’پاکستان کے ساتھ مل کر کارروائی کرتے‘

Image caption سنہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گردوں کے حملے میں ہزاروں امریکی مارے گئے تھے

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر القاعدہ کے حملوں کے 14 برس بعد بھی دنیا ایک ایسی جنگ میں دھنسی ہے جس میں دور دور تک کسی قسم کی جیت کا نام و نشان نہیں، باوجود اس کے کہ ان تمام برسوں میں پوری دنیا کی سیاست کا رخ اسی جنگ نے متعین کیا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پچھلے 14 برسوں میں دہشتگردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ گلوبل پیس انڈیکس کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانی پڑی جس کا تخمینہ لگ بھگ 140 کھرب ڈالر لگایا گیا ہے جو عالمی ملکی پیداوار کا 13 فیصد بنتا ہے۔

اسامہ کے پیچھے فوراً پاکستان نہ جانا بڑی غلطی تھی

جوہری جنگ سے بچاؤ پر کام کرنے والے نوبل انعام یافتہ ادارے انٹرنیشنل فیزیشنز فار پریوینشن آف نیوکلیئر وار کے حساب میں اب تک صرف عراق، افغانستان اور پاکستان میں لگ بھگ 13 لاکھ لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس جنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔

نیویارک پر حملوں کے وقت القاعدہ تنظیمی اعتبار سے ایک محدود سا گروہ تھا لیکن اب اس کی طرز کے نظریات والی تنظیمیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کا اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 50 سے 70 سلفی نظریات کے جہادی گروہ موجود ہیں جن کے جنگجوؤں کی مجموعی تعداد 75 ہزار سے سوا لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

ظاہر ہے اس سے یہی سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟

امریکہ کی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل ٹی فلن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ناسمجھی ہے۔ ’ہم مختلف معاشروں کی انسانی، سماجی اور ثقافتی اقدار اور ان معاشروں کے چال چلن کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق امریکہ کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے جانے والے بین الاقوامی اتحاد کا انحصار انتہائی حد تک عسکری قوت پر رہا ہے۔’اس سرکش انحصار کی وجہ سے قومی طاقت کے دیگر ذرائع جیسے کہ انفارمیشن اور ڈپلومیسی دب گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقت کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں انتہا پسند کم ہونے کی بجائے بڑھتے گئے۔‘

پاکستان کے سابق فوجی ترجمان میجر جنرل (ر) اطہر عباس اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی اردو سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بگڑا ہی اس لیے کہ امریکہ نے افغانستان کے سیاسی مسائل کو طاقت کے زور پر حل کرنا چاہا۔

امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے ڈاکٹر سیتھ جونز انسداد دہشتگردی کے ماہر محقق ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے افریقی انتہا پسند گروہ الشباب کے خلاف صومالی حکومت کی کامیابی کا حوالہ دیا اور کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اصل چیلنج مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ہے۔

’کسی بھی ایسے ملک میں جہاں انتہا پسندوں کی پناہ گاہیں ہوں ہماری توجہ غیر ملکی مداخلت کو محدود کرنے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے پر ہونی چاہیے۔‘

اس کے ساتھ ساتھ، مائیکل ٹی فلن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی اسلامی ریاستوں کو بھی اپنے مذہب میں موجود انتہا پسند رحجانات کی نشاندہی کرنی ہو گی اور اس کا سدباب کرنا ہو گا۔

یہ سب تو وہ ہے جو ہوا، لیکن ایسا کیا ہو سکتا تھا کہ صورتحال میں ابتری کی بجائے بہتری آتی؟

مائیکل ٹی فلن کی رائے میں پہلے دن سے ہی امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستان کی سرزمین پر القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنی چاہیے تھیں۔ ’ہمیں جیسے ہی معلوم ہوا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود ہے، ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ایک ٹارگٹڈ آپریشن کرنا چاہیے تھا اور پاکستانیوں کو بتانا چاہیے تھا کہ یہ آپریشن ایک ایسے شخص کے خلاف ہے جو پاکستانی نہیں، عربی ہے۔‘

ان کے مطابق پاکستان نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے ان انتہا پسندوں کو اپنی سر زمین پر قدم جمانے دیے۔ ’اس میں شک نہیں کہ اس جنگ میں پاکستانی فوج نے حیرت انگیز جرات کا مظاہرہ کیا ہے لیکن تاریخ شاید یہی کہے کہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ کر سکتا تھا۔‘

لیکن میجر جنرل (ر) اطہر عباس ایسے خیالات کو تباہ کن سمجھتے ہیں۔ ’ایسا کرنے سے تمام چھوٹے بڑے گروہ اسے امریکی حملہ سمجھ کر امریکہ کے خلاف متحد ہو جاتے۔‘

جہاں تک پاکستان کے کچھ زیادہ کرنے کا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ صرف ضرب عضب میں پاکستان نے دو سو کروڑ ڈالر خرچ کر کے تین ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ ’اب پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں ان جہادیوں کا کنٹرول ہو اور نہ ہی وہ شام اور عراق کی طرح پاکستان میں کسی بڑی کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔‘

اس کے برعکس رینڈ کارپوریشن کے ڈاکٹر سیتھ جونز کا کہنا ہے کہ ضرب عضب ایک لحاظ سے گھاس کاٹنے کے مترادف ہے یعنی ایک جگہ صاف کی لیکن شدت پسند کہیں اور منتقل ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رینڈ کارپوریشن کے ڈاکٹر سیتھ جونز کا کہنا ہے کہ ضرب عضب ایک لحاظ سے گھاس کاٹنے کے مترادف ہے یعنی ایک جگہ صاف کی لیکن شدت پسند کہیں اور منتقل ہو گئے

ڈاکٹر جونز کی رائے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی حملوں سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انتہا پسند سوچ کو ختم کیا جائے۔ اور ایسا کرنے کے لیے شدت پسندوں کی پروپیگنڈا مہم، جو وہ سوشل میڈیا اور موبائل فونز کے ذریعے بڑے موثر طریقے سے چلا رہے ہیں، بھی ختم کرنا ہو گی۔

اس میں شک نہیں کہ اب تک جو ہوا اور کیا ہونا چاہیے تھا، اس پر مبصرین کی رائے منقسم ہے۔ لیکن ایک نکتے پر سب متحد ہیں اور وہ یہ کہ اب تک دہشتگردی کے خلاف دنیا کی کوششیں ایک جنگ کے تناظر میں کی گئی ہیں۔

لیکن اس دوران انٹرنیٹ کے ذریعے رابطوں میں سہولت، تیزی سے بڑھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہ اور ایسے افراد نے جو اکیلے ہی کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں، مل کر دشمن کی شناخت کو اور مشکل بنا دیا ہے۔

ان محرکات کے پیش نظر اب شاید دنیا کو، اور خصوصاً پاکستان کو، جدید ٹیکنالوجی اور شدت پسندوں کی جانب سے اس کے بےجا اور موثر استعمال کے خلاف صف آراء ہونا پڑے کیونکہ پچھلے 14 برسوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی قوت کسی بھی نظریاتی جنگ کا فیصلہ کن حربہ نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں