’اوباما مسلمان تھے‘ کے تنازع پر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نکتہ چینی کے بعد دونلڈ ٹرمپ جمعہ کو ہونے والی ایک بڑی ریلی میں شریک نہیں ہوئے

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ پر ان کے دوسرے ریپبلکن ساتھی اس بات پر تنقید کر رہے ہیں کہ انھوں نے اس حمایتی کی بات کو آخر غلط کیوں نہیں ٹھہرایا جب اس نے کہا کہ امریکی صدر ایک مسلمان تھے اور وہ امریکی بھی نہیں ہیں۔

جمعرات کی شب نیو ہیمشائر میں ان کی ریلی میں شامل ایک شخص نے ان سے سوال پوچھتے وقت کہا تھا کہ صدر اوباما تو مسلمان تھے ’وہ تو امریکی بھی نہیں ہیں۔‘ مذکورہ شخص نے مزید کہا ’اس ملک میں ایک مسئلہ ہے۔۔۔۔ جسے مسلمان کہا جاتا ہے۔‘

اس بات کو مسٹر ٹرمپ نے ہنس کر ٹال دیا اور اس حامی کی اس بات کے لیے نہ تو تنبیہ کی نہ ہی اس کی تصحیح کی۔

ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ پر ریپبلکن پارٹی کی صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل ان ہی کی پارٹی کے دو دیگر امیدواروں نے شدید نکتہ چینی کی ہے۔

ساؤتھ کیرولائنا کے سینیٹر لنڈزے گراہم نے ایک بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ رویہ غیر مناسب تھا اور اس کے لیے انھیں معذرت پیش کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا ’وہ نفرت انگیز باتوں سے کھیل رہے اور انھیں اسے فوری طور پر درست کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ڈیموکریٹک پارٹی کی ممکنہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی ان پر نکتہ چینی کی اور کہا ان کا اس طرح کے نفرت انگیز بیانات کو مسترد نہ کرنا ’پریشان کن اور غلط ہے۔‘

نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ سیاسی رہنماؤں پر اپنے ایسے بیانات کو ٹھیک کرنا لازمی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’کسی نے بھی میری ٹاؤن ہال کی میٹنگ اگر کوئی ایسی بات کہتا ہے تو میں اس کی تصحیح کردوں گا، اور کہوں گا کہ ’صدر عیسائی ہیں اور وہ اسی ملک میں پیدا ہوئے تھے، تو بس یہی دو چیزیں بذات خود اپنے میں ثبوت ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں اس وقت سب سے آگے ہیں

ادھر وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ نے اس سے متعلق ایک بیان میں کہا ’مسٹر ٹرمپ ایسے پہلے ریپبلکن سیاست دان نہیں ہیں جنھوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات کا اظہار نہ کیا ہو۔‘

اس طرح کی تنقید کے بعد ہی مسٹر ٹرمپ نے جمعے کو ہونی والی ایک بڑی ریلی میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

لیکن مسٹر ٹرمپ کی مہم کے مینیجر کوری لیوانڈوسکی نے ایک بیان میں اس واقعے کو درکنار کرتے ہوئے کہا کہ ریلی میں انھوں نے جو کچھ بھی سنا وہ ’ٹریننگ کیمپ کے متعلق بات تھی۔‘

امریکی صدر باراک اوباما کی پیدائش اور ان کے مذہب کے متعلق اس سے پہلے بھی کئی بار سوالات اٹھائے جا چکے ہیں اور صدر نے اس سے متعلق کھل کر بات بھی کی ہے کہ وہ عیسائی مذہب پر اعتقاد رکھتے ہیں اور وہ امریکہ کی ریاست ہوائی میں پیدا ہوئے تھے۔

سنہ 2011 میں اسی طرح کی ایک مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر اوباما کو امریکہ میں اپنی پیدائش سے متعلق چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ کینیا میں پیدا انھیں ہوئے تو تو اس طرح کی افواہوں کے ازالے کے لیے وہ اس کا ثبوت پیش کریں اور صدر نے اس کا ثبوت پیش بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں