’انسانی سمگلروں نے جان بوجھ کر کشتی ڈبوئی‘

Image caption جے، اب بھی برطانیہ پہنچ کر اپنے خاندان والوں سے ملنے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ برطانیہ میں انھیں پناہ گزین سمجھا جائے

یونان کے ساحل کے نزدیک اتوار کو غرق ہونے والی پناہ گزینوں کی ایک کشتی کے زندہ بچ جانے والے 90 سے زیادہ مسافروں کو یونانی جزیرے لیروس لایا گیا ہے۔

اس حادثے میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے جن میں 14 عراقی اور شامی بچے بھی شامل ہیں۔

زندہ بچ جانے والے ایک پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا کہ لکڑی سے بنی یہ کشتی ترکی سے یونان کے سفر پر نکلی تھی اور فارماکونیسی نامی جزیرے سے تین سو میٹر کے فاصلے پر ڈوب گئی تھی۔

عراق سے تعلق رکھنے والے جے نامی پناہ گزین نے کہا کہ جب پانی کشتی میں داخل ہونے لگا تو اس وقت بھی بہت سے افراد اس میں پھنسے ہوئے تھے۔

ان کے مطابق وہ بہت افسردہ ہیں کہ ان میں سے بیشتر کو نہیں بچا پائے۔

جے نے کہا کہ ’میں نے بچوں اور عورتوں کو مرتے دیکھا لیکن کچھ نہیں کر سکا۔ وہاں بہت سی عورتیں اور بچے تھے۔‘

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کشتی ڈبونے کے ذمہ دار شامی سمگلر تھے جنھوں نے کشتی کے فرش میں ہتھوڑے مار کر سوراخ کیا تاکہ اس میں پانی بھر جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لیروس میں یونانی حکام نے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے بعد انھیں پناہ فراہم کی ہے

جے کے خیال میں اس اقدام کی ممکنہ وجہ فارماکونیسی کے جزیرے پر تعینات یونانی فوج کی توجہ حاصل کرنا تھی۔

لیروس میں موجود ان پناہ گزینوں سے ملاقات کرنے والے رضاکاروں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے وہ سب افراد خشکی پر پہنچنے کے باوجود خوف کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

جزیرے پر ایک مکان کے مالک ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے جیٹ جیکبسن کے مطابق ’وہاں بچے تھے، لڑکیاں، لڑکے ان کے والدین اور بالغ افراد بھی اور وہ سب رو رہے تھے اور چیخ رہے تھے۔‘

تاہم کچھ ایسے پناہ گزین بھی تھے جو سہمے ہوئے اور خاموش تھے۔

ان سب نے اس پرہجوم کشتی میں جگہ پانے کے لیے بظاہر ساڑھے 12 سو سے ڈھائی ہزار یورو کے درمیان رقم ادا کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پناہ گزینوں کو ابتدائی طور پر لیروس کے ساحل پر لایا گیا تھا

اب ان میں سے بیشتر کو لیروس کے ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے جہاں ماہرینِ نفسیات ان کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جے، اب بھی برطانیہ پہنچ کر اپنے خاندان والوں سے ملنے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن وہ نہیں چاہتا کہ برطانیہ میں اسے پناہ گزین سمجھا جائے۔

اس کا کہنا ہے کہ ’مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ مجھے پیسہ نہیں چاہیے۔ مجھے بس ان کے پاس جانا ہے۔ میں مرد ہوں۔ میرے ہاتھ ہیں، میں کام کر سکتا ہوں۔‘

اسی بارے میں