’یورپی سرحدوں کو پناہ گزینوں سے خطرہ ہے‘

Image caption فرانس اور جرمنی چاہتے ہیں کہ یورپی برادری پناہ گزینوں کو برابر تقسیم کرے

ہنگری کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کی وجہ سے یورپ کی سرحدیں غیر محفوظ ہو گئی ہیں اور اس سے نمٹنے کے لیے متحدہ یورپی ردِ عمل ضروری ہے۔

وکٹر اوربان نے اتفاقِ رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تارکینِ وطن ’دروازے توڑ‘ رہے ہیں اور لاکھوں یورپ پہنچ سکتے ہیں۔

پولینڈ، ہنگری، دی چیک ریپبلک اور سلواکیہ کے وزرائے خارجہ چیک ریبپلک کے دارالحکومت پراگ میں ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ممالک پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے لازمی کوٹہ سسٹم کی تجویز کے سخت مخالف ہیں۔

جرمنی اور فرانس چاہتے ہیں کہ پناہ گزینوں کو یورپی یونین میں برابر تقسیم کیا جائے۔

ہنگری کی پارلیمان کے فوج کو زیادہ اختیارات دینے کے فیصلے سے کچھ دیر قبل اوربان نے کہا کہ ’وہ (پناہ گزین) ہم پر قبضہ کر رہے ہیں۔‘

’وہ صرف دروازہ نہیں کھٹکھٹا رہے بلکہ وہ ہمارے اوپر دروازے توڑ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اوربان کہتے ہیں کہ پناہ گزین صرف دروازے کھٹکھٹا نہیں رہے بلکہ دروازے توڑ رہے ہیں

’ہماری سرحدوں کو خطرہ ہے۔ ہنگری خطرے میں ہے اور اس کے ساتھ ہی پورا یورپ۔‘

نئے قانون کے تحط ہنگری کی فوج سرحد پر پناہ گزینوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور نیٹ گنز کا استعمال کر سکے گی۔

دوسری طرف آسٹریئن حکام کے مطابق منگل کو ہنگری سے مزید تارکین وطن کی آمد کا امکان موجود ہے جبکہ گذشتہ ہفتے آسٹریا میں ہزاروں تارکین وطن داخل ہوئے تھے۔

یورپی یونین کی پارلیمان کے صدر مارٹن شولز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات کے لیے پر امید ہیں کہ منگل کے روز ہونے والی میٹنگ میں یورپی یونین کے وزرا داخلہ میں اس مسئلے پر شدید اختلافات ختم ہو جائیں گے اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار تارکین وطن کو رضاکارانہ سکیم کے تحت دوبارہ بسانے اور پناہ دینے پر اتفاق ہو جائے گا۔

حالیہ بحران کی وجہ سے یورپی ممالک کے درمیان گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کا یورپی یونین میں کہنا تھا کہ ’کوئی بھی پناہ کا حق رکھنے والے افراد کو اپنے ملک میں رکھنے سے مستثنٰی نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ ہفتے آسٹریا میں ہزاروں تارکینِ وطن داخل ہوئے تھے

جبکہ یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’یورپی یونین کو شامی پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کے قریب بہتر زندگی گزارنے میں مدد کرنی چاہیے۔‘

ادھر آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کو رات بارہ بجے سے شام تک نو ہزار کے قریب پناہ گزین ہنگری سے سرحد عبور کر کے آسٹریا پہنچے اور دن کے اختتام تک یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

آسٹریا پہنچنے والوں میں سے پانچ ہزار کے قریب نے گراز نامی شہر کے قریب سے سرحد عبور کی جبکہ چار ہزار افراد دارالحکومت ویانا کے قریب واقع نکلزڈروف کے سرحدی راستے سے آسٹریا میں داخل ہوئے۔

یہ وہ پناہ گزین ہیں جو سربیا سے کروئیشیا میں داخل ہوئے تھے لیکن وہاں کے حکام نے یہ کہتے ہوئے انھیں ہنگری کی جانب روانہ کر دیا تھا کہ ان کا ملک ان 20 ہزار پناہ گزینوں کا انتظام نہیں کر سکتا جو بدھ کے بعد سے وہاں آئے تھے۔

ہنگری نے کروئیشیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن نہ کر کے یورپی یونین کے قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے تاہم اب بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ خود ہنگری نے بھی ان افراد کی رجسٹریشن نہیں کی اور انھیں آسٹریا کی جانب بھیج دیا گیا۔

تارکینِ وطن کا بحران اہم تاریخیں:

  • 13 جولائی کو ہنگری ہمسایہ مک سربیا سے متصل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا آغاز کیا۔
  • 19 اگست کو جرمنی نے کہا کہ وہ متوقع طور پر رواں برس میں پناہ کے حصول کے لیے آٹھ لاکھ تاکینِ وطن کی درخواستیں وصول کرے گا۔
  • 27 اگست کو آسٹریا میں ایک ٹرک میں سے 71 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
  • 02 ستمبر کو تین سالہ شامی کرد بچے کی ترکی کے ساحل پر موجود لاش نے تارکینِ وطن کے مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔
  • 12 ستمبر کو ہنگری میں 4000 سے زائد تارکینِ وطن داخل ہوئے۔
  • 13 سمتبر کو جرمنی نے عارضی باڈر کنٹرول متعارف کر وایا۔
  • 15 ستمبر کو ہنگری نے سربیا سے اپنے ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے لیے سخت قانون تشکیل دیا جس کی وجہ سے ہزاروں تارکینِ وطن نے کروئیشیا کا راستہ اپنایا۔
  • 18 سمتبر کو کروئیشیا نے تارکینِ وطن کو ہنگری کی جانب بھجوایا تاہم ہنگری نے اس کی سرحد پر بھی نئی باڑ لگانے کا آغاز کر دیا۔
  • 19 ستمبر کو ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزین آسٹریا میں داخل ہوئے جن میں سے وہ بہت سے افراد کو جرمنی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اسی بارے میں