ووکس ویگن سکینڈل: ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیاں متاثر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

گاڑیاں بنانے والی معروف جرمن کمپنی ووکس ویگن کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج جانچنے کے طریقہ کار میں ان کی کمپنی کی بددیانتی سے ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیاں عالمی سطح پر متاثر ہوئی ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ اس نے اپنی غلطی کے معاوضے کے لیے ساڑھے چھ ارب یورو کا انتظام کیا ہے۔

ووکس ویگن کے امریکی کاروبار کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی کمپنی نے گاڑیوں میں مضر صحت گیس کے اخراج کی سطح جانچنے کے طریقہ کار میں ایک سافٹ ویئر کی مدد سے بددیانتی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ووکس ویگن پر 18 ارب ڈالر تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے

امریکہ میں ووکس ویگن کمپنی کے سربراہ مائیکل ہارن نے کہا: ’ہماری کمپنی نے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کے فضائی آلودگی سے تحفظ کے ادارے کو دھوکے میں رکھا۔ یہی نہیں بلکہ آپ سب کو بھی دھوکے میں رکھا ہے۔ میرے جرمن الفاظ میں یوں سمجھیں کہ ہم بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘

گذشتہ جمعے کو فضائی آلودگی کا ضابطہ اخلاق بنانے والے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ووکس ویگن کی ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں میں مضر صحت گیسوں کے اخراج کی سطح جانچ میں سامنے آنے والی سطح سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ میں ووکس ویگن کمپنی کے سربراہ مائیکل ہارن نے تسلیم کیا ہے کہ کمپنی نے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کے فضائی آلودگی سے تحفظ کے ادارے کو دھوکے میں رکھا

دیگر حکومتوں کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کریں گی۔

جنوبی کوریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 2014 اور 2015 میں بننے والی ووکس ویگن کی پانچ ہزار کے قریب گاڑیوں کا معائنہ کرے گی جن میں جیٹا، گولف اور آؤڈی اے تھری شامل ہیں۔

گاڑیوں میں نقائص سامنے آنے کی صورت میں جرمنی میں بننے والی ڈیزل سے چلنے والی تمام گاڑیوں کا معائنہ کیا جائے گا۔

ووکس ویگن سکینڈل

14 ارب یورو

پیرکو ووکس ویگن کمپنی کی قدر میں کمی

  • 18 ارب ڈالر ممکنہ جرمانہ

  • 482,000 واپس منگوائی گئیں ڈیزل کاریں

  • 1 کار ساز کمپنیوں میں ووکس ویگن کا درجہ

گیسوں کے اخراج کی سطح کا ضابطہ بنانے اور نگرانی کرنے والے اداروں کو ڈیزل سے چلنے والی کئی گاڑیوں میں سافٹ ویئر کی مدد سے دھوکے میں رکھا جا رہا تھا۔

ای پی اے کی جانب سے یہ بات سامنے آنے کے بعد پیر کے روز ووکس ویگن کے حصص کی قیمت 20 فیصد گر گئی، جبکہ جمعے کے روز ووکس ویگن سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ میں اپنی پانچ لاکھ گاڑیاں واپس بلا لے۔

اسی بارے میں