برطانوی صحافی مظہر محمود پر قانون کو گمراہ کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ

برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے برطانوی صحافی مظہر محمود المعرف ’نقلی شیخ‘ کے خلاف قانون کو گمراہ کرنے کی کوشش کے الزام میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مظہر محمود پر الزام ہے کہ انھوں نے برطانوی گلوکارہ تولیسا کانٹسٹیولوس پر منشیات کے مقدمے کے دروان عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

مظہر محمود نے اپنے اوپر لگائےگئے الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے وہ عدالت میں اپنا بھر پور دفاع کریں گے۔ مظہر کے علاوہ ان کے ڈرائیور ایلن سمتھ پر مقدمہ چلے گا۔

سابقہ نیوز آف دی ورلڈ کے نامہ نگار مظہر محمود کی 25 سالہ صحافت کے دوران ان کی تحقیقی رپورٹوں کی وجہ تین پاکستانی کرکٹرز سمیت 100 سے زیادہ افراد جیل جا چکے ہیں۔

کراؤن پراسیکیوش کے نک واموس نے مقدمہ چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہادتوں کے بغور جائزے کے بعد کراؤن پراسیکیوشن اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس مقدمے میں کامیابی کا حقیقی امکان موجود ہے اور یہ مقدمہ چلانا عوامی مفاد میں ہے۔

مظہر محمود پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ مظہر محمود نے تولیسا کانٹسٹیولوس کے مقدمے میں اپنے ڈرائیور ایلن سمتھ کو بیان بدلنے پر راضی کیا اور اس کے بعد مظہر محمود نے عدالت کو گمراہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظہر محمود کی تحقیقی رپورٹ کی وجہ سے ہی تین پاکستانی کرکٹرز پر سپاٹ فکسنگ کا الزام لگا جس کے ثابت ہونے پر انھیں جیل جانا پڑا تھا

رواں برس 27 سالہ تولیسا کو کلاس اے منشیات فراہم کرنے اور کوکین کی فروخت کے سودے میں اپنے کردار ادا کرنے کے الزامات میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تولیسا کی طرف سے کوکین کی مبینہ فروخت کی خبر جون 2013 میں سن آن سنڈے میں شائع ہوئی تھی۔

یہ خبر مظہر محمود کی تحقیقات پر مبنی تھی۔

عدالت نے تولیسا کانٹسٹیولوس اور ان کے دوست مائیکل کومبز کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔

مقدمہ خارج ہونے کے بعد تولیسا نے کہا تھا کہ وہ کبھی بھی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث نہیں رہی ہیں اور نہ ہی انھوں نے کوکین کی فروخت کے سودے میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔

مظہر محمود اور ان کے ڈرائیور ایلن سمتھ 30 اکتوبر کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

اسی بارے میں