’امریکی تربیت یافتہ باغیوں نے اسلحہ النصرہ فرنٹ کو دے دیا‘

النصرہ بریگیڈ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption النصرہ بریگیڈ نے امریکی تربیت یافتہ باغیوں کے گروہ پر حملہ کر کے انھیں بہت نقصان پہنچایا تھا

امریکی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے جن شامی باغیوں کو تربیت دی گئی تھی ان میں سے کچھ نے اپنا اسلحہ اور گاڑیاں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے حوالے کی ہیں۔

امریکہ کا محکمۂ دفاع ماضی میں ایسی اطلاعات کی تردید کرتا رہا ہے کہ یہ باغی یا تو منحرف ہو چکے ہیں یا انھوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

تاہم اب حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ہی ان باغیوں کے ایک یونٹ نے محفوظ راستے کے عوض القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کو چھ پک اپ ٹرک اور گولہ بارود فراہم کیا۔

یہ امریکہ کے شامی باغیوں کو تربیت دینے کے منصوبے کے لیے تازہ ترین دھچکہ ہے۔

اس سے قبل رواں ماہ ہی امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل لوئڈ آسٹن نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے امریکہ کا شام کے باغیوں کو تربیت دینے کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے اور صرف ’چار یا پانچ‘ امریکی تربیت یافتہ باغی ہی شام میں لڑ رہے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس نے جمعے کے روز کہا: ’بدقسمتی سے ہمیں آج معلوم ہوا کہ نیو سیریئن فورسز نے کہا ہے کہ انھوں نے واقعی چھ پک اپ ٹرک اور اپنے اسلحے کا ایک حصہ النصرہ فرنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔‘

اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل پیٹرک رائیڈر کہا کہ یہ واقعہ 21 اور 22 ستمبر کو پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ القاعدہ کے حوالے کیا جانے والا اسلحہ اور ساز و سامان اس یونٹ کے 25فیصد سامان کے برابر تھا۔

کرنل رائیڈر نے کہا کہ اگر یہ بات درست ہے تو یہ بہت تشویش ناک ہے اور شامی باغیوں کو تربیت اور سامان کی فراہمی کے قواعد و ضوابط کے خلاف ورزی ہے۔

یہ یونٹ 70 باغی جنگجوؤں پر مشتمل تھا جنھوں نے دوسرے امریکی تربیتی کورس میں حصہ لیا تھا۔

کانگریس نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اہم حکمتِ عملی کے تحت 5,000 باغیوں کو تربیت، اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی۔

اسی بارے میں