’یورپ میں ذلت کےسوا کچھ نہیں ملےگا‘

داعش کا شدت پسند تصویر کے کاپی رائٹ IS Propaganda
Image caption داعش کے نزدیک پناہ کی تلاش میں یورپ جانا ’گناہِ عظیم‘ ہے

خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے ویڈیو پیغامات کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے جس میں پناہ کی تلاش میں یورپ جانے والے مسلمانوں کو ایسا نہ کرنے اور دولت اسلامیہ کی خودساختہ خلافت میں آنے کی تلقین کی گئی ہے۔

ویڈیو کے یہ ٹکڑے گزشتہ دنوں دولت اسلامیہ سے وابستہ ایک ٹیوٹر اکاؤنٹ پر شائع کیے گیے ہیں۔یہ پیغامات سوشل میڈیا یعنی سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک مربوط مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔

ان پیغامات میں یورپ میں پناہ گزینوں کے حالیہ بحران کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی سرزمین کو چھوڑ کر جانا ’سنگین گناہ‘ ہے اور یہ کہ یورپ میں انہیں سوائے ذلت اور غیراخلاقی زندگی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

ویڈیوز سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کو اپنے زیرِانتظام علاقوں سے لوگوں کی ہجرت کے بارے میں تشویش ہے۔

’نارِ جہنم‘

عربی زبان میں یہ ویڈیوز دولت اسلامیہ نے شام، عراق اور یمن میں تیار کرنے کے بعد اپنے ٹیوٹر کاؤنٹ پر 16 اور 17 ستمبر کو جاری کیں۔

ان ویڈیوز کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ کے زیرانتظام علاقوں میں زندگی پرسکون اور ’بالکل محفوظ‘ ہے۔ ان میں روزمرہ لڑائی، فضائی بمباری اور اختلاف رائے پر عدم برداشت کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

ان ویڈیوز میں نئے آنے والوں کے لیے جو خیرمقدمی کلمات استعمال کیے گیے ہیں وہ بھرتی کے لیے ان کے پرچار کا حصہ ہیں تاکہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے اپنے زیرانتظام علاقوں میں خودساختہ ’خلافت‘ کے لیے درکار عددی برتری برقرار رکھ سکے۔

دوسری طرف دولت اسلامیہ نے ان ویڈیوز میں پناہ کی تلاش میں یورپ جانے والوں کی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جو ان کے نزدیک، ہجرت کرنے والوں کی تذلیل، محرومی اور امتیازی سلوک سے عبارت ہے اور جہاں وہ سخت موسمی حالات میں خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں یورپ کی ’غیراخلاقی‘ قدروں کا سامنا ہے۔

یورپ میں تارکین وطن کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت اسلامیہ نے اپنے مخاطبین کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یورپ جانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہاں انھیں سکیورٹی اداروں کی بدسلوکی کا سامنا ہوگا۔

ان پیغامات میں کہا گیا ہے کہ یورپ جانا ایک ’سنگین گناہ‘ ہے جس کی سزا ’نارِ جہنم‘ یعنی دوزخ کی آگ ہے۔

’تم کہاں پناہ تلاش کر رہے ہو؟‘

یہ ٹیوٹر پر دولت اسلامیہ کا ہیشٹیگ ہے جسے 31 ہزار مرتبہ پوسٹ کیا گیا ہے۔

ان ویڈیوز میں انتہائی موثر تصاویر سے کام لیا گیا ہے۔ مثلاً ایک ویڈیو میں ایلان کُردی نامی اس عراقی بچے کی تصویر دکھائی گئی ہے جو ہجرت کے دوران سمندر کی بے رحم لہروں کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض زخمی بچوں کی تصاویر بھی استعمال کی گئی ہیں جو داعش کے بقول اتحادی افواج کی بمباری میں مارے گئے تھے۔

سماجی ذرائع ابلاغ پر یہ ویڈیوز دولت اسلامیہ کے بارے میں مثبت پیغام کی ترویج کے لیے کام میں لائی جا رہی ہیں اور ان میں ان ظالمانہ سزاؤں کا کوئی ذکر نہیں جو وہ اپنی نام نہاد خلافت کو للکارنے والوں کو دیتے ہیں۔