برطانوی سکولوں میں انسانی حقوق کی تعلیم کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اس منصوبے کےتحت انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے بارے میں تعلیم دے جائے گی

برطانوی سکولوں میں انسانی حقوق کی سرگرم امریکی کارکن کیری کینیڈی کے تیار کردہ منصوبےکے تحت بچوں کو انسانی حقوق کے بارے میں تعلیم دی جائے گی۔

اس منصوبے کے تحت سکول میں بچوں کو مذہبی آزادی، غلامی، سیاسی تشدد اور جبر جیسے موضوعات پڑھائے جائیں گے اور اس کا مقصد سکولوں میں شام کے پناہ گزینوں کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور بحث شروع کرنا ہے۔

وزیر تعلیم نکی مورگن نے اس منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ’جمہوریت، احترام اور رواداری‘ کے بارے میں بحث شروع کی جائے۔

یہ پراجیکٹ آر ایف کے ہیومن رائٹس نے شروع کیا ہے جو کیری کینیڈی کے والد امریکی سیاست دان رابرٹ کینیڈی کی یاد میں بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کیری کینیڈی نے یہ پراجیکٹ اپنے والد کی یاد میں شروع کیا ہے

’سپیک ٹروتھ ٹو پاور‘ یعنی ارباب اختیار سے سچ بولنا کے منصوبے کے تحت طالب علموں کو انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے بارے میں تعلیم دے گا جنہوں نے جبر کو چیلنج کرنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

کیری کینیڈی اس پراجیکٹ کو پیر کے دن سے شروع کر رہی ہیں۔

انتہا پسندی کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری اب انگلینڈ کے سکولوں پر عائد ہے۔وزیر تعلیم چاہتی ہیں کہ اس مفت پراجیکٹ سے بچے معاشرے کے فعال شہری بنیں۔

اس منصوبے کےتحت اساتذہ کو آن لائن مواد تک رسائی حاصل ہوگی جن سے وہ بچوں کو تعلیم دے سکیں گے۔

نکی مورگن نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام نوجوان سکول سےنکلنے پر خود اعتماد اور پر عزم ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ’نفرت سب سے بڑا مسئلہ ہے‘ اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہے۔ چاہے وہ شام میں سیاسی جبر ہو یا نائیجیریا میں خواتین پر جبر کرنے والے بوکو حرام جیسے گروہ۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سکولوں میں اب بھی تعصب کی زبان بولی جاتی ہے جیسے کہ لڑکیوں کے ساتھ صنفی امتیاز یا پھر کسی کی ہم جنس پرستی کا مذاق اڑانا۔

اسی بارے میں