سویڈن کی حکمت عملی کتنی کامیاب؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سویڈن کی شہرت یہی ہے کہ یہ ایک فراخ دل ملک ہے جہاں کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا جاتا رہا ہے

گذشتہ کئی دنوں سے ہر روز یورپ بھر سے سینکڑوں پناہ گزین اور تارکین وطن سٹاک ہوم کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر پہنچ رہے ہیں۔

ان میں عراق کے رہنے والے علی بھی شامل ہیں جو کچھ ہی عرصہ پہلے یہاں پہنچے ہیں۔ دیگر پناہ گزینوں کی طرح بیس پچیس سالہ علی کو بھی یہاں پہنچنے میں 29 دن لگے جس دوران وہ کئی دن سمندر میں سفر پر رہے اور پھر زمینی راستوں پر۔ اپنے شورش زدہ وطن سے شمالی یورپ تک کا یہ سفر علی نے اسی امید پر کیا کہ وہ یہاں ایک بہتر زندگی گزار سکیں گے۔

یہاں پہنچنے تک علی کو جن ممالک سے گزرنا پڑا ان کی فہرست انھیں ازبر ہے۔ ’میں عراق سے ترکی پہنچا، ترکی سے یونان، یونان سے مقدونیہ، پھر سربیا، ہنگری، آسٹریا، جرمنی، وہاں سے میں ڈنمارک پہنچا اور آخر ڈنمارک سے ہوتا ہوا سویڈن پہنچ گیا۔‘

علی نے مجھے بتایا کہ اس سفر کے دوران انھیں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی، ان کا قافلہ ان سے آگے نکل گیا اور انھیں نظر انداز بھی کیا گیا۔

لیکن اب ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے سویڈن پسند ہے۔ یہاں میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ مجھے یہاں انسان سمجھا جاتا ہے۔‘

سویڈن کی شہرت یہی ہے کہ یہ فراخ دل ملک ہے جہاں کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا جاتا رہا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں یہاں تارکین وطن کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔

گذشتہ برس صرف ایک کروڑ کی آبادی والے اس ملک کو پناہ کی 80 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جو آبادی کے تناسب سے یورپی یونین کے باقی رکن ملک میں سب سے زیادہ تھیں، یعنی جرمنی کے بعد سب سے زیادہ درخواستیں وصول کرنے والا دوسرا بڑا یورپی ملک۔

Image caption آیا سویڈن اپنی ’دروازے کھلے رکھنے‘ کی پالیسی جاری رکھ پائے گا؟

حالیہ دنوں میں جنگ زدہ شام سے فرار ہو کر پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اتنے زیادہ اضافے کے بعد لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا سویڈن اپنی ’دروازے کھلے رکھنے‘ کی پالیسی جاری رکھ پائے گا؟

دیگر یورپی ممالک کی طرح سویڈن میں بھی حکومتی پالیسی کے ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ آیا ان کی حکومت مہاجرین کو اپنے ہاں سمو سکے گی، خاص طور پر ایک ایسے وقت جب حکومتی وسائل پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

مالی وسائل کے علاوہ سویڈن میں ناقدین کو یہ پریشانی بھی ہے کہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد کے یہاں آنے کے بعد ان کی معیشت اور ملازمتوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

’اچھا منصوبہ‘

سویڈن کے تارکین وطن کے وزیر کا نام مورگن جوہانسن ہے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک بھی ’اپنا کردار ادا کریں‘ اور ان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دیں۔

مسٹر جوہانسن کہتے ہیں کہ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مہاجرین کے آنے سے آپ کی معیشت پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر شمالی یورپ کی ان حکومتوں کے لیے یہ بہت پالیسی بہت مفید ہو سکتی ہے جن کے ہاں ضعیف لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان ممالک میں پنشن لینے والے افراد کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب انھیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پنشن یافتہ لوگوں کی مدد کر سکیں۔

’اب آپ شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی مثال لے لیں۔‘

Image caption حکومت نے ہمارے لیے ایک اچھا منصوبہ بنا رکھا ہے: لامِس

’ان میں ہر تیسرے فرد کے پاس اعلیٰ تعلیمی ڈگری ہے۔ ان میں ڈاکٹر بھی ہیں، انجنیئر بھی، نرسیں بھی، یعنی ایسے افراد جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ سویڈن کی بہتر معیشت کے لیے ہمیں ایسے پڑھے لکھے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں آج ایسے لوگوں کی ضرورت ہے اور آنے والے برسوں میں ہمیں ان کی ضرورت اور زیادہ ہو جائے گی۔‘

پناہ گزینوں کو سویڈن میں ضم کرنے کی غرض سے حکومت نے جو حکمت عملی بنائی ہے اس کا مرکزی نکتہ معاشی میدان میں پناہ گزینوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہونا ہے۔ ۔گذشتہ برسوں میں حکومت نے اس میدان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

اس کی ایک مثال روزگار کے فروغ کا سرکاری ادارہ ’سویڈش پبلک امپلائمنٹ سروس‘ ہے جس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پناہ دیے جانے والے تارکین وطن کی صلاحیتوں کا جائزہ لے، ان کے لیے اضافی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرے اور تارکین وطن میں وہ مہارتیں پیدا کرے جو سویڈن کی کمپنیوں اور دیگر اداروں کو درکار ہیں۔

حکومت کے اس منصوبے کی کامیابی کی ایک مثال دمشق سے آئی ہوئی 32 سالہ بینکار لامِس قندلاف ہیں۔ لاِمس دو سال پہلے اپنے شوہر کے ہمراہ شام سے اس وقت اپنی جان چھڑا کر سویڈن آ گئی تھیں جب انھیں کہا گیا کہ وہ صدر بشارالاسد کی فوج میں خدمات سرانجام دیں۔

ضروری تربیت اور ایک دفتر میں تجرباتی بنیاد پر کام کرنے کے بعد آخر کا لامِس کو اس سال موسم گرما میں سٹاک ہوم میں سویڈ بینک میں ملازمت مل گئی۔

اگرچہ بعد میں میاں بیوی میں طلاق ہو گئی، تاہم لامِس کہتی ہیں کہ سویڈن میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کی بنیاد ان کی اسی ملازمت نے رکھی ہے۔

لامِس کے بقول سویڈن کی حکومت نے ’ہمارے لیے ایک اچھا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہمیں یہاں کی زبان سکھائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خصوصی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

’جب مجھے نوکری ملی تو میرے تمام مسئلے ختم ہو گئے۔ ملازمت کے بعد اب میرے لیے اچھا کھانا، اچھی رہائش حاصل کرنا، معمول کی زندگی گزارنا اور ایک بہتر زندگی گزارنا، سب کچھ آسان ہو گیا ہے۔‘

غلط حکمت عملی

تارکین وطن کی کامیاب کہانیاں اپنی جگہ، لیکن گذشتہ دو سالوں میں سویڈن پہنچنے والے پناہ گزینوں کو یہاں کی معیشت میں مثبت کردار کے لیے تیار کرنے کی حکمت عملی میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جا سکی ہے۔

’سویڈش پبلک امپلائمنٹ سروس‘ کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 ماہ کے دوران جن تارکین وطن کو سویڈن کی کمپنیوں میں ضم ہونے کی تربیت دی گئی ان میں سے صرف 30 فیصد ایسے ہیں جنھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی یا انھیں کوئی ملازمت مل پائی۔

Image caption پناہ گزینوں کی سب سے بڑی رکاوٹ سویڈش زبان کا نہ آنا ہے

ملازمت حاصل کرنے کی راہ میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی رکاوٹ سویڈش زبان کا نہ آنا ہے۔ اکثر لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ چونکہ پناہ گزینوں کی اکثریت نے کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں لی ہوتی اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت بھی واجبی ہوتی ہے، ایسے میں یہ سوچنا کتنا دررست ہے کہ یہ لوگ بہت جلد سویڈن کی معیشت میں مثبت کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔

سویڈن کے اندر حکومتی حکمت عملی کے بارے میں بے اطمینانی میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو رہا ہے۔ مثلاً حال ہی میں کیے جانے والے ایک سیاسی جائزے میں ’سویڈن ڈیموکریٹس‘ نامی حزبِ اختلاف کی جماعت سب سے زیادہ مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور اسے رائے دہندگان کے ایک چوتھائی سے زیادہ کی حمایت حاصل ہے۔ یہ جماعت پناہ گزینوں کے خلاف ہے۔

’سویڈن ڈیموکریٹس‘ کے تارکین وطن سے متعلق ترجمان مارکس وشل کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر کسی کو پناہ نہ دے بلکہ اس سلسلے میں ایک خاص معیار کا لحاظ رکھے۔

’اگر آپ کو ایسے لوگ چاہییں جو ایک خاص تعلیمی معیار کے حامل ہوں تو آپ کو چاہیے کہ اسی قسم کے لوگوں کو پناہ دیں۔ لیکن ان دنوں حکومت پناہ گزینوں کے تعلیمی معیار کو نہیں دیکھ رہی اور ہر کسی کو یہاں پناہ دے رہی ہے۔‘

لیکن حکومتی وزیر مسٹر جوہانسن اس نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کرتے۔

’یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہم پناہ گزینوں میں انتخاب نہیں کر سکتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو بھی تعلیم دی جا سکتی ہے جنھوں نے پہلے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ہوتی۔ تمام انسان برابر ہوتے ہیں۔یہ یورپی یونین کی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔‘

اسی بارے میں