منیٰ میں حاجیوں کی ہلاکتوں کے بعد سعودی عرب پر تنقید

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

حج کے دوران جمعرات کو منیٰ میں بھگدڑ سے 717 حاجیوں کی ہلاکت کے بعد مسلمانوں کے اس سب سے بڑے مذہبی اجتماع کے انتظامات کے حوالے سے سعودی عرب کی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل نے سعودی حکام پر نااہلی کا الزام لگاتے ہوئے ان سے ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ نائجیریا نے سعودی وزیرِ صحت کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے کہ حادثہ حاجیوں کو دی گئی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

بھگدڑ کی ابتدائی تحقیقات سے کچھ سامنے آیا؟ آڈیو رپورٹ

’سات پاکستانی حاجی بھی بھگدڑ میں ہلاک ہوئے‘

’جہاں تک نظر جاتی ہے لاشیں ہی لاشیں ہیں‘

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اس حادثے کے بعد حج کے سکیورٹی انتظامات کے از سرِ نو جائزے کا حکم دیا ہے تاکہ حج کے منتظم ادارے کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ گذشتہ 25 برس میں حاجیوں کو پیش آنے والے سب سے بڑا حادثہ ہے

شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ حج کے انتظامات اور حاجیوں کی نقل و حمل کے طریقۂ کار کو بہتر بنایا جائے گا۔

رواں برس حج کے سلسلے میں سعودی حکام کے انتظامات چند ہفتے قبل اس وقت بھی زیرِ بحث آئے تھے جب مسجد الحرام میں تعمیراتی کرین گرنے سے 107 حاجی ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم جمعرات کو بھگدڑ میں 717 افراد کی ہلاکت اور 863 کے زخمی ہونے کے بعد حج کے انتظامات کے حوالے سے تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی رہنما کی برہمی

اس حادثے میں ایران کے 131 شہری ہلاک ہوئے ہیں جو اب تک سامنے آنی والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایران نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منٰی میں ہلاکتوں کے واقعے کی ذمہ داری قبول کرے جبکہ

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کیوان خسروی نے خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کو بتایا کہ ’اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی حکومت حج کے انتظامات کے سلسلے میں نااہل ثابت ہوئی ہے اور سعودی عرب کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘

اس سے قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے بھی جمعرات کو سعودی عرب پر حاجیوں کو مناسبت تحفظ فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سعودی عرب کی حج سے متعلق تیاریوں پر کڑی تنقید کی تھی۔

ایران نے منیٰ میں اپنے شہریوں کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ایک ایرانی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ یہ واقعہ حاجیوں کی جانب سے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیش آیا۔

تاہم نائجیریا کے حج وفد کے سربراہ اور کانو کے امیر محمدو سنوسی دوئم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھگدڑ آنے اور جانے کے مقررہ راستوں پر مچی۔ ہم سعودی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حاجیوں پر ہدایات نہ ماننے کا الزام نہ لگائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Saudi Civil Defence Directorate
Image caption منیٰ میں جمرات کو پتھر مارتے ہوئے لوگ

اسی بارے میں