بن لادن گروپ ’کسی حد تک‘ مکہ میں کرین حادثے کا ذمہ دار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرین حادثے میں 107 افراد ہلاک ہوگئے تھے

سعودی حکام کے مطابق تعمیراتی کمپنی سعودی بن لادن گروپ ’کسی حد تک‘ مسجد الحرام میں پیش آنے والے کرین کے حادثے کا ذمہ دار ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کی شام مکہ میں واقع دنیا کی سب سے بڑی مسجد کے صحن میں شدید طوفانِ بادوباراں کے دوران ایک کرین مسجد کی تیسری منزل کی چھت توڑتی ہوئی نیچے آ گری تھی۔

حادثے کے نتیجے میں 107 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ زخمیوں کی تعداد 400 کے قریب بتائی جاتی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تحقیقاتی کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بن لادن کمپنی نے حفاظت کے اصولوں کا احترام نہیں کیا۔

یاد رہے کہ بن لادن کمپنی القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کے خاندان کی ملکیت ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کا کہنا ہے کہ کمپنی مالکان کو واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک یرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران فرم کو کوئی عوامی ٹھیکہ نہیں دیا جائے گا۔

یہ حادثہ حج سے چند ہی روز قبل پیش آیا ہے۔

خیال رہے کہ بن لادن گروپ گذشتہ چار سال سے مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ اس کمپنی کو اسامہ بن لادن کے والد نے 80 سال قبل قائم کیا تھا جسے اب اسامہ کے بھائی بکر چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بن لادن کمپنی گذشتہ چار سال مسجد الحرام کے توسیعی منصوبے میں کام کر رہی ہے

سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو دس لاکھ سعودی ریال جبکہ زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہونے والوں کو بھی دس لاکھ اور دیگر زخمیوں کو پانچ، پانچ لاکھ سعودی ریال دیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ زخمیوں کو اگلے سال بطور شاہی مہمان حج کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

مکہ میں عازمینِ جج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

اگرچہ اس عمل کے دوران بہت سے ایسے تاریخی مقامات بھی منہدم کیے گئے ہیں جو پیغمبر اسلام کے زمانے کے تھے لیکن سعودی حکام کا موقف ہے کہ حاجیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے یہ اقدامات ضروری ہیں۔

ماضی میں بھی حج کے موقعے پر سعودی عرب میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔

سنہ 2006 میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر رمی جمرات کے دوران بھگدڑ مچنے سے ساڑھے تین سو کے قریب حاجی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں