پناہ گزینوں کا ’جنگل‘ میں بازار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جس علاقے میں دکانیں اور ریستوران موجود ہیں لوگوں نے اسے بازار کہنا شروع کر دیا ہے

فرانسیسی گزرگاہ کیلے کے قریب ایک عارضی کیمپ میں ہزاروں پناہ گزین کس مپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں خستہ حال، ٹوٹے پھوٹی دکانیں، سکول، ریستوران اور تفریحی مقامات ان کی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سامنے آئے ہیں۔

بی بی سی کے ہاورڈ جانسن بعض ایسے باہمت افراد سے ملے جنھوں نے ’جنگل میں میں کاروبار‘ کا آغاز کیا ہے۔

بادلوں میں سے ڈھکے ہوئے آسمان تلے پناہ گزینوں کے پھیلے ہوئے خیمے اور کیمپ۔ پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی ہے اور اس کے اثرات یہاں کے رہائشیوں کے چہروں پر عیاں ہیں لیکن افغان کیفے میں ماحول غمگین نہیں ہے۔

تین افغان افراد شیشہ حقہ پھونکتے ہوئے ہنستے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی وہ چاول اور سبزی کھاتی دو ایریٹین لڑکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایک اور مُستطیل خیمے میں مرغی اور تیل سے بھرا برتن پڑا ہے اور خیمے کے اندر پڑے چولھے سے نکلنے والی گرمی باہر کے ٹھنڈے موسم کے باوجود خوش آمدید کہہ رہی ہے۔

ایک فرانسیسی عیسائی فلاحی تنظیم ’سیکورز کیتھولک‘ کا اہلکار میٹھی چائے کا ایک پیالہ پینے کے لیے وہاں داخل ہوتا ہے۔ اس کچن کو چلانے والے 47 سالہ سکندر کا تعلق افغانستان کے صوبے نورستان سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیادہ تر دکانیں افغان پناہ گزین چلا رہے ہیں

سکندر نے سنہ 2007 میں جنگ کی وجہ سے اپنا ملک برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی امید پر چھوڑ دیا تھا۔ اس وقت سے وہ اٹلی، ناروے اور فرانس میں وقت گزار چکے ہیں۔ تاہم رواں سال جون سے وہ کیلے کے کیمپ میں منتقل ہو گئے ہیں۔

کیلے کے کیمپ میں آنے کے فوراً بعد سکندر نے دو بار سمگلروں کی مدد سے برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن وہ دونوں بار ناکام رہے۔ اس کے بعد ٹرکوں کے ذریعے سرحد عبور کرنے میں ہونے والے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے سکندر نے کیمپ میں پہلا ریستوران کھوالنے کا ارادہ کیا۔

سکندر نے پیاز کاٹتے ہوئے ہاورڈ جانسن کو بتایا کہ ’کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر ہے۔ میں نے صرف آلو اور روٹی سے آغاز کیا اور بطور پہلے کاروبار کے یہ بھی اچھا ہے کیونکہ کیمپوں میں موجود افراد کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے اور یہاں بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

تین شراکت داروں کی مدد سے سکندر دن میں تقریباً ایک سو افراد کو کھانا کھلاتے ہیں۔

’ہم یہاں 17 سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ جب میں جاگتا ہوں تو کام کرنا شروع کر دیتا ہوں اور سونے تک کرتا رہتا ہوں۔‘

سکندر نے بتایا کہ اگر کوئی اچھا دن ہو تو وہ 50 یوروز تک کما لیتے ہیں۔ لیکن جہاں کامیابی ہو تو وہاں اس عمل کی نقل بھی شروع ہو جاتی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔

Image caption چکن اینڈ چپس نامی اس دکان کی مقبولیت اس لیے زیادہ ہے کیوں کہ اس کے برابر میں ہی ایک نائٹ کلب بھی ہے

’دوسرے لوگوں نے دیکھا اور کہا: ’اوہ یہ ریستوران یہاں موجود ہے۔‘ اس کے بعد سے اب یہاں بہت سے ریستوران کھل گئے ہیں لیکن پھر بھی گاہک آ جاتے ہیں کیونکہ ہمارا کھانا دوسروں سے بہتر ہے اور یہ گاہک کہتے ہیں۔‘

ان کیمپوں کے گرد گھومنے سے یہ معلوم ہوا کہ یہاں 20 سے زائد دکانیں اور ریستوران اس وقت موجود ہیں۔یہ ریستوران یہاں کا دورہ کرنے والے فلاحی اداروں کی جانب سے لگائے جانے والے کھانوں کے مراکز جن کے باہر لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں، کے متبادل کے طور پر کھانا دے رہے ہیں۔

یہ ریستوران کیمپوں کے درمیان گزرنے والی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر واقع ہیں اور انھیں دکانوں کو چلانے والوں میں زیادہ تر تعداد افغانیوں کی ہے۔

کچھ لوگوں نے تو اس علاقے کو ’دی مارکیٹ‘ یعنی بازار کہنا شروع کر دیا ہے۔

زیادہ تر دکانوں پر ایک جیسی اشیا ہی فروخت کی جاتی ہیں جیسا کہ پانی، موبائل کارڈز، ٹوتھ پیسٹ، صابن اور سبزیوں کا تیل۔

دکانداروں سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کیلے کی سپر مارکیٹ سے یہ تمام اشیا خرید کر شاپنگ ٹرالی کے ذریعے کیپموں تک لاتے ہیں۔

دکان سے باہر آنے پر چند لوگوں کے اچھلنے کودنے کی آوازیں آئیں۔ یہ آوازیں کیمپوں کے نائٹ کلب سے آ رہی تھی جسے ایریٹریا سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک گروہ چلا رہا ہے۔

اسی نائٹ کلب میں موجود الگ بیٹھی کچھ خواتین کھانا اور مشروبات بنانے میں مصروف تھیں۔ یہاں آپ کو بیئر ’شراب‘ کا ایک کین 1.50 یورو میں ملے گا۔

Image caption بعض دکاندار اپنی اشیا کی حفاظت کے لیے بہت احتیاط کرتے ہیں

کلب کے بالکل برابر میں ’چکن اینڈ چپس‘ شاپ ہے۔ اس دوکان کے مالک سعید ہیں اور ان کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔

سعید نے یہ دکان کھولنے کا کیوں اور کیسے سوچا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں یہ نہ کروں تو میری بیوی اور بچوں کو پیسے کون بھیجے گا؟ یہاں زندگی بالکل جانوروں جیسی ہے۔ میں بہت محنت کرتا ہوں اور میں جانور نہیں ہوں، میں آپ جیسا ہی انسان ہوں۔‘

کیمپ سے جانے سے پہلے میں نے ایک بار پھر سکندر سے ملاقات کی اور پوچھا کہ کیا اس کاروبار کو چلانے اور ساتھ ہی کیلے چھوڑنے کے ارادے کی وجہ سے ان کو کوئی مشکل پیش آئی ہے؟

سکندر نے کہا: ’نہیں نہیں، میں اب بھی برطانیہ جاؤں گا، ہو سکتا ہے کہ کل یہ جنگل ختم ہو جائے تو سب ختم ہو جائے گا۔ تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں جنگل میں کاروبار کا آغاز کر سکتا ہوں تو میں شہر میں اس سے بہتر کر سکتا ہوں۔

’میں تب تک یہاں ہوں جب تک میرے پاس کچھ پیسے جمع نہیں ہو جاتے اور کوئی محفوظ راستہ نہیں مل جاتا۔ اس وقت میں انگلینڈ چلا جاؤں گا۔‘

اسی بارے میں