’منیٰ میں سڑکیں بند نہیں تھیں، افواہ ایران نے اڑائی ہے‘

Image caption سعودی عرب کے شاہ سلمان نے منیٰ کے حادثے کے بعد حج کے سکیورٹی انتظامات کے از سرِ نو جائزے کا حکم دیا ہے

سعودی عرب نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ منیٰ میں جمعرات کو مچنے والی بھگدڑ کی وجہ اہم شخصیات کے قافلے کے لیے سڑکوں کی بندش تھی۔

رمی جمرات کے دوران پیش آنے والے اس حادثے میں 717 حاجی ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعدانتظامات کے حوالے سے سعودی عرب کی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ایران میں سعودی عرب کے خلاف مظاہرے: تصاویر

’آگے بڑھنا اور سانس لینا مشکل ہوگیا تھا‘

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ بالکل چھوٹا اور شرانگیز ہے کہ منیٰ کی سڑکیں سعودی شاہی خاندان کے افراد کے قافلے کو گزارنے کے لیے بند کی گئی تھیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ افواہ بظاہر ایران کے سرکاری ٹی وی نے پھیلائی ہے۔

اس حادثے میں ایران کے 131 شہری ہلاک ہوئے ہیں جو اب تک کسی ایک ملک کے ہلاک شدگان کی سامنے آنی والی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل نے سعودی حکام پر نااہلی کا الزام لگاتے ہوئے ان سے ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کونسل کے ترجمان کیوان خسروی نے خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کو بتایا کہ ’اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی حکومت حج کے انتظامات کے سلسلے میں نااہل ثابت ہوئی ہے اور سعودی عرب کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘

ایران نے منیٰ میں اپنے شہریوں کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ایک ایرانی ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے منیٰ کے حادثے کے بعد حج کے سکیورٹی انتظامات کے از سرِ نو جائزے کا حکم دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حج کے انتظامات اور حاجیوں کی نقل و حمل کے طریقۂ کار کو بہتر بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں برس حج کے سلسلے میں سعودی حکام کے انتظامات چند ہفتے قبل اس وقت بھی زیرِ بحث آئے تھے جب مسجد الحرام میں تعمیراتی کرین گرنے سے 107 حاجی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں