جزیرہ نما سینا سے 3200 خاندان بے دخل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصری حکام نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مصر نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جزیرہ نما سینا کے علاقے میں 3200 خاندانوں کو بے دخل کر کے ان کے گھروں کو تباہ کردیا ہے۔

فوج غزہ سے متصل سرحدی علاقے میں ’بفرزون‘ کے قیام اور سمگلنگ کے لیے استعمال کی جانے والی سرنگوں کو ختم کرنے لیے مکانات کو مسمار کررہی ہے۔

مکانات کو مسمار کرنے کے کام کا آغاز 2013 میں مسلح جہادیوں کے حملوں میں تیزی کے بعد کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا ہے کہ بے دخل کیے گئے افراد کو کسی قسم کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی نہ عارضی رہائش فراہم کی گئی اور نہ ہی اُن کے نقصانات کی کوئی تلافی کی گئی ہے۔

امریکی گروپ نے بھی اس بارے میں سوال اٹھایا ہے کہ فوج سمگلنگ کے لیے استعمال کی جانے والی سرنگوں کی نشاندہی اور اُنھیں تباہ کرنے کے لیے موجود ٹیکنالوجی استعمال کیوں نہیں کر رہی ہے۔

مصری حکام نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

زبردستی بے دخلی

ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو جاری کردہ اپنی مفصل رپورٹ میں کہا ہے کہ فوج نے اب تک غزہ کی سرحد سے شمالی سینا کی جانب ایک کلومیٹر اندر کے علاقے میں قائم تقریباً تمام عمارتوں اور زرعی زمینوں کو بارودی مواد اور ارتھ موونگ آلات کے ذریعے سے تباہ کردیا ہے۔ رپورٹ مقامی افراد کے انٹرویو، سیٹلائٹ تصاویراور ویڈیوز کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

سرحد سے ایک کلومیٹر سے زائد کے رقبے میں قائم درجنوں عمارتوں کو بھی مسمار کردیاگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر کا منصوبہ ہے کہ غزہ کی سرحد پر 79 سکوائر کلومیٹر کا علاقہ صاف کرالیا جائے، ہیومن رائٹس واچ

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مصر کا منصوبہ ہے کہ غزہ کی سرحد پر 79 سکوائر کلومیٹر کا علاقہ صاف کرالیا جائے جس میں رفاہ کے تمام ٹاؤن بھی شامل ہیں جس کی آبادی 78 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

سرکار کا کہنا ہے کہ اس آپریشن سے فوج سمگلنگ کے لیے استعمال کی جانے والی سرنگوں کو بند کردے گی۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غزہ میں موجود فلسطینی گروپ ان سرنگوں کے ذریعے سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے منسلک مسلح جنگجو کو ہتیھار، افرادی قوت اور رسد فراہم کرتے ہیں۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس عمل کے حق میں کوئی ایک ثبوت نہیں ہے انھوں نے یہ بات مصر اور اسرائیل کے حکام کی جانب سے دے گئے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔ جن میں کہا گیا تھا کہ جہادی بھاری ہتھیار لیبیا سے لیتے ہیں یا مصری فوج کے اہلکاروں کے ہتھیاروں پر قبضہ کرلیتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکام نے رہائشی افراد کو بے دخل کرنے سے پہلے کسی قسم کی کوئی بھی اطلاع نہیں دی اور انھیں کوئی عارضی رہائش گاہیں بھی فراہم نہیں کی گئی ،اُن کے تباہ شدہ مکانات اور زرعی زمینوں کے لیے کوئی تلافی نہیں کی گئی اور اُن بے گھر افراد کے پاس اِس سرکاری فیصلے کو چیلنج کرنے کا کوئی موثر راستہ بھی نہیں ہے۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس طرح کا عمل جس میں رہائشی افراد کو زبردستی اپنے گھروں سے بے دخل کرنا اقوام متحدہ اور افریقن کنوینشن جس کا مصر بھی حصہ ہے کی خلاف ورزی ہے اور یہ جنگ کے قوانین کے بھی خلاف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ HRW
Image caption سینا پہلے اور اب۔۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سرکار اس بارے میں بھی وضاحت دینے میں ناکام ہوگئی ہے کہ فوج نے سرنگوں کو تلاش کرنے والے مخصوص آلات کا استعمال کیوں نہیں کیا۔ جس کے لیے انھوں نے امریکہ سے تربیت حاصل کی کہ لوگوں کے گھروں کو تباہ کیے بغیر سرنگوں کو تلاش کرکے ختم کیا جائے۔

2013 میں مصر میں اسلام پسند صدر محمد مرسی کو فوج کی جانب سے اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد شمالی سینا میں جہادی جنگجوؤں نے حملے کرنا شروع کیے۔

ہیومن رائٹس نے میڈیا رپورٹس اور سرکاری بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک سکیورٹی اہلکاروں، عام شہریوں اور دہشت گردوں سمیت 3,600 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں