شام میں امن کے لیے برطانیہ سرگرم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امکان ہے کہ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دروان عالمی رہنا شام کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دورے کے موقعے پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے نئےسفارتی حل کی ضرورت پر زور دیں گے۔

امید کی جارہی ہے کہ برطانوی وزیراعظم شام کے صدر بشارالاسد کی عبوری حکومت میں کردار ادا کرنے کی مخالفت ترک کردیں گے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی وہ توقع کریں گے کہ شام کے صدر اسد مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے جارحیت کی پالیسی ترک کردیں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ بات چیت شام کے مسئلے کے سیاسی حل میں مددگار ثابت ہوگی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے رہنماؤں میں روس کے صدر ولادیمیرپوتن اور امریکی صدر براک اوباما بھی شامل ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ کیمرون امریکی صدر اوباما سمیت دیگر بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے دوران شام کے مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیں گے۔

برطانوی وزیراعظم اس بات پر زور دیں گے کہ شام کے مسئلے کے پُرامن حل کے لیے ایک مختلف قیادت کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس کے پیچھے پوری قوم متحد ہو کر کھڑی ہوسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بین الاقوامی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے نئےسفارتی حل کی ضرورت پر زور دیں گے

برطانوی خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایٹڈ سے بات کرتے ہوئے سینیئر برطانوی اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہمارا نکتۂ نظر بالکل واضح ہے، نام نہاد دولت اسلامیہ اور اسد، دونوں شام کے عوام کے دشمن ہیں۔ وزیراعظم اس حوالے سے بالکل واضح ہیں کہ آخر میں شام کو پُر امن اور متحد رکھنے کے لیے ایک نئے رہنما کی ضرورت پڑے گی۔‘

برطانوی حکام کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے کہ چار سال سے جاری مسئلے کے حل کو پیچیدہ بنانے میں روس کی جانب سے اسد حکومت کی حمایت میں فوجی اثرورسوخ کا استعمال ایک اہم وجہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ ہفتوں میں شام کے شہر لتاکیہ اور ٹارٹس کی بندرگاہ کے نزدیک روس نے اپنے جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز، ٹینکس، ڈرونز، توپ خانے، اور فوجی پہنچا دیے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کیمرون اور روس کے صدر پوتن کے درمیان ملاقات متوقع نہیں ہے۔

تاہم برطانوی حکام کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سفارتی حل کی خاطر انھیں روس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

پریس ایسوسی ایٹڈ سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر برطانوی اہلکار کا کہنا تھا کہ ’سیاسی تبدیلی کا تصور شروع سے موجود رہا ہے تاہم اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے خیالات میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ اس کے لیے کون سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت گفتگو اسی بات پر مرکوز ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمرون اور روس کے صدر پوتن کے درمیان ملاقات متوقع نہیں ہے تاہم برطانوی حکام کی جانب سے اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سفارتی حل کی خاطر انھیں روس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا

توقع کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیراعظم کیمرون دیگر رہنماؤں پر زور ڈالیں گے کہ وہ اب بھی علاقے میں پھنسے ہوئے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے مزید اقدامات اٹھائیں۔

اسی دوران فرانس کے وزیرخارجہ لوراں فابیوس نے جنرل اسمبلی سے کہا ہے کہ شام کے مسقبل میں صدر اسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

لوراں فابیوس کا کہنا تھا کہ اگر مغربی ممالک نے شام کے عوام سے کہا کہ ان کا مستقبل صدر اسد کے ساتھ ہے تو یہ قدم انھیں ناکامی کی جانب لے جا ئے گا۔

جمعرات کے روز جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا تھا کہ شام کے صدر اسد کوامن مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے جبکہ فابیوس نے اسد کی شمولیت کے حوالے سے متحدہ یورپی حکمت عملی پرزور دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کیری کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مسئلے پر ایران کے وزیر خارجہ سے بات چیت کی ہے اور وہ اتوار کے روز روس کے وزیر خارجہ سے بھی ملیں کریں گے۔

اسی بارے میں