ہنگری میں ریکارڈ تعداد میں تارکینِ وطن داخل ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سربیا کے ساتھ سرحد کو عبور کرکے بڑی تعداد میں تارکین وطن ہنگری میں داخل ہو رہے ہیں

مشرقی یورپ میں پناہ گزینوں کے مسئلے پر کشیدگی کے دوران ہنگری میں سنیچر کو ریکارڈ تعداد میں تارکینِ وطن داخل ہوئے ہیں۔

اس سے قبل کہ ہنگری کے حکام سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنے کا کام مکمل کرتے چار ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن سربیا سے ہنگری میں داخل ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ یورپ حالیہ مہینوں سے پناہ گزین کے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر افراد شام کے تشدد اور غربت سے بھاگ کر وہاں پہنچ رہے ہیں۔

یورپی شہروں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہرے

حکومت پناہ گزینوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں سمجھے: جیرمی کوربن

دو دن میں مزید 40 ہزار پناہ گزین جرمنی آ سکتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیادہ تر تارکین وطن مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں

دوسری جانب پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگری کے طریقے پر تنقید جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی تک تقریبا ایک لاکھ، 75 ہزار تارکینِ وطن سربیا سے ہنگری میں داخل ہوئے ہیں۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اس سے قبل سرحد کو بند کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ سربیا کے ساتھ اپنی سرحد پر چار میٹر اونچی باڑ لگانے کا کام مکمل کرنے والا ہے۔

ہنگری نے سرحد پر تعینات پولیس کی مدد کے لیے چار ہزار سے زائد فوجیوں روانہ کیا ہے تاکہ منگل سے نافذ ہونے والی پابندی پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک تھورپے نے ہنگری اور سربیا کی سرحد سے بتایا ہے کہ روسکے پناہ گزین کیمپ میں انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ڈھانچہ تیار ہوگیا ہے۔

Image caption سنيچر کو کئی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے حق میں مظاہرے ہوئے

جمعے کو پناہ گزینوں کے ساتھ جانوروں جیسے سلوک پر تنقید کے درمیان فوٹیج میں یہ نظر آ رہا تھا کہ کیمپ میں پناہ گزینوں پر کھانے کے بیگ پھینکے جا رہے تھے۔

سنیچر کو آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کو نازی جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ روا سلوک کی طرح قرار دیا تھا۔

اس کے جواب میں ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارتو نے کہا کہ فیمین کا بیان توہین آمیز ہے۔

سنیچر کو جو چار ہزار تارکینِ وطن ہنگری میں داخل ہوئے انھیں جانورں کے غول کی طرح ایک میدان میں ہانک کر لایا گيا جہاں پہلے سے درجنوں ٹینٹ موجود تھے اور ان میں اقوام متحدہ کے بھی شامیانے لگے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption بعض علاقوں میں تارکینِ وطن کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی کسی کو یہ علم نہیں کہ جب مسٹر اوربان منگل کو پناہ گزینوں پر کریک ڈاؤن کریں گے تو کیا ہوگا۔

اٹلی اور یونان کے ساتھ ہنگری پناہ گزینوں کے مسائل سے دوچار سرفہرست ممالک میں ہے۔

زیادہ تر پناہ گزین یونان سے مسیڈونیا اور پھر سربیا سے ہنگری میں داخل ہو رہے ہیں اور وہ آسٹریا میں داخل ہوکر مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل کہ وہ ایسا کریں ہنگری کی حکومت انھیں کیمپ میں لے جا کر ان کی رجسٹریشن کرنا چاہتی ہے۔

جرمنی جوکہ بہت سے تارکینِ وطن کا پسندیدہ ملک ہے اس کے شہر میونخ میں سنیچر کو نو ہزار تارکینِ وطن داخل ہوئے۔ ایک تخمینے کے مطابق یہ ملک آئندہ ہفتے تک مزید 40 ہزار تارکینِ وطن کے آنے کی امید رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری سربیا سے ملحق اپنی سرحد پر چار میٹر اونچی باڑ لگا رہا ہے

چانسلر آنگیلا میرکل نے زیادہ تعداد میں تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں آنے دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ یہ درست فیصلہ ہے۔

خیال رہے کہ اس بحران کی وجہ سے یورپی یونین میں شدید تقسیم سامنے آئی ہے۔

یورپی کمیشن نے 25 رکن ممالک میں مزید ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کو کوٹے کے حساب سے رکھنے کی بات کہی تھی لیکن چیک ریپبلک، ہنگری، پولینڈ اور سلوواکیا نے نئے لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کی مخالفت کی تھی۔

گذشتہ روز یورپ کے متعدد شہروں اور آسٹریلیا میں دسیوں ہزار لوگوں نے جلوس نکال کر پناہ گزینوں کی حمایت میں ’یومِ عمل‘ میں حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک کے لیے ہنگری کی تنقید کی جا رہی ہے

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں 30 ہزار کے قریب لوگ پارلیمان کے باہر جمع ہوئے۔ وہ یہ نعرے لگا رہے تھے: ’زور سے بولو، پناہ گزینوں کا یہاں خیرمقدم ہے۔‘

سنیچر کو نو ہزار پناہ گزین جرمنی کے شہر میونخ پہنچے۔ جرمنی کو اس اختتامِ ہفتہ تک ملک میں 40 ہزار پناہ گزینوں کی آمد کی توقع ہے۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ یہ درست فیصلہ ہے۔

لندن میں دسیوں ہزار لوگوں نے وزیرِاعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’سرحدیں کھول دو،‘ اور ’پناہ گزینوں کو آنے دو۔‘

اسی بارے میں