’میں سانپوں کے درمیان پیدل چلتا رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دمشق کے نواح میں واقع یرموک کے تباہ شدہ فلسطینی مہاجر کیمپ کے کھنڈرات کے بیچ رہنے والے موسیقار ایہام الاحمد اس تباہی و بربادی کے درمیان دوسروں کے لیے امید کی کرن تھے۔

یرموک کی تباہ شدہ سڑکوں پر بچوں اور دوسرے پناہ گزینوں کے ہمراہ پیانو بجاتے ہوئے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی گئیں۔ ان ویڈیوز کو غلامی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھا گیا۔

لیکن اب ایہام الاحمد بھی ان لاکھوں افراد میں شامل ہوگئے ہیں جو جنگ کی وجہ سے شام چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار آئن پنیل سے گفتگو میں شام سے یورپ کے اپنے سفر کے احوال کے ساتھ ساتھ وہ وجوہات بھی بیان کیں جن کی وجہ سے وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ترکی کا سفر

’یرموک کی جزوی بندش کے چھ ماہ بعد کیمپ کو بالکل ہی سیل کردیا گیا۔ ہمارے کیمپ میں ہر چیز کو آنے سے روک دیا گیا حتیٰ کہ روٹی اور آٹا آنا تک بند ہوگیا۔

’ہم کہتے تھے کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہوا بھی روک دیں۔ اس موقع پر مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنے بچوں کو کس صورتحال سے دو چار کر دیا ہے۔ میں یہاں سے کیوں نہیں گیا؟میں کیا کروں گا؟

’سب سے مشکل وقت وہ تھا جب میں رات کے دو بجے اپنے چھوٹے بچے احمد کے رونے کی آوازیں سنتا تھا۔ وہ بھوکا ہوتا تھا اور ہمارے پاس اسے پلانے کے لیے دودھ نہیں ہوتا تھا۔ میرے پاس کچھ رقم تھی لیکن میں اس سے کچھ خرید نہیں سکتا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’وہ میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا۔ میں نے اس سے زیادہ برا وقت نہیں دیکھا تھا۔

’اس سال اپریل میں اپنی سالگرہ کے دن میں نے کیمپ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میں اب وہاں پیانو بھی نہیں بجا سکتا تھا کیونکہ اس سے مجھے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا پیانو ویگن کے اوپر رکھا، اس کو کارڈ بورڈ سے چھپایا اور نکلنے کی کوشش کی۔

’لیکن ہمیں ایک چوکی پر دولت اسلامیہ کے ایک اہلکار نے روک لیا اور پوچھا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ آلات موسیقی حرام ہیں۔ اور پھر انھوں نے میرا پیانو جلا دیا۔

’میرا ترکی کی سرحد تک پہنچنے کا سفر بہت خطرناک تھا۔ میں چارگھنٹے تک سانپوں کے درمیان پیدل چلتا رہا۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میں وہاں اپنے بچوں کو ساتھ نہیں لایا تھا، کیونکہ وہاں پر مرد بھی ہمت ہار کرگر رہے تھے، اور میں نے وہاں بعض لوگوں کی مدد بھی کی۔‘

ازمیر کا سفر

’مجھے سمندر کے سفر سے بہت ڈر لگتا ہے اور جیسے جیسے میں ازمیر کے قریب پہنچ رہا تھا میرا خوف بڑھتا جارہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا سمندر ویسا ہی ہوگا جیسا میں نے پچھلی بار 2007 میں لاتکیا میں دیکھا تھا؟ کیا یہ مہربان ہوگا یا پھر ویسا ظالم جس نے کچھ دن پہلے ایک بچے کی جان لے لی تھی۔

’میں اس سفر کو جلد سے جلد شروع کرنا چاہتا تھا تاکہ میں جرمنی پہنچ کر اپنے بچوں اور ان کی ماں کو بھی دمشق سے وہاں بلا لوں اور ان کے ساتھ دوبارہ رہ سکوں۔

’ترکی جاتے وقت میں گرد و غبار کے طوفان میں پھنس گیا۔ تیز ہوا چلنے لگی اور سردی بڑھنے لگی۔ سمندر کی لہریں بھی بہت اونچی تھیں۔ میں نے دیکھا یورپ میں لوگ اپنے کیمپوں کے اندر تھر تھر کانپ رہے تھے۔‘

یورپ پہنچنے کے لیے کشتی کا سفر

’ہم ترکی میں دو دن پھنسے رہے کیونکہ ہماری کشتی کی موٹر خراب ہوگئی تھی۔

’خدا کا شکر ہے میں یہاں ہوں، یہ ایک خوشگوار احساس ہے۔ مجھے لگا میں جہاں سے بھی گزر رہا ہوں، وہاں سے ایک نئی امید جنم لے رہی ہے۔

’شام سے ترکی کے سفر نے میرے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا کردی۔ جب میں نے ازمیر میں پانی کی فراوانی اور بلا تعطل بجلی کی سہولیات دیکھیں تو مجھے اپنے اس کیمپ کی زندگی اور اس زندگی کا فرق محسوس ہوا۔

’اب میں یہاں جنگل بھی دیکھ سکتا ہوں اور ایک صاف ستھرے سمندر کا ساحل بھی۔ اتنی دور آجانے کی وجہ سے ابتدا میں تو میں کافی پریشان تھا۔ ایک موقع پر میرا دل چاہا کہ میں لائف جیکٹ لوں اور تیر کر واپس چلا جاؤں۔

’جس سمگلر نے ہمیں کشتی پر سوار کروایا تھا اس کے بارے میں مجھے خدشہ تھا کہ وہ ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے۔ لیکن اب میں یہاں یونان میں بہت خوش اور مطمئین ہوں۔

’میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ کشتی پر سوار تمام لوگ شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔ وہ خوفزدہ اور سہمے ہوئے تھے۔ تاہم یہ ایک آسان سفر ثابت ہوا۔ سمندر پرسکون تھا، میرا خیال ہے کہ کوسٹ گارڈ بھی سو رہے تھے۔

’میرا ڈوبنے کا خوف چلا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں یہاں سے کسی محفوظ مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاؤں گا، جہاں میں اپنے اہل خانہ کو بھی بلا سکوں گا۔ کیونکہ میرے بچے احمد اور کعنان، اور ان کی ماں کسی بھی جگہ کو مزید خوبصورت بنا دیں گے۔

’مجھے امید ہے میں جلد ہی جرمنی پہنچ جاؤں گا اور اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ دوبارہ زندگی گزار سکوں گا۔‘

اسی بارے میں