سوئٹزر لینڈ میں ووکس ویگن کاروں کی فروخت پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس پابندی سے وہ کاریں مثتسنی ہیں جو پہلے ہی سے استعمال میں ہیں یا مضر صحت گيس کے اخراج کے یورو 6 کے زمرے میں آتی ہیں

سوئٹزر لینڈ نے ووکس ویگن کی ان ڈیزل کاروں کی فروخت پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے جن میں مضر صحت گيس کے اخراج کی سطح جانچنے والے آلے کو دھوکہ دینے والا سافٹ ویئر نصب ہونے کا اندیشہ ہے۔

اس سے تقریباً 180،000 ایسی کاریں متاثر ہوں گي جو ابھی تک یورو5 گيس کے اخراج کے زمرے میں فروخت نہیں ہوئیں یا جن کا اندراج نہیں ہوا ہے۔

یہ قدم کار بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کپمنی ووکس ویگن کے اس اعتراف کے بعد اٹھایا گيا ہے کہ اس نے امریکہ میں مضر صحت گيس کے اخراج کی سطح جانچنے میں بددیانتی سے کام لیا ہے۔

اسی دوران متائس میولر کو ووکس ویگن کا نیا چیف ایگزیکٹیو مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے مارٹن ونٹرکورن کی جگہ لی ہے جنھوں نے پچھلے ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔

اس پابندی کا اعلان جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں سڑکوں کے محکمے کی جانب سے کیا گيا۔

محکمے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس پابندی سے 1.2، 1.6 اور 2.0 لیٹر والی ڈیزل انجن کی وی ڈبلیو ماڈل کی گاڑیاں، بشمول وی ڈبلیو آؤڈی، سیٹ اور سکوڈا سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

حکام نے اس پورے معاملے کی تفتیش کے لیے ایک ٹاسک فورس کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میولر نے ایسے وقت عہدہ سنبھالا ہے جب ووکس ویگن شدید بحران سے گزر رہی ہے

میولر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا کہ کمپنی کی ساکھ کو بحال کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’میرا سب سے پہلا کام ووکس ویگن گروپ کے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی بددیانتی سے عالمی سطح پر تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں اور اس نے اپنی غلطی کے ازالے کے لیے ساڑھے چھ ارب یورو کا انتظام کیا ہے۔

کمپنی کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ اس نے ڈیزل استعمال کرنے والی گاڑیوں میں ایسا سافٹ ویئر نصب کیا تھا جو ٹیسٹ کے دوران گاڑی سے نکلنے والے دھویں کو 40 گنا زیادہ صاف دکھاتا تھا۔ لیکن درحقیقت گاڑی سڑک پر مقررہ حد سے زیادہ دھواں خارج کرتی تھی۔

اسی بارے میں