پناہ گزینوں کا بحران:جرمنی بارڈر کنٹرول شروع کر ے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملک میں ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے

جرمن اور آسٹریائی ذرائع ابلاغ کے مطابق بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی آمد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جرمنی اپنی سرحد پر روک تھام کا نظام متعارف کرائے گا۔

ایک معروف جرمن اخبار کے مطابق بارڈر کنٹرول کا نظام جرمنی اور آسٹریا کی سرحد پر نافذ کیا جائے گا۔ تاہم ابھی واضع نہیں کہ یہ نظام کیسا ہوگا۔

واضع رہے کہ اس سے پہلے جرمنی کے شہر میونخ میں حکام کا کہنا تھا کہ شہر میں مزید تارکینِ وطن کو پناہ دینا مشکل ہے۔ شہر کے میئر ڈائیٹر ریٹر کے مطابق سنیچر کو 13,000 پناہ گزین میونخ پہنچے تھے جن کے لیے اب رہائش فراہم کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک سابق اولمپک سینٹر کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا پڑے۔

میونخ کے میئر نے ملک کے دیگر شہروں کی جانب سے تارکینِ وطن کا بوجھ نہ بانٹنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

شامی پناہ گزینوں کے مسئلے پر ہی بات چیت کے لیے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اتوار کو سعودی عرب میں ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے۔

واضع رہے کہ شام میں جاری جنگ سے متاثرہ لوگوں کو پناہ نہ دینے پر حالیہ دنوں میں خلیجی ریاستوں کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

جبکہ دوسری جانب جمعے کو سعودی وزاتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں 2000,000 شامی افراد کو پناہ دی گئی ہے لیکن بعض حلقوں کی جانب سے ان اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زیادہ تر تارکین وطن مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں

مشرقی یورپ میں پناہ گزینوں کے مسئلے پر کشیدگی کے دوران ہنگری میں سنیچر کو ریکارڈ تعداد میں تارکینِ وطن داخل ہوئے تھے۔

اس سے قبل کہ ہنگری کے حکام سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنے کا کام مکمل کرتے چار ہزار سے زیادہ تارکینِ وطن سربیا سے ہنگری میں داخل ہو گئے۔

خیال رہے کہ یورپ حالیہ مہینوں سے پناہ گزین کے مسئلے سے دوچار ہے کیونکہ بڑی تعداد میں تارکینِ وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں اور ان میں زیادہ تر افراد شام کے تشدد اور غربت سے بھاگ کر وہاں پہنچ رہے ہیں۔

یورپی شہروں میں پناہ گزینوں کی حمایت میں مظاہرے

حکومت پناہ گزینوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں سمجھے: جیرمی کوربن

دو دن میں مزید 40 ہزار پناہ گزین جرمنی آ سکتے ہیں

دریں اثنا پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگری کے طریقہ کار پر تنقید جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال ابھی تک تقریبا 175000 تارکینِ وطن سربیا سے ہنگری میں داخل ہوئے ہیں۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے اس سے قبل سرحد کو بند کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ہنگری نے سرحد پر تعینات پولیس کی مدد کے لیے چار ہزار سے زائد فوجیوں کو روانہ کیا ہے تاکہ منگل سے نافذ ہونے والی پابندی پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نک تھورپے نے ہنگری اور سربیا کی سرحد سے بتایا ہے کہ روسکے پناہ گزین کیمپ میں انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ڈھانچہ تیار ہوگیا ہے۔

Image caption سنيچر کو کئی یورپی ممالک میں پناہ گزینوں کے حق میں مظاہرے ہوئے

جمعے کو پناہ گزینوں کے ساتھ جانوروں جیسے سلوک پر تنقید کے دوران ایک فٹیج میں یہ نظر آ رہا تھا کہ کیمپ میں پناہ گزینوں پر کھانے کے بیگ پھینکے جا رہے تھے۔

سنیچر کو آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے ہنگری کی جانب سے پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک کو نازی جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ روا سلوک کی طرح قرار دیا تھا۔

اس کے جواب میں ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارتو نے کہا کہ فیمین کا بیان توہین آمیز ہے۔

سنیچر کو جو چار ہزار تارکینِ وطن ہنگری میں داخل ہوئے جنھیں ایک میدان میں لایا گيا جہاں پہلے سے درجنوں ٹینٹ موجود تھے اور ان میں اقوام متحدہ کے شامیانے لگے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images
Image caption بعض علاقوں میں تارکینِ وطن کے خلاف بھی مظاہرے ہوئے

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی کسی کو یہ علم نہیں کہ جب مسٹر اوربان منگل کو پناہ گزینوں پر کریک ڈاؤن کریں گے تو کیا ہوگا۔

اٹلی اور یونان کے ساتھ ہنگری پناہ گزینوں کے مسائل سے دوچار سرفہرست ممالک میں ہے۔

زیادہ تر پناہ گزین یونان سے مسیڈونیا اور پھر سربیا سے ہنگری میں داخل ہو رہے ہیں اور وہ آسٹریا میں داخل ہوکر مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل کہ وہ ایسا کریں ہنگری کی حکومت انھیں کیمپ میں لے جا کر ان کی رجسٹریشن کرنا چاہتی ہے۔

جرمنی جوکہ بہت سے تارکینِ وطن کا پسندیدہ ملک ہے اس کے شہر میونخ میں سنیچر کو بھی ہزاروں تارکینِ وطن داخل ہوئے۔ ایک تخمینے کے مطابق یہ ملک آئندہ ہفتے تک مزید 40 ہزار تارکینِ وطن کے آنے کی امید رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہنگری سربیا سے ملحق اپنی سرحد پر چار میٹر اونچی باڑ لگا رہا ہے

چانسلر انگیلا میرکل نے زیادہ تعداد میں تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں آنے دینے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر مطمئن ہے کہ یہ درست فیصلہ ہے۔

خیال رہے کہ اس بحران کی وجہ سے یورپی یونین میں شدید تقسیم سامنے آئی ہے۔

یورپی کمیشن نے 25 رکن ممالک میں مزید 120000 پناہ گزینوں کو کوٹے کے حساب سے رکھنے کی بات کہی تھی لیکن چیک ریپبلک، ہنگری، پولینڈ اور سلوواکیا نے نئے لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کی مخالفت کی تھی۔

گذشتہ روز یورپ کے متعدد شہروں اور آسٹریلیا میں دسیوں ہزار لوگوں نے جلوس نکال کر پناہ گزینوں کی حمایت میں ’یومِ عمل‘ میں حصہ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک کے لیے ہنگری کی تنقید کی جا رہی ہے

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں 30000 کے قریب لوگ پارلیمان کے باہر جمع ہوئے۔ وہ یہ نعرے لگا رہے تھے: ’زور سے بولو، پناہ گزینوں کا یہاں خیرمقدم ہے۔‘

لندن میں دسیوں ہزار لوگوں نے وزیرِاعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی طرف مارچ کیا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’سرحدیں کھول دو،‘ اور ’پناہ گزینوں کو آنے دو۔‘

اسی بارے میں