کیا منیٰ جیسے حادثوں کو روکنا ممکن ہے؟

Image caption حجاج کرام دو سو ممالک سے آتے ہیں اور سینکڑوں مختلف زبانیں بولتے ہیں

حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے 700 سے زائد ہلاکتوں کے بعد لوگوں کی حفاظت اور سعودی حکام کے اقدامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

حج اسلام کے پانچ اراکان میں سے ایک رکن ہے۔ ہر قابلِ استطاعت اور صحت مند مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج کرنا لازم ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں کے دوران مکہ آنے والے افراد کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ افراد نے اس سال حج کیا ہے۔

سعودی حکومت کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ حج اور عمرے کے لیے آنے والے لاکھوں افراد کی حفاظت اس کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔

لوگوں کی حفاظت کے پیشِ نظر ماضی میں بھیڑ کے باعث بھگدڑ مچنے سے ہلاکتوں کے بعد سعودی حکومت نے مسجد الحرام اور مکہ سے باہر حج سے منسلک دیگر مقامات کی توسیع پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اگرچہ سنہ 2006 سے کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا لیکن کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں نسبتاً تنگ جگہوں میں لوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے ایسے حادثوں کو مکمل طور پر روکنا بےحد مشکل کام ہے۔

منتظمین کو ایک اہم چیلنج یہ درپیش ہوتا ہے کہ حجاج کرام دو سو ممالک سے آتے ہیں اور سینکڑوں مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ اس لیے حفاظت پر مامور عملے کو عازمینِ حج کو حفاظتی طریقہ کار پر عمل کرانے میں دشواری پیش آتی ہے۔

Image caption دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام نے سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ سکیورٹی کیمرے بھی نصب کیے ہوئے ہیں

دوسرے ممالک میں بھی حج کا انتظام کرنے والے افراد نے حجاج میں اس سلسلے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سعودی حکومت کو صرف بھگدڑ کے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران شدت پسند جہادی تنظیم دولتِ اسلامیہ ملک کے اندر شیعہ اور سنی دونوں مسالک کی مساجد کو نشانہ بنا چکی ہے۔

اگر اب تک کی اس تنظیم کی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو اس سے واضح ہو تا ہے کہ یہ لوگ حاجیوں کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں آئیں گے۔

1979 میں حج کے فوراً بعد عسکریت پسندوں نے مسجد الحرام کا محاصرہ کر کے درجنوں نمازیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

دہشت گردی اور تخریب کاری کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دسیوں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ سعودی حکام نے سکیورٹی کیمرے بھی نصب کر رکھے ہیں۔

جہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی محکمۂ شہری دفاع کے اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے ہلاکتوں کو بڑھنے سے روکا ہے وہیں کچھ لوگ حادثے کی ذمہ داری منتظمین کی نااہلی پر ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب سعودی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی اس حادثے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ پیغام ایران کے لیے ہے جس کے شہریوں کی 1987 میں حج کے دوران سعودی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

ان جھڑپوں میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں