پناہ گزینوں کے کوٹے پر یورپی یونین میں اختلافات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روزانہ چھ ہزار کے قریب تارکینِ وطن یورپی ممالک کے ساحلوں پر پہنچ رہے ہیں

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ فرانس اور جرمنی سمیت رکن ممالک کو پناہ گزینوں کے معاملے میں قوانین کے نفاذ میں ناکامی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

برسلز میں اجلاس کے آغاز سے قبل یورپی کمیشن کے نائب صدر فرنس تمرمنس کا کہنا تھا کہ وقت کے تقاضے کے مطابق رکن ممالک وہی کیا جو انھیں کرنا چاہیے تھا۔

منگل کو یورپی یونین کے وزرائے داخلہ نے حالیہ عرصے میں یورپ میں داخل ہونے والے ایک لاکھ 20 ہزار پناہ گزینوں کی آباد کاری کے معاہدے پر کثرتِ رائے سے رضا مندی کا اظہار کیا تھا۔

پناہ گزینوں کا دکھ محسوس کرنا ممکن نہیں

’یورپی سرحدوں کو پناہ گزینوں سے خطرہ ہے‘

اس موقعے پر جب یورپی رہنما مختص کوٹے کے فیصلہ کی توثیق کریں گے یورپی یونین کے رکن ممالک میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

سلوواکیہ نے مختص کوٹے کے اطلاق کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ہنگری کے وزیرِ اعظم نے اپنے جمہوری حق کا دفاع کرتے ہوئے پناہ گزینوں کے لیے امداد اکٹھی کرنے کا منصوبہ تجویز کیا ہے۔

اس اجلاس میں یورپ کی سرحدوں کو مزید محفوظ بنانے اور شام کے ہمسایہ ممالک کو مہاجرین کے لیے امداد فراہم کرنے پر بات کی جائے گی۔

یورپی یونین کے رہنما بدھ کو برسلز میں بلوائے گئے ہنگامی اجلاس میں تارکینِ وطن کی آباد کاری کے لیے مختص کیے جانے والے متنازع کوٹے کی منظوری سمیت دیگر معاملات پر بات کریں گے۔

تاہم رومانیہ، ہنگری اور سلوواکیہ نے یورپی یونین کے اس مطالبے کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

ادھر اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ صرف آبادکاری ہی سے صورت حال مستحکم نہیں ہو گی۔

بتایا گیا ہے کہ رواں سال اب تک سمندر کے ذریعے چار لاکھ 80 ہزار سے زائد تارکینِ وطن یورپ پہنچ چکے ہیں جبکہ روزانہ کی بنیاد پر چھ ہزار کے قریب افراد ان ممالک کے ساحلوں پر اتر رہے ہیں۔

اسی بارے میں