امریکہ اور چین کی سائبر کےمیدان میں صلح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف سائبر جرائم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں

امریکی صدراور چینی صدر نےاعلان کیا ہے کہ دونوں ملکوں کےمابین سائبر جرائم کو روکنے کےلیےمزید اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں چین کے صدر شی جن پنگ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ملکوں میں طے پایا ہے کہ کوئی ملک بھی معاشی سائبر جرائم میں ملوث نہیں ہوگا۔

سائبر جرائم کی ڈیل میں کاروباری رازوں کو چوری نہ کرنے کا تو ذکر کیا گیا ہے لیکن اس میں قومی سلامتی کے رازوں کے حوالے سےکچھ نہیں کہا گیا ہے۔

چینی صدر شی جی پنگ نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے کا عہد کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ مستقبل میں چین کو مبینہ سائبر جرائم میں شریک ہونے کی پاداش میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

براک اوباما نے کہا کہ سائبر جرائم کو ہر صورت میں رکنا ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان الفاظ پر کتنا عمل کیا جاتا ہے۔

پابندیوں کے حوالے امریکی صدر نے کہا کہ پابندیوں کے علاوہ ان کے پاس جو بھی ذرائع ہیں انھیں استعمال کر کے سائبر جرائم کو روکنے کی کوشش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف سائبر جرائم میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ دونوں ملک جانتے بوجھتے ایسے حرکتوں کی حمایت نہیں کریں گے اور دونوں ملک سائبر کی حدود میں اچھے رویے کا مظاہرہ کریں گے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ محاظ آرائی اور تلخی دونوں کے لیے اچھا انتخاب نہیں ہوگا۔ امریکی صدر نے بحر جنوبی چین میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔