کویت مسجد حملہ: سات افراد کو موت کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نجد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

کویت میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر خودکش حملے کے الزام میں سات افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ گذشتہ سال 26 جون کو ہونے والے اس حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملہ آوروں کا مقصد کویت شہر میں اہلِ تشیع کی مسجد امام صادق کو اڑانا تھا۔

آٹھ دیگر مشتبہ افراد کو دو اور 15 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 14 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جج محمد الدوائج نے بھری عدالت میں سزائیں سناتے ہوئے کہا کہ ’یہ عدالت اس انتہا پسند نظریہ کے خطرات کو توجہ دینا چاہتی جو اپنے نظریے کو نفاذ کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لیتی ہے۔‘

انھوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس جہادی نظریات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں۔

کویت کے وزرات داخلہ نے ایک خودکش حملہ آور کی شناخت سلیمان عبدالمحسن القعبہ کے نام سے کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مسجد پر حملے سے کچھ دیر قبل ہی کویت پہنچا تھا۔

سات کویتی شہریوں کے علاوہ پانچ سعودی عرب کے شہری، تین پاکستانی شہری، کویت کے بے وطن گروہ بدون کے 13 ارکان اور نامعلوم قومیت کے ایک مفرور شخص پر بھی مقدمہ کیا جا رہا ہے۔ ان سات افراد کی قومیت اس وقت واضح نہیں ہوئی ہے جنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

حملے کے دن فرانس اور تیونس میں بھی دہشت گردی کے حملے ہوئے تھے۔

شام اور عراق میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے لیے سبھی ریاستیں امریکہ کی زیرِ قیادت اتحادی افواج کا حصہ ہیں۔

اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم شیعہ مسلمان کو بدعتی قرار دیتی ہے۔

اسی بارے میں