کوربن کی شیڈو کابینہ میں کوئی پاکستانی نژاد نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بائیں بازو کے راہنما جان میکڈونل کی بطور شیڈو چانسلر تعنیاتی کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

برطانوی اپوزیشن لیبر پارٹی کے نو منتخب سربراہ جیریمی کوربن نے اپنی شیڈو کابینہ کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن انھیں پارٹی کو متحد رکھنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ شیڈو کابینہ کے کئی ایک سینئیر اراکین مسٹر کوربن کی سربراہی میں کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شیڈو منسٹرز ایویٹ کوپر اور لز کینڈل جیسے اہم لیبر رکن پارلیمان نے کوربن کی کابینہ کا حصہ بننے سے معذرت کی ہے۔

لیبر پارٹی کے سابق سربراہ ایڈ ملی بینڈ کی شیڈو کابینہ کے برعکس، جیریمی کوربن کی کابینہ میں فی الحال کسی پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ کو نامزد نہیں کیا گیا۔ گزشتہ کابینہ میں صادق خان شیڈو جسٹس سیکرٹری جب کہ شبانہ محمود وزارت خزانہ کی شیڈو چیف سیکرٹری تھیں۔ صادق خان لندن کے مئیر کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے شیڈو کابینہ سے مستعفی ہو گئے تھے لیکن شبانہ محمود جیریمی کوربن کے منتخب ہونے کے بعد مستعفی ہو گئی تھیں۔ انھوں نے لیبر پارٹی کے سربراہ کے لیے ہونے والے انتخابات میں جیریمی کوربن کی مخالف لز کینڈل کی حمایت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شیڈو جسٹس سیکرٹری صادق خان لندن کے مئیر کا انتخاب میں حصہ لینے کے لیے شیڈو کابینہ سے مستعفی ہو گئے تھے

کوربن کی شیڈو کابینہ میں کسی خاتون کو اہم عہدہ نہ ملنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی پاکستانی نژاد رکن پارلیمان یاسمین قریشی کا کہنا ہے کہ خواتین کو اہم عہدے نہ دینے کا اعتراض قبل از وقت ہے کیونکہ شیڈو کابینہ میں ابھی آٹھ مزید عہدوں کے فیصلے ہونے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شیڈو کابینہ میں ابھی کئی عہدوں کا فیصلہ ہونا ہے تو شاید یہ کہنا ابھی درست نہ ہو گا کہ ماضی کے برعکس کسی پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ کو شیڈو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔

برطانیہ کی حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی نے بائیں بازو کے نظریات کے حامی سینیئر سیاستدان جیریمی کوربن کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔ ابتدائی طور پر کوربن کو اس الیکشن کے لیے اہم امیدوار نہیں سمجھا جا رہا تھا تاہم انھوں نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

اس عہدے کے لیے ان کا مقابلہ سابق وزرا اور اینڈی برنہیم، ایویٹ کوپر اور شیڈو منسٹر لز کینڈل جیسے اہم لیبر رکن پارلیمان سے تھا۔ کوربن نے الیکشن میں دو لاکھ 51 ہزار چار سو سترہ ووٹ لیے جو کہ کل ڈالے گئے ووٹوں کے 59 فیصد تھے جبکہ ان کے قریب ترین حریف اینڈی برنہیم کو صرف 19 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ایویٹ کوپر نے اس الیکشن میں 17 فیصد جبکہ لز کینڈل نے صرف ساڑھے چار فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی بارے میں