نوجوان خودکشی کے خطرے سے دوچار

Image caption دنیا بھر میں 15 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی یہ دوسری بڑی وجہ بن چکی ہے

15 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی یہ دوسری بڑی وجہ ہے اور اب تک کئی معاشرے اس معاملے پر کھلے عام بات تک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس سماجی وبا اور سائبربُلیئنگ (cyberbullying) نے چیزوں کو بدتر بنا دیا ہے انھوں نے اپیل کی ہے کہ حکومتیں اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

خودکشی کی روک تھام کے لیے پل پر جال لگانے کا منصوبہ

20 سالہ لورین بال کئی بار اپنی جان لینے کی کوشش کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کا خیال ہے کہ اس بارے میں سوچنا اور خودکش بننا جرم ہے، ایسا نہیں ہے۔‘

انھوں نے چھ بار خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ آخری کوشش 2014 میں کی تھی۔

بال نے بی بی سی کے لیے نوجوانوں کے بارے میں پروگرام نیوز بیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جانتی ہوں کہ یہ میرے خاندان کے لیے بہت مشکل تھا۔‘

گیبائے ڈکس یہ جانتے تھے کہ ان کی اکلوتی بیٹی ازی اپنی نوعمری سے لڑ رہی ہیں لیکن انھوں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ’اس کے دماغ‘ میں خودکشی کے بارے میں خیالات پل رہے ہیں۔

دو سال قبل برطانیہ کے علاقے ڈیون میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے 14 سالہ نوعمر بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایسا نہیں سوچا تھا کہ کبھی مجھے ایسی صورتِ حال سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے۔‘

بہت سی سوسائٹیوں نے اب جاکر ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے بارے میں صرف گفتگو کا آغاز کیا ہے جبکہ دیگر اب بھی خاموش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

تاہم عوامی صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نوعمری کی خودکشی کی مخصوص ’بیماری‘ سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو ’حرام قرار دے کر دفن کر دیا گیا ہے۔‘

چند حالیہ سماجی رجحانات جیسا کہ سائبر بُلیئنگ نے اس معاملے پر کافی اثرات مرتب کیے ہیں اور اس سے نوجوانوں کی بڑی تعداد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

برطانیہ کی سماجی تنظیم سیمریٹنز کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ’خودکشی ایک حساس معاملہ ہے اور اکثر اس کے پیچھے کوئی ایک بنیادی وجہ نہیں ہوتی۔۔۔ اور مزید یہ کہ نوعمری میں کی جانے والی خودکشیوں کے بارے میں صحیح طریقے سے تحقیق نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اسے سمجھا گیا ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً آٹھ لاکھ افراد موت کو گلے لگا لیتے ہیں اور خودکشی کے ہر کیس میں کم سے کم 20 بار جان لینے کی ناکام کوشش کی گئی ہوتی ہے۔

عام طور پر 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں اپنی جان لینے کی خواہش کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم کچھ ممالک میں نوجوانوں میں یہ شرح کافی زیادہ ہے اور دنیا بھر میں 15 سال سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں اموات کی یہ دوسری بڑی وجہ بن چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ماہر ڈاکٹر الیگزینڈرا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اس عمر کے افراد میں ٹریفک حادثات میں لگنے والی چوٹ یا حادثات کے بعد خودکشی موت کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اور اس کے علاوہ اگر آپ جنس کے فرق میں اس کا مشاہدہ کریں تو یہ 15 سال سے 29 سال کی عمر کی لڑکیوں میں موت کی بنیادی وجہ ہے۔‘

خودکشی ایک عالمی مسئلہ

خود کشی کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک

ایک لاکھ کی آبادی میں نوجوانوں کی خود کشیاں

1. بھارت

35.5 (یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خودکشی کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے)

  • 2. زمبابوے 30.9

  • 3.قزاقستان 30.8

  • 4. گنی 29.7

  • 5. سُرینام 28.2

عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اندازوں کے مطابق، جن میں 2012 سے ہونے والی اموات کا جائزہ لیا گیا تھا، یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خودکشی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

اس کے علاوہ زیادہ اور کم یا درمیانی آمدنی والے ممالک میں یہ شرح تبدیل ہو رہی ہے۔ حقیقت میں 75 فیصد خودکشیاں کم آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔

سب سے ضروری بات یہ ہے کہ نوجوانوں پر مال و دولت میں واضح فرق کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

خودکشی کے رجحان پر فوری نظر دوڑائی جائے تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں ڈرامائی طور پر دس سے 25 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ ہے۔

لیکن خوشحال معاشروں میں اس طرح کے معاملات نظر نہیں آتے، جس کا مطلب ہے کہ اس عمر کے افراد غریبی کی حالت میں زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

اب ایک نظر جنس کے فرق پر ڈالتے ہیں۔ عام طور پر خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ خودکشی کرتے ہیں۔

نوجوانوں کے متعلق پروگرام کے سیگمنٹ میں الیگزینڈرا کا کہنا تھا کہ ’لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ خودکشی کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن اس میں زیادہ اموات لڑکوں کی ہوتی ہے اور لڑکیاں بچ جاتی ہیں۔‘

لیکن غریب ممالک میں جنس کا یہ فرق کافی کم ہے جہاں خاص طور پر خواتین اور ان کے ساتھ ساتھ نوجوان بالغ افراد بھی غیر محفوظ ہیں۔ خوشحال ممالک میں عورتوں کے مقابلے مردوں میں خوکشی کی شرح تین گنا زیادہ ہے لیکن کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح کم ہوکر ڈیڑھ فیصد تک ہے۔

فہرست میں سب سے اوپر

خوفناک اعداد و شمار میں اس بارے میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں 15 سال سے 19 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی اب اموات کی پہلی وجہ بن چکی ہے یہ حال جنوبی مشرقی ایشیا کا بھی ہے۔

خطے کی نوجوان لڑکیوں میں ہر چھ میں سے ایک کی موت کی وجہ خودکشی ہے۔

افریقہ میں صورت حال تشویشناک ہے۔ یہاں خودکشی سے شرح اموات (دس لاکھ کی آبادی میں نو افراد ) کسی بھی خطے میں سب سے زیادہ ہے جنوبی مشرقی ایشیا کے علاوہ جہاں یہ شرح (دس لاکھ کی آبادی میں 25 افراد) تک ہے۔

الیگزینڈرا کا کہنا ہے کہ ’ہمارے مفروضوں کے مطابق خودکشی کر کے موت کو گلے لگانا آسان ہے اور مدد کم میسر ہوتی ہے۔ دیہاتی علاقوں میں اکثر یہ ہوتا ہے وہاں کیڑے مار دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے جو انتہائی مہلک ہے اور وہاں بروقت کوئی مدد دستیاب نہیں ہوتی۔‘

خطرے کی علامات

ماہرین کا کہنا ہے کہ خودکشی ’ایک دم‘ سے نہیں ہوتی ہے جبکہ تعلیمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکشی کرنے والے 90 فیصد نوجوان کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

اس عمر کے افراد میں بیماری کی سب سے بڑی وجہ خوف اور تشدد یا بدسلوکی ہے۔ لیکن اس معاملے کو اس طرح سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ حالات کا تبدیل ہونا یا سکول میں مشکل حالات کا سامنا ، دوستوں کے ساتھ پریشانی یا جنسی شناخت کے مسائل بھی اس کی اہم وجہ ہیں۔

اسی لیے ماہرین کہتے ہیں اس کے ابتدائی علامات پر نظر رکھی جائے اور یونیورسٹیوں کے فریشر ویک میں طالب علموں کے لیے چلائی جانے والی سیمریٹنز کی احتیاطی مہم کے پیچھے بھی یہی وجوہات ہیں جب نئے طلبہ کیمپس کا رخ کرتے ہیں۔

خیراتی تنظیم سیمریٹنز کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ’یونیورسٹی کی زندگی سرکش ہوتی ہے جو ذات کی تلاش کا مزیدار سفر ہوتا ہے۔ جب کہ حقیقت میں گھر سے دوری نوجوان افراد کے لیے ایک جدوجہد ہوتی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔‘

سماجی ڈراؤنا خواب

خودکشی کی روک تھام کے پروگرام کے تحت ضدی پن اور اس سے نئے سائبر بلیئنگ کا قریب سے مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

امریکی ادارے کے مطابق ضد اور خودکشی سے متعلق رویوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

ایک رپورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا مطلب ہے کہ جو نوجوان ضدی پن کے رویے کا شکار ہوتے ہیں ان میں خودکشی کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے تاہم اگر اس کے ڈھانچے پر بات کی جائے کہ ضدی پن خودکشی کا سبب ہے تو صحیح نہیں اور یہ ممکنہ طور نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے ایک غلط خیال کو تقویت مل سکتی ہے اور خودکشی میں غصے میں ہونا ایک قدرتی ردعمل ہے جو کسی بھی رویے کی نقل کے لیے ایک خطرناک صلاحیت ہے۔‘

کچھ علامات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سنسنی سے بھر پور میڈیا کوریج غیر محفوظ افراد کو خودکشی کے جانب راغب کرسکتی ہے جس کو ماہرین ’سماجی وبا‘ بھی کہتے ہیں۔

سودرلینڈ کا خیال ہے کہ میڈیا میں جس طرح سے خوکشی کی خبریں چلائی جاتی ہیں اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے لوگوں میں مدد مانگنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔

سب سے اہم یہ ہے کہ عوامی صحت کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں خودکشی کی روک تھام کے لیے طویل مدتی اور جامع پالیسی کی ضرورت ہے، جس کو سرکار مرتب کرے اور اس پر رقم بھی خرچ کرے۔

عالمی ادارہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق اب تک صرف 28 ممالک کی قومی پالیسوں میں اس مسئلے کو شامل کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر الیگزینڈرا کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس فن لینڈ کی مثال ہے جو دنیا کا سب سے پہلا ملک ہے جہاں خودکشیوں کو روکنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے اور ایک دہائی کی عرصے میں اُن کے اعداد و شمار میں 30 فیصد تک کمی آئی ہے۔‘

اسی بارے میں