یوکرینی باغیوں کا امدادی اداروں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد تقسیم کی جانے والی ماہانہ خوراک سے محروم ہو گئے ہیں

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ سٹیون او برائن کا کہنا ہے کہ باغیوں نے اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کو مشرقی یوکرین میں لوہانسک کے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں سے باہر نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل بھی لوہانسک کے علیحدگی پسندوں نے ’خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دس عالمی امدادی اداروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

او برائن کی جانب جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لوہانسک کی ’اصل انتظامیہ‘ نےاقوام متحدہ کی امدادای ایجنسیوں اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کو علاقہ چھوڑ دینے کا حکم جاری کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونیتسک کے جن علاقوں پر باغیوں کا قبضہ ہے وہاں یو این ایجنسیوں نے اپنا آپریشن پہلے ہی معطل کر دیا تھا۔

انھوں نے دونیستک اور لوہانسک کے باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجنسیوں کو ان علاقوں میں دوبارہ کام کرنے کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ انسانی امداد لے کر آنے والے بحری جہازوں کو روکنے سے تقریباً 16000 ٹن اہم اشیا کی فراہمی نہیں ہو سکی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہسپتالوں میں بے ہوش کرنے والی دوا نہ ہونے کی وجہ سے سرجری نہیں ہو پا رہی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد تقسیم کی جانے والی ماہانہ خوراک سے محروم ہوگئے ہیں۔‘

جمعرات کو لوہانسک کے باغیوں نے بعض خلاف ورزیوں کا حوالہ دے کر 11 میں سے دس غیر سرکاری تنظیموں کے اندراج سے انکار کر دیا تھا۔

باغیوں نے غیر سرکاری طبی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ پر غیر قانونی طریقے سے دماغ اور ذہن پر اثر انداز ہونے ایک مخصوص دوا کی ذخیرہ اندوزی کا الزام عائد کیا تھا۔

لیکن تنظیم نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یوکرین میں اپریل 2014 میں شروع ہونے والی لڑائی سے اب تک سات ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اس لڑائی میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 17 ہزار سے زائد ہے۔

یوکرین، مغربی رہنماؤں اور نیٹو کا کہنا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں بھاری ہتھیار اور فوج فراہم کر کے باغیوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ صرف رضاکار باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں