تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں 13 ہلاک، 13 لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشتی پر 46 افراد سوار تھے جن میں سے 20 کو بچا لیا گیا ہے

ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق یورپ میں پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کی ایک کشتی اور بحری جہاز میں تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ترکی کے کوسٹ گارڈز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ ترکی کی بندرگاہ کیناکیل کے قریب پیش آیا۔ حادثے کا شکار ہونے والی مہاجرین کی یہ کشتی یونانی بندرگاہ لیزبوس کی جانب جا رہی تھی جو مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کی پہلی منزل بن چکی ہے۔

خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ اس کشتی پر 46 افراد سوار تھے جن میں سے 20 کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 13 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کا بلقان کے راستے یورپ میں داخل ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور قیاس ہے کہ دس ہزار کے قریب افراد گذشتہ 24 گھنٹوں میں آسٹریا پہنچے ہیں، جن میں سے بیشتر کی تعداد کروئیشیا اور ہنگری کے راستے شمالی اور مغربی یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پناہ کی تلاش میں آنے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے

مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک میں اختلافات برقرار ہیں۔

تارکینِ وطن کے معاملے پر مختلف حکومتوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یورپ میں شمال مشرق کے راستے سے داخل ہونے والوں کو ایک ملک کی سرحد سے دوسرے ملک کی سرحد کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

پناہ کی تلاش میں آنے والے ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے اور وہ جرمنی اور سیکنڈے نیویا کے ممالک میں پناہ لینے کے خواہشمند ہیں۔

ادھر آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات بارہ بجے سے شام تک نو ہزار کے قریب پناہ گزین ہنگری سے سرحد عبور کر کے آسٹریا پہنچے اور دن کے اختتام تک یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

آسٹریا پہنچنے والوں میں سے پانچ ہزار کے قریب نے گراز نامی شہر کے قریب سے سرحد عبور کی جبکہ چار ہزار افراد دارالحکومت ویانا کے قریب واقع نکلزڈروف کے سرحدی راستے سے آسٹریا میں داخل ہوئے۔

یہ وہ پناہ گزین ہیں جو سربیا سے کروئیشیا میں داخل ہوئے تھے لیکن وہاں کے حکام نے یہ کہتے ہوئے انھیں ہنگری کی جانب روانہ کر دیا تھا کہ ان کا ملک ان 20 ہزار پناہ گزینوں کا انتظام نہیں کر سکتا جو بدھ کے بعد سے وہاں آئے ہیں۔

ہنگری نے کروئیشیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن نہ کر کے یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے تاہم اب بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ خود ہنگری نے بھی ان افراد کی رجسٹریشن نہیں کی اور انھیں آسٹریا کی جانب بھیج دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مرکزی یورپ میں موجود حکومتیں اپنی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکنے کی وجہ سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہی ہیں

آسٹریا کے علاقے برگن لینڈ کی پولیس کے نائب سربراہ کرسچیئن سٹیلا نے آسٹریلوی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنگری کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کے سلسلے میں بوقت خبردار نہیں کیا گیا۔

ملک کے وزیرِ داخلہ جوہانا میک لیٹنر نے بھی ہمسایہ ممالک پر یورپی یونین کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کروئیشیا سے مزید پناہ گزین سلووینیا کے راستے آ سکتے ہیں۔

ہنگری سے آسٹریا پہنچنے والے ایک پناہ گزین نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے نیا جنم لیا ہے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ کتنی تاخیر ہو اور مجھے یہاں دو دن بھی رکنا پڑے، اہم بات یہ ہے کہ میں بالاخر یہاں پہنچ گیا ہوں اور محفوظ ہوں۔‘

ادھر ہنگری اور کرؤئیشیا کے درمیان پناہ گزینوں کے معاملے پر تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

کروئیشیا کے وزیرِ اعظم زوران میلانووچ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے ملک کا پناہ گزین بھیجنے کے بارے میں ہنگری سے کوئی معاہدہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے انھیں زبردستی بھیجا اور ہم یہ عمل دہراتے رہیں گے۔‘

ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر زیجارتو نے کروئیشیا کے وزیرِاعظم کے اس اقدام کو ’نہایت افسوسناک‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پناہ کی تلاش میں آنے والے ان افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے اور وہ جرمنی اور سیکنڈے نیویا کے ممالک میں پناہ لینے کے خواہشمند ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’ایمانداری سے پناہ گزینوں کو سہولت فراہم کرنے کی بجائے انھوں نے پناہ گزینوں کو سیدھا ہنگری بھیج دیا۔ یہ کس قسم کی یورپی یکجہتی ہے؟‘

ہنگری نے کروئیشیا پر پناہ گزینوں کی رجسٹریشن نہ کرنے کا الزام بھی لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ تمام پناہ گزینوں کو رجسٹر کرنے کے بعد ہی شمالی یورپ کی جانب جانے کی اجازت دے گا۔

تاہم ہنگری سے آسٹریا پہنچنے والے کئی پناہ گزینوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہنگری میں بھی ان کا اندراج نہیں کیا گیا اور بسوں میں بٹھا کر سرحد پر لا کر یہ کہتے ہوئے اتار دیا گیا کہ وہ ریلوے لائن عبور کر کے آسٹریا چلے جائیں۔

تارکینِ وطن کا بحران اہم تاریخیں:

  • 13 جولائی کو ہنگری ہمسایہ مک سربیا سے متصل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا آغاز کیا۔
  • 19 اگست کو جرمنی نے کہا کہ وہ متوقع طور پر رواں برس میں پناہ کے حصول کے لیے آٹھ لاکھ تاکینِ وطن کی درخواستیں وصول کرے گا۔
  • 27 اگست کو آسٹریا میں ایک ٹرک میں سے 71 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
  • 02 ستمبر کو تین سالہ شامی کرد بچے کی ترکی کے ساحل پر موجود لاش نے تارکینِ وطن کے مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
  • 12 ستمبر کو ہنگری میں 4000 سے زائد تارکینِ وطن داخل ہوئے۔
  • 13 سمتبر کو جرمنی نے عارضی باڈر کنٹرول متعارف کر وایا۔
  • 15 ستمبر کو ہنگری نے سربیا سے اپنے ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے لیے سخت قانون تشکیل دیا جس کی وجہ سے ہزاروں تارکینِ وطن نے کروئیشیا کا راستہ اپنایا۔
  • 18 سمتبر کو کروئیشیا نے تارکینِ وطن کو ہنگری کی جانب بھجوایا تاہم ہنگری نے اس کی سرحد پر بھی نئی باڑ لگانے کا آغاز کر دیا۔

اسی بارے میں