منیٰ میں بھگدڑ میں 717 ہلاک، حفاظتی انتظامات پر نطرثانی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption سعودی سول ڈیفنس کے حکام نے جمعرات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم ازکم 863 حاجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی ہے

سعودی عرب میں مسلمانوں کے سب سے بڑے سالانہ مذہبی اجتماع کے دوران مچنے والی بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے 717 افراد میں مختلف قومیتوں کے لوگ شامل ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے حج کے دوران حفاظتی انتظامات پر نطرثانی کا حکم دیا ہے۔

شاہ سلمان نے کہا ہے کہ حج کے دوران تنظیمی اور حاجیوں کی آمد و رفت میں بہتری کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تصدیق کی ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ میں چار پاکستانی ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی حکام نے تاحال ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے

سعودی سول ڈیفنس کے حکام نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جمعرات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم ازکم 863 حاجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔

’جہاں تک نظر جاتی ہے لاشیں ہی لاشیں ہیں‘

دنیا میں بھگدڑ کے مہلک ترین واقعات

منیٰ میں بھگدڑ سے ہلاکتیں: تصاویر

یہ بھگدڑ منیٰ کے مقام پر مچی۔ منیٰ مکہ سے پانچ کلومیٹر دور واقع ہے جہاں زائرین حج کے ایک رکن رمی جمرات کی دائیگی کے لیے جاتے ہیں۔

سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب حاجی جمرات پر کنکر پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے سنگم پر موجود تھے۔

ترجمان کے مطابق حاجیوں کی بڑی تعداد کی ایک مقام پر موجودگی کی وجہ سے بھگدڑ مچی جس کے نتیجے میں بہت سے حاجی زمین پر گر گئے اور کچلے جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

سعودی حکام نے تاحال ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم منیٰ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار تچیما الا اسوفو کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں نائجیریا’ چاڈ اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 43 ایرانی بھی ہیں۔

حادثے کے عینی شاہد الا اسوفو کے مطابق لوگ رمی کے لیے جا رہے تھے کہ ان کے سامنے کنکریاں مار کر آنے والے حاجی آ گئے۔ پھر افراتفری کا سماں تھا اور اچانک لوگ گرنے لگے۔

ان کے مطابق لوگ ایک دوسرے کے اوپر چڑھتے ہوئے محفوظ مقام پر پہنچنے کے لیے کوشاں تھے اور اس وجہ سے بھی کئی لوگ مرے۔

بی بی سی کے بشیر سعد عبداللٰہی نے جائے حادثہ کا منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ منیٰ شہر کے مرکز میں جہاں لاشیں رکھی گئی ہیں اس علاقے کو پولیس نے بند تو کیا ہوا ہے لیکن جہاں تک نظر دیکھ سکتی ہے کفنائی گئی لاشیں ہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حادثہ اس وقت پیش آیا جب حاجی جمرات پر کنکر پھینکنے کے لیے شارع نمبر 204 اور 223 کے سنگم پر موجود تھے

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی سفیر منصور الحق نے کہا ہے کہ اس سانحے میں فی الحال کسی پاکستانی حاجی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ 4000 کے قریب امدادی کارکن اور 220 ایمبولینسیں جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں شریک رہے اور زخمیوں کو چار مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

واقعے کے فوراً بعد سعودی شہری دفاع اور ہلالِ احمر کے ارکان جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے اور انھوں نے مزید حاجیوں کو متاثرہ علاقے کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ رواں برس سعودی عرب میں حاجیوں کی آمد کے بعد پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل 12 ستمبر کو مکہ کی مسجد الحرام کے صحن میں کرین گرنے سے کم از کم 107 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچتے ہیں اور اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمان سعودی عرب میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں بہتری کے بعد گذشتہ نو سالوں سے حج کے دوران کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا تھا۔

اس سے قبل سنہ 2006 میں منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران ہی بھگدڑ مچنے سے 364 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں