چار برطانوی جنگجوؤں پر عالمی پابندیاں عائد

Image caption بہت سے برطانوی شہریوں نے نام نہاد گروپ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے

دولت اسلامیہ میں بھرتیوں کا زور توڑنے کے لیے برطانیہ کے چار شہریوں پر عالمی پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

پرطانوی پولیس کہتی ہے کہ کم از کم سات سو کے قریب برطانوی شہری شام اور عراق میں جہادی تنظیموں کی حمایت کی خاطر یا ان کے ہمراہ لڑنے کے لیے جا چکے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کیسے روکی جائے؟

تاہم ان میں سے نصف کے قریب واپس آ چکے ہیں۔

پابندیوں کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہیں۔

بہت سے برطانوی شہری جو شورش زدہ علاقوں میں گۓ ہیں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے نام نہاد گروپ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی نے یہ پابندیاں برطانوی حکومت کی درخواست پر عائد کی ہیں۔

یہ چاروں غیر ملکی جنگجو ہیں اور ان پر سفری پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

برطانوی حکومت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے خود اپنے شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے درخواست دی ہو۔ ان کے مطابق اس پابندی کا مقصد کئی دوسرے افراد کو جنگجو گروہوں میں شمولیت سے باز رکھنا ہے۔

اسی بارے میں