’امتیازی سلوک کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کروں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مس پاؤ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر وہ سمجھ سکتی ہیں کہ امتیازی سلوک کا حل عدالت کے ذریعے نکالنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے

سیلیکان ویلی کی سابق ایگزیکٹو نے اپنے سابقہ ادارے کے خلاف جنسی بنیادوں پر تفریق کا کیس ہارنے کے خلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایلن پاؤ نے کیس کا فیصلہ آنے کے بعد لکھےگئے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ وہ اپنے مقدمے کو مزید چلانے کے لیےاخراجات برداشت نہیں کر سکتیں۔

ایلن پاؤ نے اپنی سابقہ کمپنی کےخلاف کیس کیا تھا کہ خاتون ہونے کی وجہ سے ان کی ترقی کے کئی مواقع ضائع کیےگئے اور شکایت کرنے کی صورت میں انھیں نوکری سے برطرف کر دیاگیا۔ لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں کمپنی کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ مس ایلن پاؤ کی ترقی کے بارے میں فیصلے صرف ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیےگئے۔

اپریل میں کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد کمپنی کی ترجمان کرسٹینا لی کہنا تھا کہ ’ہم کمپنی میں مرد وخواتین کو یکساں مواقع دینے جیسے کام جاری رکھیں گے۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایلن پاؤ کو ان کی سابقہ کمپنی ’کلائینر پرکنز کولفیلڈ اینڈ بائیرز‘ کے ساڑھے چھ لاکھ ڈالرز کے قانونی اخراجات بھی ادا کرنے حکم دیا تھا۔ لیکن کمپنی نے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کرنے کی صورت میں ایلن کو قانونی اخراجات ادا سے اسشنٰی دینے کا اعلان کیا تھا۔

ٹیک کمیونٹی میں کیس کی اہمیت اس لیے زیادہ تھی کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرد و خواتین کو ترقی کے یکساں مواقع دینا کا موضوع اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ اس سیکٹر میں عمومی طور پر سفید فام مردوں کا غلبہ دیکھا گیا ہے اور بہت سی بڑی کمپنیوں نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے وعدے کیے ہیں۔

’ذاتی تکلیف‘

مس پاؤ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا کہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر وہ سمجھ سکتی ہیں کہ امتیازی سلوک کا حل عدالت کے ذریعے نکالنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر یہ کیس کافی دردناک تجربہ تھا۔

’ری کوڈ نامی ویب سائٹ پر لکھے گئے آرٹیکل میں انہوں نے قانونی نظام اور اس پر آنے والی لاگت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کمپنیوں سے بھی اپیل کی کہ ہراساں کرنے اور امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے والے ملازمین کو خاموش نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ متوازن اور مکمل مؤقف کو سامنے آنے دیا جائے تا کہ سب اس سے سیکھ سکیں۔

اسی بارے میں