ترکی کے شہر جزیرہ کا محاصرہ، جھڑپوں میں 30 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شہر میں فوجی آپریشن جاری رہنے تک کرفیو نافذ رہے گا

ترکی کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جزیرہ شہر میں گذشتہ ہفتے سے جاری فوجی آپریشن کے دوران جھڑپوں میں 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق ہلاک ہونے میں اکثریت کرد شدت پسندوں کی ہے جبکہ کرد نواز سیاسی جماعت پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی’ ایچ پی ڈی‘ کے مطابق تشدد کے واقعات میں 20 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟

جزیرہ شہر کے رہائشیوں کے مطابق جب سے فوج نے علاقے میں کرفیو نافذ کیا ہے اس وقت سے شہر محاصرے میں ہے۔

اس شہر کو ’جزیرہ ابن عمر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

جمعرات کو پولیس نے ایچ ڈی پی کے رہنماؤں کے ایک وفد کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

یہ گروپ پیدل شہر جانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس میں جماعت کے سربراہ صلاح‌الدین دمیرتاش سمیت 30 ارکان پارلیمان شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GARO PAYLAN
Image caption جمعرات کو پولیس نے ایچ ڈی پی کے رہنماؤں کے ایک وفد کو شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس وفد کے مطابق وہ دنیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے تھے کہ کرد اکثریتی شہر کی اس وقت کیا صورتحال ہے۔

اس وفد کو جزیرہ شہر سے 17 میل دور ایدیل شہر کے قریب پولیس نے روک دیا۔

ترکی میں کردوں کی عسکریت پسند تنظیم’ پی کے کے‘ اور ترکی کی فوج کے درمیان جھڑپوں میں اس وقت دوبارہ شدت آئی جب جولائی میں فائر بندی کا معاہدہ ناکام ہو گیا۔

ترکی کے جنگی جہازوں نے شمالی عراق میں ’پی کے کے‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جبکہ جنوب مشرقی علاقوں میں سکیورٹی سخت کرتے ہوئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

ایچ ڈی پی کے رہنما صلاح‌الدین دمیرتاش نے کہا ہے کہ جزیرہ میں انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے اور وہاں شہری نہ تو کھانے کو روٹی خرید سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں پینے کے پانی تک رسائی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کے ایک واقعے میں دس سالہ بچہ ہلاک ہو گیا اور اس کے الخانہ کو لاش مجوراً فریج میں رکھنا پڑی کیونکہ کسی قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ hurriyet.com.tr
Image caption ترکی میں حالیہ دنوں کردوں کے حملوں میں متعدد سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئےہیں

وسری جانب ترکی کے وزیر داخلہ سلیمی التونک نے کہا ہے کہ علاقے میں فوجی آپریشن مکمل ہونے تک کرفیو نافذ رہے گا۔

صلاح‌الدین دمیرتاش نے خبردار کیا کہ ملک خانہ جنگی کی جانب جا رہا ہے جبکہ ترکی کے استغاثہ ’ایچ ڈی پی‘ کے رہنما کی جانب سے صدر رجب طیب اردغان کی مبینہ توہین کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ترکی کی حکومت نے ایک ڈچ صحافی کو ملک بدر کر دیا ہے۔ صحافی پر ’پی کے کے‘ کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں ترکی نے دو برطانوی صحافیوں کو ملک بدر کر دیا تھا جبکہ ان کے عراقی مترجم اس وقت قید میں ہیں۔

ترکی میں ’پی کے کے‘ کی سنہ 1984 میں آزاد کرد ریاست کے قیام کے لیے شروع کی جانے واکی تحریک کے دوران اب تک تشدد کے واقعات میں 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت اور پی کے کے میں 2013 میں فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور یہ رواں سال جولائی میں اس وقت ختم ہو گیا جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شامی سرحد کے قریب واقعہ شہر سوروچ میں خودکش حملہ کیا اور اس میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کرد نوجوانوں کی تھی۔

اسی بارے میں