’انجن کے ایک اہم حصے کے ڈھکنے میں کئی سوراخ پائے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ انجن کے ایک اہم حصے کے ڈھکنے میں ’کئی‘سوراخ تھے

امریکہ کے شہر لاس ویگاس کے ہوائی اڈے پر برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کے طیارے میں آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بظاہر طیارے کے انجن کے حصے اڑ کر رن وے پر جا گرے تھے۔

یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور آتشزدگی کے بعد طیارے میں سوار 172 افراد کو ہنگامی راستے سے بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا۔

امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) نے کہا ہے کہ انجن کے ایک اہم حصے کے ڈھکنے میں ’کئی‘سوراخ پائے گئے۔

اس ڈھکنے کو کسی بھی نقصان کو محدود کرنا چاہیے تھا لیکن سپول کے حصے جن کی لمبائی سات سے آٹھ انچ تھی، رن وے سے ملے۔

ریڈنگ سے تعلق رکھنے والے طیارے کے پائلٹ کرس ہینکی نے کہا ہے کہ وہ اب ’شاید ہی‘ بارباڈوس جانے والی وہ پرواز اڑائیں جو ان کی بطور پائلٹ آخری پرواز ہونی تھی۔

ان کے شیڈول کے مطابق انھوں نے بارباڈوس کے جزیرے کی طرف ایک پرواز اڑانی ہے لیکن وہ اس پرواز کو ’شاید نہ‘ ہی اڑا سکیں گے۔

این ٹی ایس بی اب فلائیٹ ڈیٹا اور کاک پٹ کی آوازوں کی ریکارڈنگ کی تحقیقات کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آتشزدگی کے بعد طیارے میں سوار 172 افراد کو ایمیجینسی سلائڈ کے ذریعے بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا

ماہرین طیارے کے بائیں انجن کا جائزہ لے کر کہ یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آگ کیسے شروع ہوئی تھی۔

بی بی سی کے ٹرانسپورٹ کے نامہ نگار رچرڈ ویسٹ کاٹ کے مطابق مکینیکل انجینئرز کے انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کالن براؤن کا کہنا ہے کہ طیارے کا ٹوٹنے والا حصہ ’ممکنہ طور پر زیادہ استعمال کی وجہ سے ٹوٹا ہوگا۔‘

تفتیش کار اب اپنی تحقیقات میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ یہ حصہ کتنا پرانا تھا اور آخری دفعہ اس کا جائزہ کب لیا گیا تھا۔

برٹش ایئر ویز کی پرواز 2276 کا جہاز بوئنگ 777 تھا اور یہ لاس ویگاس کے میکیرن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ کی طرف جا رہی تھی۔

اس جہاز میں 159 مسافر اور عملے کے 13 افراد سوار تھے۔

اسی بارے میں