’دولت اسلامیہ کیمیائی ہتھیار تیار اور استعمال کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شامی حکومت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی ہے

بی بی سی کو ایک امریکی سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت کو یقین ہوتا جا رہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق اور شام میں کیمیائی ہتھیار تیار کر کے استعمال کر رہی ہے۔

اس سے پہلے شام میں بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق دو برس پہلے اقوام متحدہ کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے حکم کے بعد بھی ملک میں 60 سے زیادہ کیمیائی حملے ہوئے ہیں۔

’دولتِ اسلامیہ نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے‘

امریکی اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار واقعات ان کے علم میں آئے ہیں جہاں دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کی سرحدوں کی دونوں جانب مسٹرڈ کیمیائی مواد کا استعمال کیا۔

امریکی اہلکار کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے اس کیمیکل کو خام حالت میں سفوف کی شکل میں استعمال کیا۔

’مسٹرڈ کیمیکل کو یقیناً سفوف کی شکل میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کو روایتی دھماکہ خیز مواد جیسا کہ گولے میں بند کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے کم از کم چار مواقعوں پر دیکھا کہ شام اور عراق میں یہ استعمال کیا گیا ہے۔ ‘

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شامی صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ہیلی کاپٹروں سے کلورین گیس پھینکی جبکہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے بھی مہک مسٹرڈ گیس(رائی گیس) کا استعمال کیا۔

اقوام متحدہ نے کیمیائی حملوں کے بارے میں تحقیقات شروع کی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں کون ملوث ہے کیونکہ کیمیکل کا استعمال جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ میں عینی شاہدین نے شام کے شہر مارع میں بتایا ہے کہ کیمیکل حملے قریب میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں سے کیے گئے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ٹھوس شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا گیا۔

شام میں کیمیکل حملے کے متاثرین کی ایک ویڈیو کو دیکھنا بہت تکلیف دے تھا جس میں بے ہوش ہونے والے بچوں کو ہسپتال لایا جا رہا تھا جبکہ مردوں کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی اور وہ قے کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ویل چیئر پر ایک عمر رسیدہ خاتون کا انتقال ہو چکا تھا جبکہ ڈاکٹر متاثرین کو بچانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔

Image caption گاؤں مارع میں عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کیمیکل حملے قریب میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں سے کیے گئے

ﺣﻠﺐ شہر سے 50 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع قصبے سرمین میں رواں سال مارچ میں ہونے والے اس کیمیکل حملے میں پانچ دیگر افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے افراد کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں تھا۔

بظاہر اس حملے کے بعد ویڈیو بنائی گئی تھی۔ جب یہ ویڈیو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دکھائی گئی تو اطلاعات کے مطابق اس کے رکن آبدیدہ ہو گئے۔

یہ ان 60 سے زیادہ واقعات میں سے ایک کی ویڈیو تھی جن میں مبینہ طور پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

کیمیکل ہتھیاروں کے ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک حالیہ حملے میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کی جانب سے مسٹرڈ گیس استعمال کرنے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔

شامی حکومت پر ایسے حملوں کا کئی بار الزام عائد کیا گیا ہے جس کی وہ سختی سے تردید کرتی ہے تاہم جب سرمین میں حملہ ہوا تو اس عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے اس سے پہلے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی تھی اور اس وقت صرف شامی حکومت کے پاس ہیلی کاپٹر ہیں۔لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے صرف بادل گرجنے جیسی آواز سنی لیکن کوئی دھماکہ نہیں ہوا تاہم اس میں اموات ہوئیں۔

دو سال پہلے اقوام متحدہ نے متقفہ طور پر شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ تھا واحد خطرہ ہو جسے سے شہریوں کو بچایا جا سکتا لیکن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے جس میں خاص کر کلورین گیس کے استعمال کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

یہ گیس شہری آبادیوں پر ہونے والے درجنوں حملوں میں استعمال ہوئی۔

اقوام متحدہ کی انسدادِ کیمیائی ہتھیاروں کی تنظیم ’آرگنائزیشن فار دی پروہبیشن آف کیمیکل ویپنز‘ (او پی سی ڈبلیو) نے ایسے تین مبینہ حملوں کی جانچ پڑتال کی اور اس نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ’وہ بہت وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ کئی بار کلورین استعمال کی گئی اور یہ منظم انداز میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئی۔‘

شامی حکومت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے’دہشت گردوں‘ پر الزام عائد کیا کہ وہ استعمال کر رہے ہیں۔

شام میں باغیوں اور خاص کر حال ہی میں دولت اسلامیہ پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شام کے شمالی شہر مارع پر دولت اسلامیہ نے متعدد بار حملے کیے ہیں لیکن حالیہ دو حملوں کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے کیمیکل استعمال کیے۔

اطلاعات کے مطابق مارع سے ملنے والے شواہد مزید تحقیقات کے لیے برطانوی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں۔ اس حملے میں کیمیکل استعمال ہونے کی علامات قدرے مختلف تھیں جس میں متاثرین کا جسم تکلیف دے چھالوں سے بھر گیا اور جھلسنے کے نشانات جسم پر پائے گئے۔

اسی بارے میں