحادی روس کا کہنا ہے کہ اس نے صرف عسکری ماہرین شام بھیجے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ماسکو کی حمایت کے بغیر شامی صدر بشارالاسد کی حکومت شاید اب ختم ہو جائے۔

نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ماسکو نے اضافی ہوائی جہاز اور جنگی ٹینک کھڑے کرنے کے لیے دو بحری جہاز شام کے ساحلی شہر میں روسی بحری اڈے کے لیے روانہ کیے ہیں۔

لیکن روسی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے بدھ کو اس بات پر زوردیا کہ اس تازہ پیش رفت میں کچھ نیا نہیں تھا کیونکہ ماسکو طویل عرصے سے شام میں ہتھیار اور عسکری فوجی ماہرین بھیج رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں جاری چارسالہ خانہ جنگی کے دوران صدر اسد کے اہم اتحادی روس کا کہنا ہے کہ اس نے صرف عسکری ماہرین شام بھیجے ہیں

روس کی دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق’روس نے شام کے ساتھ اپنے عسکری تکنیکی تعاون کو کبھی خفیہ نہیں رکھا۔‘

دوسری جانب شام نے خود بھی روسی فوجوں کی جانب سے اپنی زمین پر کسی بھی قسم کی عسکری موجودگی کی کبھی تردید نہیں کی ہے۔

لبنانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ روسی فوجی زمینی لڑائیوں میں شریک ہیں۔

اسی دوران ایران میں روسی قونصل خانے کے ترجمان نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو نے شام جانے کے لیے اپنے طیاروں کو ایران کی فضائی حدود کے استعمال کے اجازت دے دی ہے لیکن ابھی ایران حکام سے اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

بدھ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس کے وزیر خارجہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خبریں درست ہوئی ’اس کا نتیجہ ایک زبردست لڑائی کی صورت میں نکلے گا۔‘جرمنی اور فرانس کے وزائے خارجہ نے بھی عسکری اضافے کی اطلاعات پر خبردار کیا ہے۔

امریکہ عراق اور شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس صدر بشارالاسد کو زبردست فوجی امداد فراہم کرسکتا ہے کیونکہ اس سال انھیں کافی علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین پیشرفت یہ ہے کہ شام کی سرکاری افواج کو مزید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، شامی حکومت نے اپنے مضبوط گڑھ شمال مشرقی صوبے کے شہرادلب کے اہم ہوائی اڈے کا کنٹرول کھو دیا ہے ۔

روس اور امریکہ شام کے معاملے پر فوری طور پر متفق نہیں ہیں۔ روس شام کی حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور اس کو ہتھیار فراہم کررہا ہے جبکہ امریکہ بشارالاسد کی حکومت کو برطرف کرنا چاہتا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت 2011 سے مختلف باغی گروہوں کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہے اور اب تک کی لڑائی میں 240,000 افراد مارے جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں