سری لنکا جنگی جرائم کی تحقیقات کروائے: اقوامِ متحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption جنگ کے بعد کئی تمل شہری آج بھی بے گھر اور کئی لاپتہ ہیں

اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سری لنکا سرکاری فوج اور تمل باغیوں کے درمیان طویل تنازعے کے دوران ہونے والے ’جنگی جرائم‘ کی تحقیقات کروائے۔

خاصی تاخیر سے آنے والی اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے دونوں فریقوں پر سفاکانہ ظلم و زیادتی کے الزامات عائد کیے ہیں، خاص طور پر سنہ 2009 کے دوران جنگ کے آخری دنوں میں۔

سری لنکا کا کہنا ہے کہ وہ مقامی طور پر تفتیش کرے گی لیکن اقوام متحدہ کی کسی ایسی عدالت کو ملک میں آنے کی اجازت نہیں دے گی جس میں غیر ملکی جج بھی شامل ہوں۔

اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق سری لنکا کی آخری فوجی کارروائی میں کم از کم 40 ہزار تمل ہلاک ہوئے تھے۔

اس ہفتے سری لنکا کی نئی حکومت نے جنگی جرائم کے الزامات کی تفتیش کرنے کے لیے سچائی و مفاہمت کمیشن قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

صدر مہندا راجاپکشے کی پچھلی حکومت نے بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اس معاملے کی تحقیقات نہیں کیں۔

جنیوا میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے کمشنر زید رعد الحسین نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ایسی خصوصی عدالت ہی، جس میں بین الاقوامی میجسٹریٹ اور تفتیش کار ہوں، 2011 سے قبل نو سال کے عرصے میں کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینے کی اہل ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہماری تفتیش نے سری لنکا میں ہونے والے خوفناک استحصال کو سامنے لا کر رکھ دیا ہے جس میں بلا تفریق گولہ باری، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، تشدد اور جنسی تشدد کی خوفناک کہانیاں، بچوں کی بھرتی اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption دونوں فریقوں پر مظالم کے الزامات ہیں

سری لنکا کے ایک سینئر وزیر رجیتھا سینارتنے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جنگی جرائم پر ہمارا موقف یہ ہے کہ ہمیں مقامی تفتیش کی ضرورت ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی قبول کیا جائے۔ ہم اس وقت بین الاقوامی تحقیقات پر متفق ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ احتساب کے وعدے کرنے کے باوجود امکان ہے کہ گذشتہ ماہ منتخب ہونے والی حکومت جنگی جرائم کے مقدمات شروع نہیں کرے گی۔

ملک کے شمال میں کچھ تمل سیاست دان اقوام متحدہ کی قیادت میں ہونے والی تحقیقات کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں کسی مقامی عدالتی عمل پر اعتماد نہیں ہے۔

ایک طرف سرکاری فوج پر الزام ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر بلا تفریق گولہ باری کی ہے تو دوسری طرف تامل ٹائیگرز پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور فرار ہونے والے لوگوں پر فائرنگ کی۔

فوج پر الزام ہے کہ اس نے تامل ٹائیگرز کے رہنماؤں کو ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بھی قتل کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے گذشتہ مارچ میں اپنی رپورٹ شائع کرنی تھی لیکن جب گذشتہ جنوری میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مسٹر راجاپکشے اپنے حریف پائتھریپالا سری سینا سے ہار گئے تو کونسل نے اسے ملتوی کر دیا تھا۔

راجاپکشے کی حکومت نے جنگ کی واقعات کی تحقیق کی تھی لیکن ناقدین کا کہنا ہے اس رپورٹ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

26 سال کی اس طویل جنگ میں کم از کم ایک لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں