ہنگری کا غیرقانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جو بھی غیرقانونی طریقے سے سرحد پار کرے گا وہ گرفتار ہونے کے لیے تیار رہے: وکٹر اوربان

یورپی ملک ہنگری کے وزیرِ اعظم نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے سے جو لوگ بھی ان کے ملک میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوں گے انھیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے ہنگری میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں نے ان کی پولیس فورس کے خلاف بغاوت کی ہے، اس لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں خانہ جنگی اور تشدد کا شکار شام اور لیبیا جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد ہزاروں کی تعداد میں یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے یہ افراد زیادہ تر ہنگری کے راستے ہی امیر یورپی مملک، جرمنی، آسٹریا اور سویڈن پہنچ رہے ہیں جہاں پناہ حاصل کرنے کے قوانین قدرے نرم ہیں۔

ہنگری کا اصرار ہے کہ وہ یورپی یونین کے رکن ہونے کے ناتے اس پر عائد ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہا ہے اور تمام ایسے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن بھی کر رہا ہے لیکن پناہ گزینوں سے روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے اس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

وکٹر اوربان نے جمعے کو کہا ہے کہ 15 ستمبر سے امیگریشن کے سخت قوانین لاگو ہو جائیں گے اور جو بھی غیرقانونی طریقے سے سرحد پار کرے گا وہ گرفتار ہونے کے لیے تیار رہے۔

انھوں نے ہنگری کی پولیس کی تعریف کی اور کہا کہ وہ پناہ گزینوں سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریزاں رہی ہے جبکہ ان پناہ گزینوں نے تو ’ہنگری کے قانونی نظام کے خلاف بغاوت ہی کر دی ہے۔‘

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سربیا کی سرحد کے قریب ہنگری میں واقع پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں تھیلوں میں بند خوراک ان کی جانب اچھالے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایک آسٹریائی خاتون جس نے یہ ویڈیو بنائی ہے کہا ہے کہ کیمپ میں پناہ گزینوں کے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے یورپی ممالک سے کہا کہ وہ اپنی سرحدیں کھول دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہنگری کے کیمپ میں خوراک دیے جانے کے طریقے پر تنقید کی جا رہی ہے

ہیومن رائٹس واچ کے ایمرجنسی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں پناہ گزینوں کے ساتھ باڑے میں جانوروں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔

حکام اور پناہ گزینوں کے درمیان سرحدی علاقوں اور اہم ریلوے سٹیشنوں پر تناؤ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

پناہ گزینوں سے ناروا سلوک کی خبریں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب وسطی یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے پناہ گزینوں کب بسانے کے لیے مختص کوٹے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔

جمہوریہ چیک کے وزیرِ خارجہ لوبومیر زاؤرالک نے جمعے کو ہنگری، پولینڈ اور سلواکیہ کے وزارئے خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ہم اس خیال پر متفق ہیں کہ بطور ملک ہمیں ان افراد کے اعدادوشمار پر کنٹرول ہونا چاہیے جنھیں ہمیں قبول کرنا ہے اور جن کی مدد کرنی ہے۔‘

جرمنی کوٹہ سسٹم کی بات کر رہا ہے جس کے تحت رکن ممالک کو نئے آنے والوں میں سے ایک خاص تعداد کو اپنے پاس رکھنا ہو گا۔

یورپی کمیشن نے 28 رکن ممالک کو تجویز دی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ہرسال مزید 120,000 پناہ گزینوں کی میزبانی کریں۔ یہ موجودہ 40,000 افراد کو پناہ دینے کے لیے مختص کوٹے سے کہیں زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ screengrab from video Kirill Skorodelov kirill.skorodelov
Image caption شام اور لیبیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد یورپ کا رخ کر رہے ہیں

اس حقیقت کے باوجود کہ اگر یورپی یونین اس کوٹے کے حمایت کر دیتی ہے تو ان تمام ممالک کو جرمنی کے مقابلے میں کہیں کم پناہ گزینوں کو اپنے ہاں جگہ دینی پڑے گی۔ ایسے میں خود کو ’وائزگریڈ‘ کہلوانے والے چار وسطی یورپی ممالک نے یورپی یونین کی جانب سے تجویز کردہ لازمی کوٹے کو مسترد کر دیا ہے۔

رواں سال 150,000 پناہ گزین ہنگری کے راستے شمال کا سفر کر رہے ہیں جس کے بعد اس صورت حال میں ہنگری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ہنگری کی فوج نے مستقبل میں ممکنہ طورپر سرحدوں کی نگرانی اور لوگوں کی آمد کو روکنے کے لیے بدھ سے فوجی مشقوں کا آغاز کردیا ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگری نے سربیا سے ملحق سرحد پر پہلے ہی نئی خاردار تاریں لگائی جا چکی ہیں۔

ہنگری کے حکام کو بتا دیا ہے گیا ہے کہ اگلے سال وہ مزید 40 ہزار تارکین وطن کی آمد کی امید رکھیں۔

حالیہ فوٹیج ہنگری کے روزسکے کیمپ میں بنائی گئی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شمال اور مغرب سے آنے والے پناہ گزین اکٹھے ہوتے ہیں۔

یہ ویڈیو آسٹریا کی گرین پارٹی کے سیاستدان کی اہلیہ مشیلا سپرٹزینڈورفور اور ایک صحافی کلاس کفنر نے بنائی ہے۔

سپرٹزینڈورفور نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ لوگ تین ماہ سے بہت خوفناک سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پناہ گزین ہنگری کی سرحد پر لگی خاردار تاروں کو پھیلانگ کر اندر داخل ہو رہے ہیں

’ان میں سے اکثر سمندر پار کر کے، کشتیوں پر اور جنگل سے گزر کر آئے ہیں اور ان کے ساتھ بہت برا ہوا ہے اور ہم بطور یورپ انھیں جانوروں کی طرح کیمپ میں رکھ رہے ہیں۔ یہ یقنیناً یورپی سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اب سرحدیں کھول دیں۔‘

ہنگری میں پناہ گزینوں کی کم حمایت پر بہت تنقید کی جا رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایمرجنسی ڈائریکٹر پیٹر بکارٹ نے روزسکے کی صورتِ حال کو ’غیر انسانی‘ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو ’باڑے میں جانوروں‘ کی طرح رکھا جا رہا ہے۔

پراگ میں ہونے والے اجلاس سے قبل جمہوریہ چیک کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس میٹنگ کا مقصد حالیہ ’اختلاف رائے کے پیش نظر یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی فضا‘ کو بہتر بنانا ہے۔

یورپی کمیشن کے صدر جان نے بدھ کو یونان، اٹلی اور ہنگری سے آنے والے پناہ گزینوں کو باقی رکن ممالک میں ان کے مختص کوٹے کے تحت تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ تعداد مئی میں صرف یونان اور اٹلی سے آنے والے 40 ہزار پناہ گزینوں کے علاوہ ہے۔

یورپی پارلیمنٹ نے صدر ینکر کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کی حمایت کر دی ہے اور اب رکن ممالک کی منظوری کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں