یمن کی ’بھولی ہوئی جنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زمینی جھڑپوں، فضائی حملوں اورناکہ بندی کے مشترکہ طور پر یمن پرتباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں

بی بی سی کے نامہ نگار گیبرِیل گیٹ ہاؤس حال ہی میں یمن کا دورہ کر کے واپس آئے ہیں۔ یمن میں جاری محاز آرائی کو کچھ لوگ ’بھولی ہوئی جنگ‘ بھی کہہ رہے ہیں۔ گیبرِیل گیٹ ہاؤس نے ان علاقوں میں تنازعے کے متاثرین اور وہاں جاری انسانی بحران تک رسائی حاصل کی جہاں ان حالات میں پہنچنا آسان نہیں ہے۔

یمن میں فـضائی بمباری کو اب چھ ماہ ہوگئے ہیں۔ یمن کے دارالحکومت صنعا کے شہری ہر روز یہ گھن گرج فکرمندی کے عالم میں سنتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں اس آواز کا مطلب کیا ہے: آسمان پہ ایک شعلہ سا لپکے گا، لمحے بھر کو تکلیف دہ سنّاٹا، اور پھر گرنے والے میزائل کا دھماکہ۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا مقصد حوثی باغیوں کو شہر سے نکال باہر کرنا ہے۔ حوثی باغیوں نے گذشتہ سال یمنی دارالحکومت صنعا پر معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادارفوجیوں اور ایران کی مدد سے قبضہ کیا تھا۔

اس قبضے کے بعد علاقے میں ایران کے روایتی حریف سعودی عرب نے شمال کی ناکہ بندی کرکے بحری، برّی اور فضائی راستوں کے ذریعے ہونے والی تمام آمدورفت کی سخت نگرانی شروع کردی۔

یمن میں امدادی تنظیم ’آکسفیم‘ کے صدر طارق ریبل کہتے ہیں ’یمن کو درپیش صورت حال دنیا کے بد ترین بحرانوں میں سے ایک ہے۔ یہاں ہر روز فضائی حملے کیے جا رہے ہیں جبکہ زمین پر شدید لڑائی جاری ہے۔ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو ملک ایک سے دو ہفتوں میں قحط سالی کا شکار ہوسکتا ہے۔ ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تنازع شروع ہونے سے اب تک دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

دارالحکومت سے دور، سعودی سرحد کے نزدیک بمباری اور بھی شدید ہے۔ جان بوجھ کر شہریوں پر حملے کیے جانے کی اطلاعات پر اس کی سچائی کا پتہ لگانے کے لیے ہم نے صنعا کو گھیرے میں لیے ہوئے پہاڑی سلسلے کا سفر کیا۔ شہریوں پر کیے جانے والے حملوں کا شمار جنگی جرائم میں ہوسکتا ہے۔

29 اگست کی شام 13 سالہ احمد البینا نے حسب معمول اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ وہ لوگ ایبس کے قصبے کے نزدیکی گاؤں الرابومتوارا کے رہائشی ہیں۔ شام کے چھ بجے سے کچھ ہی دیر قبل دونوں بھائی نزدیکی پانی کی بوتلیں تیار کرنے والی فیکٹری کے لیے روانہ ہوگئے۔

ان کی رات کی شفٹ بس ختم ہونے ہی والی تھی جب وہاں میزائل کا حملہ ہوا۔

فیکٹری میں کام کرنے والے خالد الحبابی نے بتایا کہ ’ایک دھماکہ سنائی دیا اور پھر اس کے بعد ہر چیز آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ زیادہ تر فیکٹری کے ملازمین ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے اورجل کے کوئلہ ہو گئے تھے۔‘

دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود فیکٹری کے ایک اور ملازم اکرم نے بتایا کہ ’سب کچھ ختم ہو گیا ہے کچھ بھی نہیں بچا۔ ہمیں کارکن مشینوں پر جلے ہوئے ملے۔‘

حملے کے دو روز بعد جب ہم جائے وقوعہ پر پہنچے تو پگھلی ہوئی پلاسٹک کے ڈھیر سےاُس وقت بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔

فیکٹری کے مالک نے ہمیں اُس رات شفٹ میں کام کرنے والے افراد کے ناموں کی لسٹ دکھائی۔ اس شفٹ کے آدھے سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے تھے۔ کل 13 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں احمد اور ان کا بھائی بھی شامل تھے۔

Image caption احمد البینا اور ان کا بھائی ایک سعودی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

سعودی عرب کا کہنا تھا کہ پانی کی بوتلوں کی یہ فیکٹری اصل میں اسلحے کی فیکٹری تھی اور وہاں کرائے کے افریقی جنگجوؤں کا تربیتی کیمپ تھا۔ لیکن ہمیں اس جگہ گیسے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ابس کے نزدیک پانی کی بوتلوں کی فیکٹری ان درجنوں شہری اہداف میں سے ایک ہے جن پر سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی فوج کی طرف سے بمباری کی جا چکی ہے۔ اس بمباری کا آغاز مارچ میں ہوا تھا۔

فضائی حملوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن امدادی کام کرنے والے اقوام متحدہ کے اہم عہدیدار یوہانِس وون ڈر کلاو کہتے ہیں کہ شہری اہداف پر ہونے والے یہ حملے جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور فیکٹریوں پر حملے اور بمباری نہیں ہونی چاہیے۔ جنگوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور اس تنازعے میں انھیں پامال کیا جا رہا ہے۔‘

تنازع شروع ہونے سے اب تک دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ دونوں جانب سے جاری زمینی جھڑپوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ شہری علاقوں میں شدید فائرنگ کرنے کا الزام نوعمرحوثی جنگجوؤں پرہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تقریباً 15 لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں

لیکن زیادہ عسکری طاقت سعودی عرب اور اس کی اتحادی خلیجی ممالک کے پاس ہے جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے۔

اتحادیوں کو امریکا اور برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کر رہے ہیں بلکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے رابطہ افسران اور تکنیکی سہولیات بھی مہیا کر رہے ہیں۔

یمن میں آکسفیم کا گودام بھی فضائی حملے کا نشانہ بن چکا ہے۔ آکسفیم کا کہنا ہے کہ برطانیہ اسلحے کی فروخت کی صورت میں ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

طارق ریبل کہتے ہیں: ’یہ کہنا مشکل ہے کہ سعودی عرب کو فروخت کیا جانے والے اسلحے کا استعمال یمن میں نہیں ہوگا۔ اور اگر یمن میں اس کا استعمال نہیں بھی ہوتا تو بھی وہ یمن میں دیگر ہتھیار کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘

دسمبر 2014 میں نافذ ہونے والے اسلحے کی تجارت کے معاہدے کے تحت ایسی صورت میں جبکہ اسلحہ کا جنگی جرائم میں استعمال ہونے کا واضح امکان ہو اسلحے کی فروخت کی ممانعت ہے۔

ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا براہ راست حصہ نہیں ہے۔ لیکن وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سعودی حکومت کو تکنیکی سہولیات اورمخصوص ہدایت کے تحت چلنے والے ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی فضائیہ کے پاس برطانوی اور امریکی ساختہ جنگی جہاز ہیں جن میں ایف 15، ٹورنیڈوز اور یورو فائیٹر ٹائیفونز شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ جنگ سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقے میں طاقت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کا حصہ ہے

رواں سال جولائی میں سعودی عرب کو پانچ سو پاؤنڈ وزنی بم فراہم کیا گیا ہے۔ ’Paveway فور میزائل‘ نامی یہ میزائل خاص طور پر برطانوی فضائیہ کے استعمال کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے مائیکل سٹیفن کہتے ہیں ’سعودی عرب کو درپیش ہتھیاروں کی کمی برطانیہ اپنے ہتھیاروں سے پورا کر رہا ہے۔‘

سعودی عرب فضائی حملوں کے لیے سب سے زیادہ امریکی ساختہ ایف 15 جہازوں کا استعمال کرتا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کی جانب سے یمن میں استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کے بارے میں کسی حد تک معلومات جاری کی جا چکی ہیں۔ سعودی عرب شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے فضائی حملوں کا بھی حصہ ہے۔ لیکن سٹیفن کہتے ہیں کہ برطانوی میزائلوں کا استعمال یمن میں ہو رہا ہے۔

’وہ برطانیہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے کس استعمال کر رہے ہیں۔‘

زمینی جھڑپوں، فضائی حملوں اورناکہ بندی کے مشترکہ طور پر یمن پرتباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تقریباً 15 لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ یمن کی آدھی سے زیادہ آبادی کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ اگلے وقت کا کھانا وہ کہاں سے کھائیں گے۔

بوتلوں کی فیکٹری میں ہلاک ہونے والے احمد اور محمد کے والدین ابراہیم البینا اور ان کی اہلیہ خدیجہ البینا کا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ دونوں بھائی نو افراد پر مشتمل خاندان کے کفیل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن میں جنگ سے بڑی تعداد میں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

احمد کو یاد کرتے ہوئے ان کی والدہ خدیجہ کہتی ہیں کہ وہ بالکل دوسرے نوعمر لڑکوں کی طرح تھh، اپنی سائیکل پر گھومتے رہتا تھے یا پھر کبوتروں کے پیچھے ہوتے تھے۔

ان کے والد ابراہیم کہتے ہیں: ’انھوں نے ہمارے بچے چھین لیے ہیں اور ایک بھی نہیں بلکہ دونوں۔ محمد اور احمد، ایک ساتھ، ایک ہی دن، اور ایک ہی لمحے میں۔ جس نے بھی ہمارے ساتھ یہ کیا ہے خدا ان کے ساتھ بھی ویسا ہے کرے۔‘

حالیہ دنوں میں فضائی حملوں میں شدت آئی ہے۔ ادھر دارالحکومت میں لوگ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب کی حمایتی فوجیں نزدیک آرہی ہیں۔

یہ جنگ سعودی عرب اور ایران کے درمیان علاقے میں طاقت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔

یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کو مکمل حمایت حاصل نہیں ہے بلکہ صورت حال اس سے مختلف ہے۔ لیکن ہر فضائی حملے اورعام شہری کی موت کے بعد سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزاحمت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں