پوپ کی امریکہ آمد، اوباما نے استقبال کیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیوبا چھوڑنے سے قبل منگل کو پوپ نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ وہ ’دردمندی اور محبت کا انقلاب کر دکھائیں‘

پوپ فرانسس نے امریکہ کا چار روزہ دورہ شروع کر دیا ہے جہاں وہ کیتھولک فرقے کے لاکھوں افراد سے ملیں گے اور غیر مساوی آمدن اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے کٹھن مسائل پر بات کریں گے۔

امریکی صدر براک اوباما نے امریکہ پہنچنے پر پوپ کا استقبال کیا۔ امریکہ میں کسی غیر ملکی بڑی شخصیت کا اتنا احترام کم ہی کیا جاتا ہے۔

پوپ فرانسس واشنگٹن، نیویارک اور فِلاڈیلفیا کا دورہ کریں گے۔

کیوبا چھوڑنے سے قبل منگل کو پوپ نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ وہ ’دردمندی اور محبت کا انقلاب کر دکھائیں‘۔

جزیرے کے چارہ روزہ دورے کے آخری دن دعائیہ تقریب سے اپنے خطاب میں پوپ فرانسس نے زور دیا کہ وہ کسی نظریے کے بجائے ایک دوسرے کی خدمت کریں۔ اس تقریب میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو بھی شریک تھے۔

کیوبا سے امریکہ کے دورے کے دوران پوپ نے ایک نیوز کانفرنس بھی کی اور ایسے سوالوں کا بھی جواب دیا کہ انھوں نے سرمایہ داری پر ضرورت سے زیادہ تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی جو عیسائیت کے سماجی اصولوں پر مبنی نہ ہو۔‘

جب وہ اینڈریوز ایئرفورس بیس پر اترے تو صدر اوباما، ان کے خاندان، نائب صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ نے پوپ کا استقبال کیا۔

ہجوم نے جس میں فوجی گارڈ، سکولوں کے بچے، سیاست دان اور کلیسائے روم کے پادری شامل تھے، پوپ کے لیے استقبالیہ جملے بلند کیے۔

پوپ کے لیے حکام نے امریکی تاریخ کا بہت بڑا حفاظتی انتظام کیا ہے۔ پوپ امریکہ میں بھی مقبول ہیں اور توقع ہے کہ ان کو دیکھنے کے لیے تینوں شہروں میں بہت زیادہ ہجوم ہوگا۔

پوپ کے دورے میں فلاڈیلفیا کے مرکز کا بیشتر حصہ بند رہے گا جبکہ واشنگٹن میں وفاقی ملازمین پر زور دیا گیا ہے کہ جبتک پوپ دارالحکومت میں ہیں، وہ گھروں سے یا دفتروں سے دور رہ کر کام کریں۔

خیال ہے کہ انھیں دیکھنے پندرہ لاکھ کے قریب افراد جمع ہوں گے۔

کیوبا میں بی بی سی کے نامہ نگار وِل گرانٹ کہتے ہیں کہ پوپ نے کیوبا میں سیاسی بیان سے پرہیز کیا ہے لیکن تبصرہ نگاروں کے مطابق وہ امریکہ میں زیادہ کھل کر بات کریں گے۔

اسی بارے میں