اسرائیلی ’سکنک واٹر‘ کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر اس بدبودار پانی کی غلط استعمال کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے

امریکہ میں اطلاعات کے مطابق پولیس حکام مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیل میں تیار کردہ بدبو دار پانی خریدا ہے۔ یہ بدبو دار پانی جسے ’سکنک‘ بھی کہا جاتا ہے، اصل میں کیا چیز ہے اور اس کا استعمال کیسے ہوتا ہے۔ یہی سوالات بی بی سی نامہ نگار یولانڈے نیل نے اٹھائے ہیں۔

یہ انتہائی متعفن بدبو ہے۔ جن فلسطینیوں پر یہ پھینکا گیا ہے وہ اس کو ’نالی کے پانی سے بھی گندا‘ اور ’فضلہ، مہلک گیس اور مردہ گدھے کے بدبودار جسم سے نکلنے والی بدبو‘ جیسا بیان کرتے ہیں۔

اس کی تیاری اسرائیلی کمپنی اوڈرٹیک نے کی ہے، یہ بدبو دار پانی پہلی بار اسرائیلی فوج نے سنہ 2008 میں مقبوضہ غرب اردن میں مظاہرین کے خلاف استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد سے بکتربند گاڑیوں پر نصب واٹر کننز سے بدبو دار پانی کا چھڑکاؤ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

یہ بدبو دار پانی تیار کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ’اس میں 100 فی صد غذائی اجزا شامل ہیں‘ اور یہ ’100 فی صد ماحول دوست ہے، ماحول اور انسانوں دونوں کے لیے مضر نہیں ہے۔‘

اس کی تیاری کی خفیہ ترکیب میں خمیر، بیکنگ پاؤڈر اور پانی شامل ہے، جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس کی بدبو جسم اور ماحول میں کئی دنوں تک رچی رہ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALAMY
Image caption اس کی بدبو جسم اور ماحول میں کئی دنوں تک رچی رہ سکتی ہے

ایک فلسطینی فوٹوگرافر بتاتے ہیں: ’ایک بار میں ایک دیوار کے ساتھ پھنس گیا اور سر سے پاؤں تک سکنگ میں نہلایا گیا۔‘

’اس کے بعد میری گاڑی بدبودار ہوگئی اور میری بیوی نے گھر کے باہر میرے کپڑے اتروا دیے۔ میرے ایک کیمرے کو نقصان پہنچا اور دیگر سامان میں سے ابھی تک بدبو آتی ہے۔‘

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنکنک‘ ایک موثر، غیرمہلک، منتشر کرنے کے کام آتا ہے اور یہ ہلاک یا زخمی ہونے کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔

پولیس بھی اسے ’غیرانسانی‘ شمار نہیں کرتی۔

غصے سے لبریز ہجوم کے خلاف عام طور پر آنسو گیس یا ربڑ کی گولیوں کا استعمال معمول کی بات ہے، اور بعض اوقات اسلحے کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

ترجمان لبا سمری کا کہنا ہے کہ ’پولیس کو ایک اہم اخلاقی سوال کا سامنا ہے: کیا کسی جذباتی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کسی کو زخمی کرنے کی ضرورت ہے؟‘

’اس آلے کے استعمال سے، اس کا واضح جواب ہے اور اخلاقی مسئلے کا حل بھی موجود ہے کیونکہ مظاہرین کے پرتشدد ہونے کے باوجود ان کو زخمی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘

خیال رہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز پر اس بدبودار پانی کی غلط استعمال کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

گذشتہ سال پولیس نے بڑے پیمانے پر پھیلے انتشار کے وقت مشرقی یروشلم میں اس کی خاصی مقدار کا استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2008 میں اسرائیلی فوج نے رملہ میں مظاہرین کے آنسو گیس کا استعمال کیا

اسرائیل میں ایسوسی ایشن فار سول رائیٹس نے شکایت کی تھی کہ یہ ’غیرمتناسب‘ ہے، جس سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں۔

انھوں نے ایسے واقعات کو اکٹھا کیا جہاں مظاہرین کے علاقہ چھوڑ جانے کے باوجود وہاں گھروں، دکانوں اور سکولوں کو بدبودار پانی سے نشانہ بنایا گیا۔

غرب اردن کے ایک گاؤں کفر قدم میں اسرائیل کی جانب سے ایک قریبی سڑک کی بندش کے خلاف منعقد ہونے والی ہفتہ وار ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مظاہرے کے منتظم کا کہنا ہے کہ اس کے گھر کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

مراد اشتیوے کہتے ہیں: ’کئی مرتبہ جان بوجھ کر میرے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک بار پانی کے شدید دباؤ سے میرے کھڑکی ٹوٹ گئی اور پانی اندر آگیا۔ میرا تمام فرنیچر خراب ہوگیا۔‘

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقع نہیں ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم، بی ٹسیلم کی سارت مائیکلی کا کہنا ہے: ’ہمارے یہ ایک پیچیدہ صورت ہے۔‘

’انتظامیہ امن و امان کے قیام کے لیے غیرمہلک طریقے اپنانا چاہتی ہے۔ لیکن مسئلہ سکنک کے طریقۂ استعمال کا ہے۔

بہت سارے فلسطینی اس بدبو کو تذلیل سمجھتے ہیں، جیسا کہ ’سکنک‘ کا استعمال انھی کے خلاف زیادہ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بدبو دار پانی پہلی بار اسرائیلی فوج نے سنہ 2008 میں غرب اردن میں مظاہرین کے خلاف استعمال کیا تھا

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ کسی اورکے خلاف استعمال کی گئی ہو۔ تاہم رواں سال اپریل میں پولیس کے مبینہ نسلی تعصبانہ رویے کے خلاف مظاہرہ کرنے ایتھوپین اسرائیلیوں پر اس کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ (ممکنہ طور پر پانی ملا کر)

امریکہ کو یہ بدبو دار پانی فراہم کرنے والی امریکی کمپنی مسٹرل سکیورٹی ’بارڈر کراسنگ، اصلاحی مراکز، مظاہروں اور دھرنوں‘ میں اس کا استعمال تجویز کرتی ہے۔

یہی کمپنی اس پانی کا اثر زائل کرنے کے لیے ایک خاص صابن بھی پیش کرتی ہے۔

امریکہ میں پولیس کے کئی شعبوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انھوں نے یہ بدبودار پانی خریدا ہے، جن میں سیٹ لوئیس میٹروپولیٹن پولیس بھی شامل ہے۔

تاہم امریکی مبصرین نے تنبیہ کی ہے کہ امریکہ میں حالیہ مظاہروں کے دوران فضلے جیسی بو والی شے کے استعمال نے پولیس نے خلاف غصے کو مزید بھڑکایا ہے اور اس سے نسلی اور معاشی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔

اگر پولیس حکام پر غلطی سے بدبودار پانی کا چھڑکاؤ ہوجاتا ہے تو اس کے اثر کو زائل کرنے کے لیے ان کے پاس خاص صابن موجود ہے۔

عوام کو یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ تاہم، ایک فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی کیچپ اس کا بہترین تریاق ہے۔ اگر آپ متاثر جگہ پر ٹماٹر کی کیچپ مل کر دھو لیں تو اس کی بدبو کم ہوسکتی ہے۔